شاہد فاروق بٹ
زندگی میں کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جو ہماری شخصیت کو اس طرح بدل دیتے ہیں کہ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں رہتا۔ میرے لیے وہ لوگ میرے اساتذہ ہیں، جنہوں نے نہ صرف مجھے اسلامی تعلیمات میں رہنمائی فراہم کی بلکہ دنیا کے مختلف میدانوں میں بھی میری سمت متعین کی۔ ان ہی اساتذہ میں ایک نام استادِ محترم یاسر احمد شیخ صاحب کا ہے، جو میرے آبائی ضلع پلوامہ سے تعلق رکھتے ہیں۔یاسر صاحب ایک بااخلاق، باعلم اور باکردار شخصیت کے مالک ہیں۔ اگرچہ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک استاد ہیں، لیکن ان کی شخصیت صرف درس و تدریس تک محدود نہیں۔ وہ ایک بااثر اسلامی مقرر (IslamicOrator) بھی ہیں، جو دینِ اسلام کے پیغام کو نہایت خوبصورتی، فصاحت اور خلوص کے ساتھ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی باتوں میں سچائی، علم کی روشنی اور دل کو چھو لینے والی تاثیر ہوتی ہے۔یاسر صاحب نے اپنے ذاتی جذبے اور اخلاص کے تحت ایک اسلامی اکیڈمی قائم کی، جسے “المفتاح اکیڈمی” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اکیڈمی علم و آگہی کا ایک روشن چراغ بن چکی ہے، جہاں مختلف اسلامی پروگرامز، لیکچرز، تربیتی نشستیں اور نوجوانوں کے لیے رہنمائی کے سیشنز منعقد ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف علم دین پھیلانا نہیں بلکہ ایک بہتر اور باشعور معاشرہ تشکیل دینا ہے۔یاسر صاحب نہ صرف ایک معلم ہیں بلکہ ایک رہنما، ایک داعی اور ایک سچے مسلمان کی جھلک ان کی شخصیت سے عیاں ہے۔ ان کا کردار آج کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ ان کی موجودگی نے میرے اندر ایک نیا جوش، نئی سوچ اور عزم پیدا کیا ہے۔ ان کا علم، حکمت اور کردار میری زندگی میں روشنی کی مانند ہے۔
علم کا خزانہ اور تدریسی انداز
یاسر صاحب کا تدریسی انداز نہایت مؤثر اور سادہ ہے۔ وہ ہر موضوع کو تفصیل اور آسان زبان میں بیان کرتے ہیں تاکہ ہر طالب علم اسے بآسانی سمجھ سکے۔ قرآن و حدیث کی گہرائی سے لے کر فقہ، سیرت اور تاریخِ اسلام تک، ان کا علم نہایت وسیع اور عمیق ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ علم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اس علم کو اپنی زندگی میں عملی طور پر اپنانا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے رہنمائی
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر مسئلے کا حل اسلامی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ چاہے وہ روزمرہ کے چھوٹے معاملات ہوں یا زندگی کے بڑے فیصلے، وہ ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تعلیمات نے مجھے یہ سکھایا کہ مشکلات کا سامنا کیسے کیا جائے اور اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق کیسے بہتر بنایا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اخلاق، معاشرت اور فرد کی ذاتی زندگی میں بھی اس کے اصولوں کی پیروی ضروری ہے۔
دنیاوی مسائل میں رہنمائی
یاسر صاحب کی رہنمائی صرف دینی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وہ میرے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان سے میںنے سیکھا کہ تعلیم میں کامیابی کیسے حاصل کی جائے، سچائی اور اخلاقیات کو زندگی میں کیسے اپنایا جائے، اور ذاتی تعلقات کو بہتر بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ ان کا ہمیشہ کہنا ہے کہ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ اصل کامیابی اچھے کردار اور اخلاقی اصولوں میں پوشیدہ ہے۔
ان کا کردار اور اثرات
میرے استاد کا کردار میرے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ ان کی شخصیت میں سادگی، تواضع، صداقت اور علم کی ایسی خوشبو ہے جو ہر دل کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اپنے عمل سے دوسروں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر لمحہ اپنی زندگی میں اسلامی اقدار کے نفاذ پر زور دیتے ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے استاد کی زندگی اور علم میں مزید برکت عطا فرمائے اور ان کی رہنمائی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے۔

