مضبوط قوم کی تعمیر کیلئے تعلیم اور اقدار کی اہمیت 0

مضبوط قوم کی تعمیر کیلئے تعلیم اور اقدار کی اہمیت

شمشاد کرالہ واری

کسی بھی قوم کی مضبوطی اور خوشحالی باہم جڑے کئی عناصر پر منحصر ہوتی ہے، جن میں اس کا اقتصادی نظام، سماجی شرکت داری، ادارہ جاتی مثبت حکمت عملی، مذاہب کا اصلاحی کردار، اور دور اندیش قیادت اور تعلیم کی جدید تقاضوں کو پورا کرنے والی پالیسیاں شامل ہیں۔ اپنی کم علمی کا احساس نہ بھولتے ہوئے یہاں جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ عناصر کس طرح قوم کو مضبوط یا کمزور بناتے ہیں اور کس طرح دستیاب افرادی قوت اور تعلیمی فروغ مساوات پر مبنی ایک معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہم امریکہ، چین، روس، سعودی عرب، اور دبئی (یو اے ای) کی مثالوں کو سامنے رکھ کر اپنے بر صغیر کے حالات کو دیکھیں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ دنیا بھر کے لوگ کیوں کر ان ممالک کی طرف رخ کرتے ہیں۔
اگر اقتصادی نظام میں اس تعلق کے اداروں اور متعلقہ پالیسیوں کی خصوصیت یہ ہو کہ دولت اور طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز رہے تو بدعنوانی اور استحصال کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسکے سنگین نتائج نکلتے ہیں ۔ دولت اور ترقی کے وسائل غیر مساوی طور پر تقسیم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان میں تفریق پیدا ہوتی ہےاور بڑھتی ہی رہتی ہے۔
بڑےپیمانے پر عوامی شرکت داری کی پالیسیوں کے بغیر اقتصادی ترقی رک جاتی ہے، کیونکہ عوام کے لئے وسیع ترمواقع محدود ہوکررہتے ہیں۔
عوامی اکثریت سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے محرومی کی شکار ہو جاتی ہے سماجی طبقات میں بے اطمینانی پیدا ہو تی ہے، جس کی وجہ سے سماجی بدامنی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ قدرتی وسائل پر چند لوگوں کی اجارہ داری قائم ہوتی ہے معیشتیں عدم استحکام اور رنگارنگی کی کمی کا شکار ہوتی ہیںنتیجتاً لوگ اپنے اپنے ملکوں سے نکل کر ترقی کی چاہت میں مستحکم معیشتوں کی طرف رخ کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں وہاں کے معاشرہ میں اپنے تمام سماجی ارکان کے لئے مساوی مواقع اور شرکت داری کو یقینی بنانے اور فراہمی پر دھیان دیا جاتا ہے۔ چاہے ان کا پس منظر کچھ بھی رہا ہو وہ اپنی ترقی کے فوائد میں وسیع پیمانے پر عوامی شرکت کو فروغ دیکر اپنے کاروبار، اور اپنی مجموعی ترقی کو یقینی بناتے ہیں۔
عوامی شمولیت سے سماجی تناؤ کو کم کرتی ہیں اور سماجی ربط اور تعلق کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
ہر کس و ناکس کیلئے تعلیم، صحت کی خدمات، اور روزگار کے مواقع تک رسائی ممکن بناکر مجموعی طور پر آبادی کی فلاح و بہبود کو بڑھاتی ہیں ۔
اس طرح سے ہر سطح پر عوامی شمولیت سے معاشرے میں عام طور پر زیادہ سیاسی استحکام پیدا ہوتاہے، کیونکہ ہرشہری کو اپنی قدردانی ،اپنی نمائندگی اور انسانی اہمیت کو محسوس کرایا جاتاہے۔ نتیجہ کے طور پر ملک اور حکومت کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ وہاں کی ادارہ جاتی حکمت عملی کے خاطر خواہ نتائج میں ایک ایسا مؤثر ادارہ جاتی حکمت عملی والا مضبوط، شفاف، اور قابل احتساب سماج وجود میں آنا شامل ہوتا ہے ،جو قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتا ہے اور اچھی حکمرانی کو فروغ دیتاہے۔ جہاں ہر باشندے کو مالی و جانی تحفظ فراہم ہونے کا احساس ہوتا ہے یہ شفاف اور قابل احتساب ادارے عوام کا اعتماد اور شہریت کا احساس پیدا کرکے سماجی یک جہتی اور آپسی جوڑ پیدا کرتے ہیں۔
جس کیلئے مضبوط ادارے، وسائل کی مؤثر اور مساوی تقسیم کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
وہاں کسی سطح پر لا قانونیت کو جگہ نہیں دی جاتی ہے بلکہ قوانین کا منصفانہ اور مستقل نفاذ بدعنوانی کو ہر طرح سے روکتے ہوئے قانون کی بالادستی اور انصاف کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
یہ نظام ایک ملک میں مستحکم اور قابل اعتماد اداروں کی موجودگی سے غیر ملکی افرادی قوت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرتے ہیں، جس سے اقتصادی ترقی کو روز افزوں فروغ ملتا ہے۔ ایسے سماجوں میں مذاہب کا بنیادی مقصد معاشرے کو ایک انسانیت بھرے ماحول کے لئے متحد کرنا ہوتاہے، جو توڑ نہیں بلکہ جوڑ پیدا کرتاہے۔ تاہم، مذہب کا کردار تشریح اور نفاذ کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے البتہ جب انصاف کے طور پر عملدرآمد کیا جاتا ہےتو مذاہب ہمدردی، محبت، یک جہتی اور یگانگت کےاحساس کو فروغ دیتے ہیں ۔جس سے سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار پیدا ہوتی ہیں ،جو پر امن ماحول میں دوستی کا جذبہ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جب غلط تشریح یا سیاسی اغراض کے لئے مذہب کااستعمال کیا جاتا ہے تو مذاہب سماجی تقسیم اور تنازعہ کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے پولاریزیشن اور سماجی فرق پیدا ہوتا ہے۔
ایسی مذہبی مشقیں جو ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہیں، ایک قوم کے اخلاقی ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہیں ترقی یافتہ ممالک اس بات کا از حد خیال رکھتے ہیں ۔حالانکہ اب کہیں کہیں وہاں بھی کوئی وژن رکھے بغیر سیاسی لیڈران مذہبی تناؤ پیدا کرکے دیر تک حکومت کرتے رہنے کی چال چلنے لگے ہیں لیکن ابھی عوامی سطح پر اور قومی احساس کے پیش نظر مجموعی طور ان کی پذیرائی نہیں ملتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی اور عدم رواداری سماجی بندھن کو کمزور کر سکتی ہیں اور قومی اتحاد کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تعلیم اور علم
اسی لئے اب وہ ممالک بھی تعلیم اور علم کی بدولت برابری پر مبنی ایک معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو اپنے وسائل کی بنیاد پر ہی بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کی پالیسی پر عمل کرتے تھے تو جو ممالک پہلے سے ہی جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم وترقی کی راہ پرلگے ہوئے ہیں انکا پٹری سے اترنا ابھی ممکن نہیں ۔علم و ٹیکنالوجی کی بدولت ہی وہ پوری دنیا میں اپنا دبدبہ بنائے ہوئے ہیں ۔یہ تعلیم و تنقیدی سوچ کو فروغ دینے سے افراد کو تعصبات کا مقابلہ کرنے اور دور اندیشی سے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رواداری، برابری، اور سماجی رنگا رنگی کا احترام فروغ پاتا ہے، جس سے ہم آہنگی اور منصفانہ نظام پر مبنی معاشرے کی طرف ہر کسی کی کشش بڑھ جاتی پاتا ہے۔
چونکہ اپنے یہاں دستیاب افرادی قوت کا مؤثر استعمال نہیں ہو پاتا ہے جو قومی ترقی کے لئے اہم ہے اس وجہ سے پڑھے لکھے بے کاروں کی تعداد سال در سال بڑھنے کے مسائل کا سامنا رہتا ہے جسکی کی روک تھام ہو نہیں پاتی ہے اور سرکاری کوششوں کے باوجود یہاں نہ ہی ہر کسی کے لئے تعلیم کے مواقع آسانی کے ساتھ دستیاب رہتے ہیںاور نہ ہی ہر کسی تعلیم یافتہ کو بھرپور روزگار مل پاتا ہے۔ تربیت اور ترقیاتی پروگراموں میں سرمایہ کاری بھی حسب ضرورت نہیں ہو پاتی ہے اور جس سے نہ تو افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ ہوتا ہے نہ ہی تربیت یافتہ لوگوں کو استعمال کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتاہے جو پیداواریت کو بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتا اور افرادی قوت اور وقت کے ضائع ہونے کو کم کرتا ہے۔
امریکہ دنیا بھر کے لوگوں کو متنوع مواقع، مضبوط اداروں، اعلیٰ تعلیم کے نظام، اور جدید کاروباری ثقافت کی وجہ سے متوجہ کرتا ہے۔ ملک کی عوامی شرکت داری کی پالیسیاں اور مضبوط قانونی نظام عالمی اثر و رسوخ اور اقتصادی قوت میں اس کا حصہ اور عمل دخل بڑھاتا ہے۔
چین کی تیزی سے اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے ، تعلیم، اور ٹیکنالوجی میں حکمت عملی سے سرمایہ کاری نے اسے ایک اقتصادی پاور ہاؤس بنا دیا ہے۔ اس کا نوین کاری اور مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کر کے چین نے دنیا بھر کے صلاحیتوں والے لوگوں کو متوجہ کیا ہے۔
روس کے وسیع قدرتی وسائل اور اسٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن نے اسے عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔ مضبوط قیادت اور دفاع اور توانائی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے سےاس کی قومی قوت میں اضافہ ہوا اور ورلڈپاور بن گیا ۔
سعودی عرب کے تیل کے وسائل کی فراوانی، اقتصادی اصلاحات، اور سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں سرمایہ کاری نے اسے روزگار کے متلاشیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے متوجہ کر دیا ہے۔
یو اے ای (دبئی،) کارول اپنے سازگار کاروبار ماحول، انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) کی جدید کاری، اور دفاعی مقام کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ شہر کی اقتصادی رنگارنگی اور مہمان نوازی اور سیاحت پر زور دنیا بھر کے لوگوں اور سرمایہ کاریوں کو متوجہ کرتی ہے۔
اسکے مقابلے میں وینزولا اور جنوبی سوڈان کو دیکھ کر کمزور قوموں کی وجوہات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور پتہ چل جا تا ہے کہ تعلیم کی جدید ٹیکنالوجی ،پر امن دوستانہ ماحول لچکدار مذہبی صبرو تحمل ایک قوم کی ترقی کے لئے کتنا اہم ہے اور ان نعمتوں کے بغیر وسائل سے بھرپور قومیں کیسے کمزور ترین بن جاتیں ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں