مضبوط قوم کی تعمیر کیلئے تعلیم اور اقدار کی اہمیت 0

انسان، اشرف المخلوقات

شمشاد کرالہ واری

اللہ رب العزت نے انسا نی صورتوں میں چلتے پھرتے رہنے والوں میں سے بعض کوچوپائیوں سے بھی بد تر بتایا ہے حالانکہ قرآنِ مجید میں ہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ زمین اور آسمان، دن اور رات، سمندر اور دریا، ہوا اور پانی جو کچھ بھی اس کائنات میں ہے سب کو اس نے ایک انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ کیوں نہ ہو انسان کو عقل و شعور، فہم و فراست اور خیر و شر کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی۔ برا بھلا کیا ہے اسکی سمجھ رکھتاہے پھر یہ چوپائیوں سے بھی بد تر کون ہیں ۔اس اعلان نے مجھے پریشان کر دیا ۔ میرے اردگرد میں خوبصورت چہرے ،قر ینہ سے سجائے گئے بتیس دانتوں کا مجموعہ رکھنے والے، قزاق تیر جیسی ناک کے اوپر مختلف ڈیزائنوں کی آنکھوں کے جوڑے والے ، مزیدبرآںگھنے گنگھریالے کالے چٹ سفیدلمبے چھوٹے چمکیلے بالوں والے فر فر کرنے والے کیونکر چوپائیوں سے بھی بد تر ہو سکتے ہیں ۔ اوہ میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی جب مجھے اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کا سیاق و سباق یاد آیا ،یہ ان لوگوں کےلئے کہا گیا ہوگا جو اپنے جیسوں کا خون گرانے میں مسرت پاتے تھے ،جو صرف ہم سچ ہیں کے خبط میں ہر برائی کو جائز قرار دینے پر بضد رہنے والے تھے “اپنے آپ کو ہلاکت سے بچاو ، کہنے والے کی میں سچ ہوں” سے قطعی طور انکار کرنے والے تھے کے لئے لیکن فوراً ہی چہرے پر افسردگی چھاگئی پھر اتنے زمانے کے بعد” آدمی کو مئیسر نہیں انسان ہونا،کہنے کی پھر میرےچاچاجی کو نوبت ہی کیوں آن پڑی حالانکہ وہ زمانہ اتنے ابتذال کا نہیں تھا جیساکہ سبھی کا کہنا ہے ، کہتے ہیں جو چیز ہم تک پہنچتے پہنچتے مر چکی ہے وہ ان میں زندہ تھی جسکا , ضمیر نام تھا، شرم وحیاء اس حد تک کہ نئی نویلی دلہن کے ساتھ دولہے کی اپنے بزرگوں کے سامنے کیا بلکہ بچوں کے سامنے بھی بات کرنے کی جرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شہر میں کوئی بچہ نغمے کی محفل میں سر پر اوڑھنی پہنے سر چھپائے بغیر داخل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا بھلا پھر کوئی ہماری طرح ڑھٹھائی کے ساتھ سب کے سامنے اپنا اپنا غیر غیر کی پرواہ کئے بغیر زن و مرد اپنے جسمانی کرتب دکھانے پر فخر کرتے ایسا کچھ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ سودا بازی کی پاسداری کے لئے کسی بھی عقیدے کا آدمی کسی کاغذ اور قلم کا مرہون منت نہیں رہتا ۔ کاغذ اور قلم تو بعد کی پیداوار ہے۔ لیکن اب تو بچارے کاغذ کو بغیر کسی تقصیر کے کورٹ کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی عقیدے کو تھام لیتا تو اپنے جیسوں کے بیچ کسی دیوار کو کھڑا نہیں کرتا تو ہر کسی کے گھر کو اپنا اور گھروں میں پلنے پو سنے والوں کو اپنوں کی طرح ہی سپنوں کی دنیا سجانے میں ممد و معاون ہونے کا پابند سمجھتا تھا۔ ایسا نہیں سمجھنا کہ ان دنوں معاشرے میں کوئی خرابی سرے سے ہی نہیں تھی۔سب کچھ تھا لیکن اچھائی ہی غالب رہتی تھی اس وقت بھی دنیا میں کئی معاشرے ہیں جہاں کہتے ہیں کہ ہر قسم کی برائی پائی جاتی ہے لیکن ظاہر تو بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہے جبکہ انکا ماضی خون چکا ں رہا ہے مگر آج ناحق قتل وغارت کو برداشت کر نہیں سکتے ہیں۔ اولاد آدم کی عزت نفس کو مجروح ہونے نہیں دیتے ہیں ۔
ہمارا معاشرہ صوفیوں سنتوں کا معاشرہ رہا ہے جہاں درون و برون کو صاف و پاک رکھنے کا دستور رہا ہے جہاں بہتے دریا میں تھوک ڈالنے پر بچوں کے بھی کان کھینچے جاتے تھے پانیوں کی فراوانی تھی پھر بھی اتنی احتیاط توبہ ۔ آج تو ہم نے ان کے وجود کو مٹا دیا اور دریا کو ہی دریا برد کرکے ہم نے وسیع وعریض رہائشی کالونیاں بنائیں یہ الگ بات ہے کہ اب پینے کے لئے پانی کے ایک ایک قطرے کو بھی ترستے ہیں۔ آباد کئے گئے ہر شاندارمحل نما گھر میں جسمانی طاقت ،قر و فر اور ظاہری حسن و جمال کی فراوانی ہے کمی اگر ہے تو فقط ایک شے پانی کی۔ وہ تو اب آنکھوں میں بھی باقی نہیں رہا ہے جس وجہ سے وہ روحانی چاشنی اور فکری بلندی سوکھے پتوں کی طرح زمین بوس ہوکر خاک میں مل گئی ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اسی جوہر نایاب کی بنا پر جو آجکل نایاب ہے، انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا تھا ۔
میرے زہن میں ابھرنے والے سوال کا کوئی جواب تو دے ورنہ پھر مجھے شک ہو رہا ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔ وہ نا جو چوپائیوں سے بھی بد تر ہیں کہیں ہم ہی تو نہیں ہیں۔ نہیں نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔
اسوقت مجھے اپنے مرحوم والد صاحب کی یاد آتی ہے۔ کاش کہ آج تک جئے ہوتے میری مشکل حل ہوجاتی ۔میں سوال کا جواب پوچھتا۔۔۔۔ ارے اللہ سلامت رکھے ان کو جن کے پاس ایسی نعمت موجود ہےآپ میں سے کئی قسمت والے ہونگے جن کے والدین سلامت ہونگے تو آپ میری تھوڑی سی مدد کرکے اپنے اپنے والد صاحب سے اس عقدے کا حل تلاش کرکے میری رہنمائی فرمائیں ۔ کیوں جی آپ کس سوچ میں پڑگئے ۔ ہاں یہ دیکھو میرے بغل میں بیٹھا شخص کہتا ہےکہ آج کل ایسا سوال ہی نہیں کرنا چاہیے ممکن ہے کسی نے اپنے والدین کو ڈیڈ سٹاک تصور کرکے کسی اور جگہ ڈمپ کیا ہو یا اب اگر کسی کے والدین گھر میں ہی ہوں تو موبائل پر لگا ہوگا وہ بچوں کے ساتھ گل ملنے کی فرصت کس کے پاس ہوگی اگر ہوگی بھی تو بچوں کو اسکے ساتھ کیا دلچسپی ۔ باپ تو ایک مشین ہے، مزدور ہو کوئی افسر اسکو فقط بچوں کے لئے دن رات ایک کرکے کتابوں کے لئے ،اسکول کی فیس کی خاطر اور بازار سے فاسٹ فوڈ خریدنے کے لئے پیسے جٹا نے کی زمہ داری ہے۔ لیکن بچے پر نہ تو حکم چلا سکتا ہے نہ ہی کوئی خدمت طلب کر سکتا ہے ۔ وہ تو بمشکل بچے کی شادی خانہ آبادی تک مجبوراً برداشت کیا جا تا ہے اسکے بعد تو باپ بلکل ہی گھر میں کٹا رہ جاتا ہے اور ماں کو باورچی بناکر برداشت کیا جاتا ہے۔ ماں اور خاص طور پر باپ کو نا اہل اور نالائق سمجھا جاتا ہے۔اس کی کون سی حیثیت ہےکہ بچے کی بازپرس کرے ۔کسی بھی حرکت کے بارے میں اس کے زمانے کی بات نہیں رہی کہ ہر کسی کو یقین تھا کہ باپ کے پاؤں تلے جنت تھی اب تو ماں باپ کو بچے کی جوتیوں تلے جگہ ملنے کو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ وہ زمانہ اگر انسان کی عظمت تھی تو یہ کیا ہے۔ میں جب اس موضوع پر سوچ رہا تھا کہ جو دیکھ رہا ہوں کہدیتا ہوں ایسا بھی تو نہیں ہونا چاہیے اسی دوران میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بچی کا ہاتھ ماں کی پکڑ ی گئی انگلی سے چھوٹ جاتا ہے ، بچی زمین پرگر جاتی ہے تو وہ ترچھی نظروں سے ماں کو ٹک دیکھ کر کہتی ہے ” میں نے کہا نا تمہارا دماغ کام ہی نہیں کر رہا ہے کس نے سکھلایا ایسا سبق اس چھوٹی سی بچی کو۔
کیا یہ اشرف المخلوقات کی اپنی کارستانی ہے ۔ ہمارے زمانے کی مائیں تو بچوں کو لوریاں سنا سناکر سلیقہ مند بناتی تھیں جبکہ آج کی، ممیاں، تو اپنے آپ کو فری رکھنے کی خاطر بچے کے ہاتھ میں اس کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی موبائل تھما دیتی ہیں ۔موبائل بری چیز نہیں ہے مگر اسکے سفید پر اس کا سیاہ غالب آ جاتا ہے جو ہر وہ کششِ دکھتا ہے جس سے آدمی کو ورغلانے کی خاطر شیطان نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تھی ۔ خیر سبھی اعوذبک پڑھتے ہوئے بھی کھلے عام نہیں تو تخلیہ میں اس کے دوست بننے سے عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔شیطان اندر سے اللہ تعالیٰ کے حضور کہہ رہا ہوگا ” یہی تیرا اشرف المخلوقات بندہ ہے نا؟
آخر انسان کو کیا ہوگیا کہ ایسی عظمت اور سرفرازی سے دھڑام سے گر پڑا اسی لیے نا کہ اپنی پیدائش سے لیکر موت تک اور موت کے بعد کیا ؟ جیسے موضوعات پر سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے حالانکہ اسے غور وفکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اسکی صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے کہ وہ اس کائنات میں گھومے پھرے ،سمجھے کہ ہم سے پہلوں کا حال کیا رہا ہے اسکے نتیجے میں، کائنات میں موجود وسائل سے فائدہ اٹھائے اور اپنی زندگی کو خالق کائنات اللہ کے احکامات کے مطابق گزارے۔ اسی اللہ نےانسان کو اپنے نائب کے طور پر زمین پر بھیجا تاکہ زمین پر عدل و انصاف، محبت و اخوت اور امن و سکون کا نظام قائم کرے۔ مگر انسان اپنے مقصد حیات کو ہی بھول بیٹھا اور کائنات کی بول بلیوں میں اس طرح کھو گیا کہ اپنے مقام و مرتبے سے گر گیا جب وہ اپنے مقصدِ تخلیق کو ہی نہ سمجھ سکے تو اس کے اعمال کیونکر ایک ضابطہ اخلاق کے مطابق ہو سکتے ہیں۔
اس وسیع و عریض کائنات کو اپنی من مانیوں کے مطابق استعمال کرنے لگا قدرت کی طرف سے قائم کئے گئے توازن کو بگاڑ دیا اور حکمت کے اصولوں کو پس ہشت ڈالدیا ۔ وہ اپنے کمالات کو اپنی حکمت اور دانشمندی کا نتیجہ سمجھ بیٹھا یہ بھول کر کہ جس دماغ پر وہ ناز کرتا ہے وہ کس نے بنایا ۔ آسمانوں کی بلندیوں سے لے کر زمین کی گہرائیوں تک آج کل کے آثار قدیمہ کے ماہرین ایسی حیران کن دریافت کو سامنے لاتے ہیں کہ ایک دم سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کیوں زمین پر گھومنے پھرنے کی تاکید کرتا ہے قرآن شریف میں کیسی کیسی ٹیکنالوجی کا اشارہ ملتا کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے، چاند سورج کی گردش،ستاروں کے اپنے مدار میں رہنے تک، سمندر کی لہروں پر بڑی بڑی کشتیوں سے سفر کے اشاروں تک جنگلوں کے باعث بارش برسنے ۔تیز ہواؤں کی طاقت ،یہاں تک کہ ماں کی پیٹ میں طئے کئے جانے والے مراحل سے لیکر بعد از مرگ کی زندگی کی حالت تک ہر چیز بیان کی گئی ہے جو واقعی قدرت کے وہ نشان ہیں جو انسان کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ لیکن انسان کائنات کی تخلیق کا مقصد صرف یہ سمجھتا رہا کہ یہ کائنات اپنے آپ میں ایک نظام کے تحت چلتی ہے، لیکن اس نظام کو تشکیل دینے والا کون ہے اسکی طرف دھیان دینا قابل غور سمجھا ہی نہیں ۔جو چیز اللہ تعالیٰ نے دراصل انسان کے فائدے کے لیے بنائی ہےوہ انسان اس کو اپنی خدائی کا حصہ سمجھ بیٹھا ۔ نائب اپنے آپ کو مالک سمجھنے لگا۔تو نہ گھر کا رہا نہ ہی گھاٹ کا۔
انسان کو یہ عظمت و بلندی اس لیے عطا کی گئی تھی کہ ابتدائی پیدائش کے مرحلے میں جن و ملائک سے آگے نکلا تھا اپنی عقل سے نہیں بلکہ بنانے والے کی مدد سے تو ظاہر تھا کہ اسی کے احکامات کے مطابق عمل کرے مگر وہ بھول گیا ۔اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کرایا اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صل اللہ علیہ وسلم نے جنکی ذاتِ مبارکہ اپنے مرتبے اور آفرینش کے مقصد کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی بہترین مثال ہیں۔ آخری نبی صل اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئی ہے اور انکے ماننے والے یا نہ ماننے والے یکسان طور پر انکے امتی ہیں۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو جس جس نے اپنا عملی نمو نہ بنایا وہ سمجھ گیا کہ انسانیت کی حقیقی خدمت کا طریقہ کیا اور کیسا ہے، معاشرتی انصاف کیسے قائم کیا جاسکتا ہے اور کائنات کے اندر جو بھی وسائل ہیں وہ ہر کسی کی وراثت ہیں اور اس کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔
ہماری سرزمین کو روحانی پاکیزگی اور پائیداری عطا کرنے والی شخصیت حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے میرے سوال کا جواب دیا جنکی ایک تصنیف منہاج العارفین ہے جسمیں انہوں نے اہل معرفت اور بزرگان دین کے اقوال کو ہم جیسے راہ سے بھٹکے ہووں کی راہنمائی کے لئے جمع کیا ہے ۔ اگر نظر سے گزرے ہوتے تو بھلا کیونکر اس آخر عمر میں ایسے سوال جواب طلب ہوتے کیوں کوئی اسکی شکایت کرتا جو دوسرے کی دیوار گرا کر اپنی قبر کے لئے راستہ ہموار کردیتا ،جو ہمسایہ کی جائیداد کو حرس بھری نظروں سے دیکھتا بلکہ ایک دم شکایت کئے بنا تصدیق کر تا میرے اللہ واقعی کئی لوگ چوپائیوں سے بھی بدتر ہیں۔اسی وجہ سے ایسے ریوڑ میں ہی رہنے کے لئے فرمایا گیا نسخہ ہے ۔
دل بکس مبند تا زیاں نکنی
در تنگی ہا صبر کن تا فرح یابی
( نقصان سے بچنے کے لئے کسی کےساتھ بھی دنیا میں دل کو نہ لگانا
(تنگی کے وقت صبر سے کام لینا تاکہ فرحت پاؤ گے)
زنہار بغیر حق اعتماد نہ کنی تا پشیمان نہ شوی
اگر پریشانی سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرو۔)
تو ایسا شخص بھیڑ میں رہ کر بھی الگ تھلگ رہیگا اور دنیا کے کاموں میں بہت کم لگا رہیگا تاکہ بے نیازی حاصل ہو سکے ۔ وہ کسی کے حق کو مارنے کا سوچے گا بھی نہیں ۔ اگر آپ ایسے ہیں تو مجھ اپنا پتہ بتائیگا تاکہ چوپائیوں سے بھی بد تر لوگوں کے زمرے سے باہر آنے میں مجھے بھی راہنمائی ہو پائے اور اشرف المخلوقات میں شامل ہو جاؤ ں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں