گلشن انصاری
ممبئی انڈیا
جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر غفور چچا نے جمن میاں کو آواز دی۔
“کیوں بھائی کیا حال ہے ؟
جمن میاں جو کترا کر گزرنا چاہ رہے تھے کہ کہیں غفور چچا اپنا رکا ہوا پیسہ ہی نہ مانگ لیں۔
لیکن غفور چچا کے پکارنے پر جمن میاں کو جواب دینا پڑاہاں چاچا میں ٹھیک ہوں رب کی مہربانی ہے۔
تم بتاؤ چچا کیا حال ہے ؟
جمن میاں نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا۔
بس اللہ نے دانہ پانی چلایا ہوا ہے اور ہاتھ پیر بھی سلامت ہیں۔ شکر ہے میرے رب کا۔
اور رشید کا کیا حال ہے ؟
بڑے دنوں سے ہوٹل پر بھی نہیں نظر آیا۔
غفور چچا نے یاد آنے پر پوچھا۔
نہیں چاچا میری دکان پر بھی کافی روز سے نہیں آیا مجھے لگا شاید بیمار ہوگا کیونکہ اکثر جب بیمار ہوتا ہے تو چل پھر نہیں پاتا۔
جمن میاں نے فکرمندی سے کہا۔
ہاں کچھ روز پہلے آیا تو تھا میں نے تھوڑا سا راشن کا سامان دیا مجھے لگا کہ گھر میں ہی کچھ پکا کر کھا رہا ہوگا
“لیکن اس بات کو بھی 10 12 دن گزر گئے۔” غفور چچا واقعی پریشان ہو گئے۔
تو چاچا چل حال پوچھ کر آتے ہیں۔
جمن میاں نے کہا غفور چاچا سے کہا۔
غفور چچا کے دل میں بھی یہی بات تھی۔
دونوں رشید کا حال پوچھنے کے لیے گاؤں کے باہر والی سڑک پر روانہ ہوئے۔
پگڈنڈی سے گزر کر وہ کھیتوں میں ایک طرف بنی جھونپڑی کی جانب مڑ گئے۔
رشید میاں کے دروازے پر پہنچے تو کنڈی اندر سے بند تھی۔ جمن نے کئی بار دستک دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا انھیں کسی انہونی کا احساس ہوا۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دروازہ توڑنے کا فیصلہ کیا۔ تھوڑی کوشش کے بعد دروازہ کھل گیا۔
لیکن اندر کا نظارہ دیکھ کر دونوں دنگ رہ گئے اور بلا ارادہ ہی دونوں نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر بدبو سے بچنا چاہا اندر چارپائی پر رشید میاں کا مردہ جسم پڑا ہوا تھا۔ آس پاس بہت سی چیونٹیوں نے اس کے جسم کو گھیرا ہوا تھا۔
پیر کی دو تین انگلیاں چوہے کھا چکے تھے شاید رشید کو گزرے ہوئے ہفتہ گزر چکا تھا۔
غفور چچا کا دیا ہوا۔ راشن یوں ہی پڑا ہوا تھا۔ چارپائی کے پاس ایک کانچ کی بوتل تھی جو کچھ کاغذ کے ٹکروں سے بھری ہوئی تھی۔
جمن میاں نے بوتل سے وہ سارے ٹکرے نکالے اور ان پر لکھی ہوئی عبارت پڑھ کر وہ اپنے آنسو نہیں روک پایا۔
ان کاغذ کے ٹکڑوں پر جو لکھا تھا وہ کسی کو بھی غمزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔
ان کاغذ کے ٹکڑوں پر زندگی کا قرض درد میں لپٹا ہوا موجود تھا۔
ان کاغذ کے ٹکڑوں پر ان لوگوں کی رقم لکھی ہوئی تھی جو اس نے لوٹانی تھی پر زندگی نے اسے موقع نہیں دیا۔
ان ٹکڑوں پر موجود ہندسے نہیں بلکہ اس غریب کی بیماری لاچاری اور تنہائی نظر اتی تھی۔
شاید رشید کو بھی محسوس ہو گیا تھا کہ دنیا والے جیتے جاگتے انسان سے زیادہ مردے کے لئے ہمدردی رکھتے ہیں۔
ان کاغذ کے ٹکڑوں پر زندگی کا قرض درد میں لپٹا ہوا موجود تھا۔
گلشن انصاری
ممبئی انڈیا
