عالمگیر اخوت اور پر امن دنیا کے لئے ابدی حقیقت کے ساتھ جڑے رہنے کی اشد ضرورت /شیخ العالم 0

عالمگیر اخوت اور پر امن دنیا کے لئے ابدی حقیقت کے ساتھ جڑے رہنے کی اشد ضرورت /شیخ العالم

شمشاد کرالہ واری

عالمگیر یت اور پرامن دنیا کے تصورات دنیا بھر کے کئی صوفیانہ روایات میں مرکزی موضوعات رہے ہیں۔ چاہے وہ اس باقی دنیا سے دور کشمیر کے صوفی شاعر شیخ العالَم اور ان کی روحانی والدہ لل دید کی شاعری ہو، دنیا بھر میں مشہور صوفی اساتذہ کی دی گئی اخوت کی تعلیمات ہوں یا مسیحی صوفیوں کی اپنے اندر کی دنیا میں جھانک کرغور و فکر کرنے والی تحریریں ہوں۔ہر جگہ محبت، اخوت اور ہم آہنگی کی جستجو نے تہذیبی اور ظاہری مذہبی حدود کو پھلانگ کر “اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی” کا درس دیا ہے۔ اس رویئے کی نجی زندگی اور مجموعی تعلیمات نے حضرت نند ریشی کو ان تصورات کا نہ فقط علمبردار کشمیر بلکہ شیخ العالم بنا دیا ہے۔ یہاں پر سرسری طور پر یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عالمی سطح کے جو اسلامی تصوف کے مینار ہیں انکے علاوہ کیا دیگر مذاہب کے روحانی اشخاص جو اپنے افکار کی بناء پر نام نامی رکھتے ہیں کیا نور الدین ولی کا کلام اس پائے کا ہے اور موجودہ دور کے انسانی مصائب کے تناظر میں، خاص طور پر عالمگیریت اور امن عالم کی تگ و دو میں شیخ العالَم کی زندگی اور تعلیمات ان دیگر روحانی شخصیات کی ہمسری میں یا انکے آ گے نکل کے اس منصب پر سرفراز ہونے میں اپنی ساخت کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ؟
شیخ العالَم، جنہیں شیخ نور الدین نورانی یا نند ریشی بھی کہا جاتا ہے، چودھویں صدی کے کشمیری صوفی بزرگ ہیں۔ ان کی تعلیمات محبت، بھائی چارے اور امن عالم کے عالمگیر اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ان کی شاعری، جو “شُک “کے نام سے جانی جاتی ہے، ان کی اعلیٰ درجے کی روحانی پیشوا کایہ بین ثبوت ہے اور کشمیری زبان اور ثقافت میں دوام پیدا کرنے کا بھی فریضہ انجام دیا ہے ۔
شیخ العالَم نے اپنی مادری زبان کی حفاظت اور ترویج کرتے ہوئے، اسلام کے پیغام کو عام کیا۔ ان کی سادہ مگر پر فن شاعری نے انہیں کشمیری زبان کے لا مثال معمار کی حیثیت بخش دی ہے انہوں نے وسط ایشیا سے آئے ہوئے دینی مبلغین کی زبان اپنانے کے بجائے، کشمیری زبان میں ہی اصلاح زندگی کا پیغام جاری رکھا، بلکل جیسے کہ فارسی زبان والوں نے ایران میں کیا ہے اس حسن انتخاب نے انہیں قرآن اور حدیث کے جوہر عوام تک پہنچانے کی آ سانی بہم رکھی اور کشمیری زبان میں نئے داخل شدہ الفاظ کا ذخیرہ بھی عوام کے سامنے متعارف ہوا۔ شیخ العالم گھر گھر کے قریبی اور چہیتے بنے۔نئے دین کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ
زبان کے دامن کو بھی وسعت دیکر تابناکی بخش دی۔
لال عارفہ کے زیر اثر اور روحانی طور پر اویسی سلسلے کے اس روشن چراغ نے،ریاضت شاقہ سے اللہ کے ساتھ روح کے جوڑنے کی تعلیم دی۔ انہوں نے اپنے ماحول میں دین مبین کے ورود کے پیش نظر سماجی روایات میں طلاطم پیدا کرنے کے بجائے بھی ضریر ریشی روایت کی رنگ آمیزی کی اور ظاہر کے بدلنے کو ترجیح نہ دیکر باطنی تبدیلی کی محکم بنیاد رکھی لوگوں نے انکے کلام کی شیرینی کی کششِ میں شیخ کے کلام کو اذبر کیا ، جو انکے روحانی اور شدید ریاضت کے ذاتی تجربے کی تعلیمات تھیں انکی اس عوامی مقبولیت کے بارے میں معروف شاعر دینا ناتھ نادم نے کہا ہے کہ “شیخ العالَم عوام میں لل عارفہ سے زیادہ مقبول تھے کیونکہ ان کی شاعری کی زبان سادہ مگر پر کشش تھی۔” ان کی ظاہری زندگی کے اختتام کے بعد بھی ان کا اثر جاری رہا، اور ریشی سلسلے کے ترتیب پانے والوں کے علاؤہ صوفیوں کی دیگر روحانی تحریکات میں آگے بڑھنے والوں نے بھی یکساں طور انکی تعلیمات سے کسب فیض کیا اور عوام پہونچا نے میں حق ادائی کی۔
شیخ العالَم نے شاعری میں عالمگیر انسانی محبت اور بھائی چارے، انسانی ہمدردی اور بے غرضی پر زور دیا ہے، ملاؤں اور نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں اور نفس پرست واعظوں کی سماجی حدود کی پرواہ کئے بغیر خوب خبر لی ہے ۔ انہوں نے قرآن اور حدیث کے عالمگیر انسانی پیغامات کو اجاگر کیا ہے، جو انسانیت اور انسانی زندگی کو روحانی سطح پر فروغ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی اعتبار سے کہا ہے
قرآن پران کونو مودوکھ
قرآن پران گوئی نو سور
قرآن پران زند کتھ رودکھ
قرآن پران دود منصور
انہیں علم تھا کہ قرآن اور حدیث ایک فرد کی زندگی کو پوری کائنات کے برابر اہمیت دیتے ہیں اور محبت کو اللہ تعالیٰ نے سب پر مقدم کیا ہے ۔ یہی رہنما اصول صوفیوں کو ایک مربوط معاشرہ کو فروغ دینے کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
شیخ العالَم نے انسانیت کی خدمت کو عبادت اور روحانی ترقی کااہم راز قرار دیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی خود غرضی نہیں بلکہ خلوص اور اور انسانی ہمدردی کا خالص جزبہ درکار ہے، فرمایا ہے ،” وہ آپ کے ظاہر اور آپ کے قول پر نہیں بلکہ آپ کی نیت کو دیکھتا ہے”
لل دید، جنہیں للیشوری بھی کہا جاتا ہے، اس سر زمین کشمیر کی تیرہ ویں صدی کے آخر اور چودھویں صدی کی ابتدا کی معروف شاعر اور شیو یوگنی تھیں۔ ان کی شاعری کو ہم واکھ کے نام سے جانتے ہیں لل بھی اندرونی دنیا کو سنوارنے کی تلقین کرتی ہے۔”یہاں وہاں انکی تلاش کرنا عبث ہے ۔ پنڈت تو اپنے ہی گھر ہی رہتا ہے””،
کہچے دھاگے سے ناؤ کو کھینچتی ہوں کاش کہ وہ مجھے سمندر پار کرا دیتا۔وہ میرا آقا فریاد سن لیں گے کیا؟
انہوں نے بھی ہر عمل میں سچائی اور پاکیزگی کے لیے بے ریا ریاضت کی تلقین کی ہے، ” کسی بھی لغزش کے بغیر اسکی عبادت کرنے والے کو وہ ملتا ہے”
شیخ العالَم نے لل دید کو اپنے لئے “اوَتار” کا رتبہ دیا ہے اور خود کو ان کا گود پالک بچہ سمجھاہے۔
یہ بات وزن رکھتی ہے اور ان سب کے لئے ایک درس دیتا ہے جو لل کو ہندو مذہب یا اسلام کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لل دید خود یہی کہتی ہیں:
مت بھید کر ہندو اور مسلمان سمجھ کر”
شیخ العالَم اور وقت کے دیگر علماء روحانی شخصیات، جو سبھی معزز مسلمان ہیں نے ان کی قدر و منزلت کی وہ ان کے اشعار کو سمجھتے تھے اور برے اونچے پائیکے مسلم روحانی بزرگوں نے ہی اسکے واکھ پہلی بار مرتب کیے ہیں اس طرح سے اس خزانے کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا۔ انہوں نے ان کے الفاظ کے گہرے معنی سمجھے، جیسے:
“شیو چھُ تھلہ تھلہ روزَان” یا
شیوس شکتی میلتھ تہ واہ۔
ایک دانشور بدری ناتھ کلا کہتے ہیں کہ” شیو مت کوئی الگ مذہب نہیں بلکہ اپنے خالق کو پہچاننے کا طریقہ عبادت ہے ” نامور دانشور ۔وتی لال ساقی اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” شیوا وہ روشنی ہے جو ہر شئے کا خالق اور ختم کرنے کی طاقت رکھنے والا ہے ۔ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اس پر کسی کا اختیار نہیں ہے۔”
شیخ العالم یو نہی لل دید کا جیسا روحانی مرتبہ نہیں مانگتے اور وہ بھی نند کو بغیر جانے نہیں کہتی ” جنم پانے سے شرم نہیں آئی اب دودھ پینے سے شرماتے ہو” جب روایات کے مطابق بچے نے دودھ نہیں پیا تھا ۔لل کو معلوم تھا کہ بچہ کل کا شیخ ہوگا جو شیخ نے ثابتہ بھی کر دیا ۔
شیخ العالَم کے عالمگیریت کے پیغامات کو مختلف مشہور صوفیوں کے پیغامات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے دیکھتے ہیں:
رومی اور حافظ جیسے صوفی بزرگ: اللہ تعالیٰ کی محبت کو تمام دنیاوی لذتوں سے بلند مانتے ہیں۔ رومی لکھتے ہیں، “عاشق کا معاملہ دیگر سب معاملات سے مختلف ہے؛ کوئی بھی محبت اس محبت کی ہمسری نہیں کر سکتی۔ محبت سے ہی اسکے اسرار تک رسائی ممکن ہے۔” کہیے ہیں “تمہاری حیثیت سمندر میں ایک قطرہ جیسی نہیں ہے بلکہ، تم ایک ایسا قطرہ ہو جس میں پورا سمندر بسا ہوا ہے۔” حافظ کی شاعری میں بھی تمام موجودات کی محبت پر زور دیا گیا ہے ”

سینٹ فرانسس نے ایسے ہی عمیق روحانی نظارے کے مشاہدے کی بات کی ہے اور سادگی اور عجز و انکساری کی زندگی گزارنے پر زور دیا ہے۔ وہ بھی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اور تمام جانداروں کے ساتھ ہمدردی اور اپنی گہری وابستگی کے لئے مشہور ہیں۔ ان کی مشہور دعا، “اے رب، مجھے امن کا ذریعہ بنا” جو ان کی امن اور فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کی تمنا کی عکاس ہے۔ حضرت شیخ بھی فطرت کی حفاظت اور ہر معاملے میں انصاف برتنے کی تعلیم دیتے ہیں ۔” انصاف بمقابلہ عمل زیادہ بہتر ہے”:
رمنا مہارشی نے خود سے استفسار کی اہمیت اور انا سے آگے سچی ذات کی حقیقت کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “آپ کی دنیا کو فراہم کی جانے والی سب سے بڑی خدمت اپنی ذات کی حقیقت کو سمجھنا ہے۔” انہوں نے مراقبے اور خود آگاہی پر زور دیاہے تاکہ آدمی اصلی طاقت کے مشاہدے کا تجربہ کر سکے۔ حضرت شیخ کی ساری تعلیمات اسی نکتے پر مرکوز ہیں۔فرماتے ہیں ،
” اسکی محبت یعنی ذکر الہیٰ سے گھاس کا تنکہ بھی خالی نہیں ہے ۔ زکر سے آپ کے دل کی سلطنت شاداب رہے کی ۔”
گرو نانک نے بانی میں خدا کی وحدانیت اور تمام انسانوں کےلئے برابری کا درس دیا۔ انہوں نے کہا، “کوئی ہندو ہے، کوئی مسلمان ہے، تو میں کس کا راستہ اختیار کروں گا؟ میں اللہ کا راستہ اختیار کروں گا۔” ان کی تعلیمات تمام جانداروں کے ساتھ محبت، خدمت، اور شفقت پر زور دیتی ہیں۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف روایات کے صوفیوں کے مشترک پیغامات شیخ العالَم کی عالمگیریت کی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ان کا اتحاد، محبت، اپنی ذات کی پہچان، اور امن پر زور ان صوفیوں کے بنیادی پیغامات ایک ہی ہیں، اسکے علاؤہ شیخ العالمؒ نے ایک ایسے سلسلے کو قائم کیا جو اسلامی تعلیمات اور مقامی روایات کا ایک ایسا مربہ ہے جو انکی ازحد ریاضت کا نتیجہ ہے جسکی معرفت سے انکے سامنے اونچے پائیے کے قبل از اسلام دور کے ریشوں نے اسلام کی حقانیت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت شیخ العالم کی عظمت کے اعتراف میں دین حق کی پیروی کی جو شیخ العالم کو امتیازی شخصیت کے طور پر مشہور کرتا ہے، وہ سبھی کسی بھی ظلم اور زیادتیوں سے اجتناب کرنے کی شیخ کی طرف سے چلائی جانے والی مہم میں سرگرم رہے اور کشمیر کو ریشی واری بنا دیا جنکا کلی مقصد انسان کی وہ رہنمائی تھی کہ جس میں لوگوں میں رہتے ہوئے انکی فلاح سوچتے ہوئے نہ اپنے آپ کا نہ ہی کسی دوسرے کا خیال اپنے دل میں رکھے بلکہ محبت کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص کیا جائے اور غیر اللہ سے کوئی امید کوئی توقع نہ رکھی جائے۔ ” شیخ فرماتے ہیں” بس لو اسی کے ساتھ لگاؤ دیگر کوئی رشتہ داری تمہارے ساتھ ٹکاو نہیں ہے۔
آج کی پر مصائب دنیا میں جہاں جنگوں اور انسانی اقدار کے خاتمےنے انسانیت کی بیخ کنی کی ہے ، شیخ العالَم جیسے صوفیوں کی تعلیمات ہی بچا سکتی ہیں ۔ محبت، اتحاد، اور شفقت پر مبنی ان کی تعلیمات ہی مشکل وقتوں میں راہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں