ڈاکٹر گلزار احمد وانی
ٹینگہ پونہ پلوامہ
صنف افسانہ کی مقبولیت بقیہ اصناف کے ساتھ ساتھ برابر جاری و ساری ہے۔ منشی پریم چند سے لے کر دور حاضرتک کے تمام افسانہ نگاروں نے مذکورہ صنف میں طبع آزمائی کرکے زمانے کی اتھل پتھل کو تخلیقیت کے دائرے میں لایا ہے۔ ۔محمد یونس جدید تر نسل کے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان کا پہلا عشق شاعری سے رہا ہے غزل باقی شعراکی طرح انہیں بھی بے حد پسندیدہ صنف سخن ہے۔ اور ان کا شعر کی طرف ذہنی میلان بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افسانے کی طرف بھی انہیں کافی کھچائو نظر آتا ہے ۔ان کا پہلاافسانوی مجموعہ ” خوابوں کی کسک “ حال ہی منظر عام پر آیا ہے۔ جس میں ان کے بیس افسانے تخلیقیت کا جامعہ اوڑھے ہوئے ہیں ۔ جو کئی زاویوں سے ایک قاری کا ذہن اپنی اور کھینچنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیںمذکورہ مجموعے میں جہاں ان کی نظر سماج کے ان افراد پر رہتی ہے جنہوں نے صالح معاشرے کو بگاڑنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی ہے۔ اور وہ افراد بھیان کے زیر نظر ہیں جن کے ساتھ ان کی اٹھک بیٹھک رہتی ہے۔ غرض کہ سماج کے سبھی افراد پر ان کی نظر گہری ہے۔ ان کے گھیرائو میں وہ اپنے تجربے مشاہدےاور تخلیق کے نت نئے رنگ نکھارت ہوئے نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد یونس کی افسانہ نگاری کے چند محاسن یہ ہیں
١۔ وہ اپنے افسانوں کو بلا ضرورت پھیلاتے نہیں ہیں ۔وہ اتنا ہی کہتے ہیں جتنا افسانے کی ضرورت ہے۔
٢۔ ان کے افسانوں میں ان کا اپنا ماحول نظر آتا ہے جس سے انہیں اپنی بات کہنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے۔
٣۔ ان کے یہاں کہانیوں میں افسانوی رنگ اس وقت ملتا ہے جب قدرتی طور پر ایسے واقعات کا در آناہوتا ہے جب اس کے سوا اور کوئی آپشن باقی نہیں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد یونس کی اولین کا وشوں میں کئی افسانے افسانوی رنگ میں رنگے ہوئے ضرورنظرآتے ہیں ۔جن میں عبرت اور طلاق کے ساتھ کئی اور افسانے بھی شامل ہیں۔
جن میں افسانہ نگار کا ذاتی تجربہ ، مشاہدہ اور تخیلقیت پر دسترس اور ان کا فنی شعوربخوب نظر آتا ہے۔ ایک جگہ ہربرٹ ریڈ نے لکھا ہے ”موسیقار ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے شعور کے بطون سے فنی تخلیق کو جنم دیتا ہے ورنہ دوسرے فنکار تو ظاہر کی دنیا سے کچا مواد حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔مثلاً مصور رنگ اور صورت کادست نگر ہے اور شاعر الفاظ کا اور معمار مجبور کہ چونے گارے کے ریختہ میں اپنی ذات کا أظہارکرے مگر ذریعہ چاہے کوئی بھی کیوں نہ استعمال کیا جائے مقصد اس کا صرف یہ ہوتا ہے کہ شےیا مظہر کو اوپر اٹھا کر ”غنائیت کی سطح“ پر پہنچا دیا جائے تھوڑے سے تصرف کے ساتھ یہی بات کہانی لکھنے کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے کہ چاہےوہ کردار کے نقوش کو اجاگر کریں یا ٹائپ Type کو بروئے کار لائیں ۔ بند ماحول کو پیش کریں یا کشادہ کینوس کوسامنے لائیں قریب سے نظارہ کریں یادور سے نظر ڈالیں وہ ہر حال میں مجبور ہیں کہ کہانی کی سطح پر پہنچنے کی کوشش کریں بصورت افسانہ جواب مضمون بن جائے گا “ افسانے کا فن ۔۔۔۔وزیر آغا اردو افسانہ روایت او مسائل مرتبہ گوپی چند نارنگ ص نمبر ١١٥
محمد یونس نے بھی کہانی تک پہنچنے کی ایک دلیرانہ کوشش کی ہے جس میں آپ بہت حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں البتہ کہیں کہیں افسانہ مضمون کی صورت میں کہانی کی لطافت میں آڑے آکر اس کی چاشنی میں رخنہ اندازی پیدا کرتا ہے جس سے افسانہ میں بدمزگی سی رہتی ہے۔
محمد یونس کا چونکہ یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے اس لیے اسےشفقت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے اپنے افسانوں میں جن کرداروں کو پیش کیا ہے ان کے مکالمے اپنے ماحول کے بمطابق ہیں اور وہی افراد بھی ان کی کہانیوں کے کردار ہیں جن کی زندگیوں کے آپ بالکل پاس پاس رہ چکے ہیں تبھی اتنی کاٹ ان کے افسانوں میں موجود ہے۔ آپ نے معاشرے کے لوگوں کا دکھ درد غم وخوشی مسرت و الم اور مسرور ومغرور کیفیات کا بغور جائزہ لیا ہے اور افسانے کے کینوس پر پیش کرکے اپنے معاشرے کی بخوب مرقع کاری کی ہے ۔ پیش ہیں چند اقتباسات جن میں ان کی بات میں ہمدردی اور سچائی مضمرہے۔
” زبیدہ پر ایسی قیامت ٹوٹ پڑی کہ اس کی ہمت جواب دینے لگی وہ حاملہ تھی اور محض اس امید پر زندہ تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ بشیر میں تبدیلی آ جائے گی مگر یہ محض اس کا گمان تھا “ افسانہ ۔۔۔ طلاق
طلاق افسانہ میں انہوں نے ایک ایسی سچویشن کو پیش کیا ہے کہ موجودہ سماج میں لڑکے شراب اور نشے کی حالت میں اپنی خوشگوار زندگی کو جہنم بنادیتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے گھروں کو بھی برباد کر دیتے ہیں ۔گھر کا پر سکون ماحول کیسے بگھاڑتے ہیں اور اپنی بیویوں پر کس قدر ظلم کرتے ہیں بڑے ہی فن کارانہ انداز سے پیش کیا ہے۔اسی طرح افسانہ ” نیا سبق“ میں ایک اور کامیاب کوشش کی گئی ہے۔
” خوابوں کی کسک“ ایک جائزہ
”میرے دوست میرے یار حوصلہ رکھو ،نا امید بالکل بھی مت ہو۔ تم تو جانتے ہو کہ ناامیدی کفر کے مانند ہے لہذا ایسی باتیں نہیں کیا کرتے“۔
• اس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے اندر صحیح معاشرے کی از حد فکر ہے آپ منشی پریم چند کی طرح گائوں کی زندگی کے رنگ اور ماحول دکھانے میں ابھی محو ہیں ۔آپ زندگی کی ناہمواریوں کو سمجھتے ہیں انہوں نے لوگوں کے درد کو بھوگا ہے تبھی ان کہانیوں کاروپ دھارن کرتے ہوئے طمانیت محسوس کرتے ہیں اور یہ ایک افسانہ نگار کی کامیابی ہوتی ہے جب کسی بھی سچویشن کو بیان کرنے میں کشف کا جامعہ اٹھاتے ہیں اور ان ناسور و مضر بیماریوں کا قلہ قمہ اپنے قلم کے طاقت سے کرتے ہیں یہ محمد یونس کا کمال فن بھی ہے
ان کے افسانوں میں جو قدرتی مناظر پیش کئے گئے ہیں ان سے کشمیر کے موسم کی صحیح عکاسی ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے برف پوش پہاڑ، جھیلیں ، جاڑے کی یخ بستہ راتیں ، اوس ، ندی نالوں میں بہتے جھرنے ، جنگلات کے پیڑجن میں دیودار ، بدلو ، کایرو ،چناروں کے ٹھنڈے سائے، یہاں کی سایہ دار سڑکیں ،سیب کےباغات اور حکیم منظور کی طرح اخروٹ اور خوبانیوں کا ذکر بھی کہیں کہیں افسانے کی حرمت اور رونق میں چار چاند لگا دیتے ہیں ۔اپنے وطن کی ہر ایک شے سے جس طرح افسانہ نگار کو لگائو ہےاور محبت ہے من و عن انہوں نے ان چیزوں کا ذکر اپنی کہانیوں میں کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے میلوں ٹھیلوںاور یہاں کی تہذیب و ثقافت کو بھی بخوبی دیکھا جاسکتا ہے جس سے ان افسانوں کی اہمیت و افادیت میں اور بھی چاشنی برقرار رہتی ہےان کے یہاں جتنی بھی کہانیاں پیش ہوئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب انہوں نے اپنے ہی معاشرے سے انتخاب کی ہیں ان کے ساتھ افسانہ نگار کا میل ملاپ رہا ہے اس لیے وہ کہانیاں حقیقی روپ لیے ہوئی ہیں ۔اور یہ شائبہ کہیں نہیں ہوتا ہے کہ کوئی بھی ان کی خلق شدہ کہانی فرضی ہے۔ اس سے افسانہ نگار کی ژرف نگاہی جو افسانے کے تئیں ہے خوب درشاتا ہے۔ان کے افسانوں میںایک چیز جوان کے فن پر دسترس دکھاتا ہے کہ وہ کسی بھی کردار کے نفسیاتی اور جذباتی پہلوئوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے افسانے کی تار پود بنتے ہیں ۔ اور کہانی کے پس و پیش میں اور اس کے ارتقا میں ان چیزوں کا کافی خیال رکھتے ہوئے اپنی کہانی کو پائے تکمیل تک پہچاتے ہیں ۔جس میں کچھ کہانیاں ٹریجڈی پن پر اور کچھ تو نشاطیہ طرز پر اختتام کو پہنچتی ہیں یہ ان کے افسانوں میں ایک خاص وصف ہے ۔
لیلیٰ اور مجنون۔۔۔۔۔۔۔عشق و ادب کے دو سچے کردار
تحقیق و ترتیب:معراج زرگر
(قسط اول)
(مضمون کے بیشتر اجزا انٹرنیٹ اور دیگر کتب سے ماخوذ ہیں)
مجنوں کا اصل نام قیس بن الملوح تھا۔ یہ 24 ہجری بمطابق 645 عیسوی کو پیدا ہوا۔ اپنے عصر کا معروف شاعر تھا۔ اس نے ایک مسلمان کے طور پر زندگی گزاری اور حالتِ ایمان میں ہی فوت ہوا۔وہ نجد کا رہنے والا دیوانہ شاعر تھا۔ خلافت مروان بن الحكم وعبد الملك بن مروان اور قرن اول کا زمانہ پایا۔ قیس کا نسب نامہ یوں ہے:
قيس بن الملوّح بن مزاحم بن عدس بن ربيعہ بن جعدہ بن كعب بن ربيعہ بن عامر بن صعصعة بن معاويہ بن بكر بن هوازن بن منصور بن عكرمہ بن خصفہ بن قيس عيلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، العامري الهوازني۔
مؤرخین، محدثین اور اہلِ علم نے مجنوں کے احوال بیان کیے ہیں۔ بعض مؤرخین نے اس کے حج پر جانے اور حرمین میں اس کے قیام کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ چند کتب کے حوالے درج ذیل ہیں:
ابنِ قتيبه، عبدالله بن مسلم، تاويل مختلف الحديث، 1: 319، دار الجيل، بيروت
ابن جوزی، عبدالرحمٰن بن علی، بن محمد، المنتظم، 6: 105، دار صادر، بيروت
ابنِ منصور، ابو سعيد عبدالکريم بن محمد، الانساب، 5: 204، دار الفکر، بيروت
الذهبي، شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان، تاريخ اسلام، 5: 217، دار الکتاب االعربي، لبنان
مذکورہ کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قیس (مجنوں) کا دور اولین صدی ہجری ہے جوکہ صحابہ کا زمانہ ہے۔ قیس چونکہ مسلمان تھا اور حالتِ ایمان میں ہی فوت ہوا ہے، اگر اس کی کسی صحابی سے ملاقات ہوئی ہے تو وہ طبقہ تابعین میں شمار ہوگا۔ تحقیق کے مطابق قیس (مجنوں) کا تابعی ہونا قرینِ قیاس ہے۔
امام فاضل بریلوی فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں کہ ” حضرت قیس المعروف مجنوں رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک مجنوں بنی عامر اولیائے کرام میں سے تھے آپنے لیلیٰ کے سبب اپنے جنون کے ذریعہ اپنے معاملے کو چھپایا ہوا تھا “۔
قیس کو مجنوں کا لقب ليلى عامریہ سے بے پناہ محبت کی وجہ سے ملا۔ قیس اورلیلی نے ایک ساتھ بچپن گزارا اور قیس اس کی محبت میں مبتلا رہا۔ قیس نے لیلی سے شادی کے لیے گھر کو خیر آباد کہا، وہ محبت کے اشعار گنگناتا اور ویرانوں کی خاک چھانتا رہا، اسے شام ،نجد اور حجاز میں دشت نوردی کرتے پایا گیا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ اپنے ملفوظات میں ایک عجیب بات نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیس کو مجنون کا لقب امام حسن علیہ السلام نے دیا۔ واقعہ یوں درج ہے کہ قیس کی ماں امام حسن علیہ السلام کے دولت خانہ میں خدمت کیا کرتی تھی۔ اور موصوف امام علیہ السلام کے رضاعی بھائی بھی تھے۔
ایک دن امام علیہ السلام بنی امیہ کے عہد امارات میں اونٹ پر سوار کہیں جارہے تھے۔ اور قیس ابن الملوح ان کے ہم رکاب تھے۔ امام حسن علیہ السلام نے قیس کو بھائی سمجھ کر بطور اظہار تاسف فرمایا کہ قیس تو نے دیکھا کہ بنو امیہ نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ قیس نے جواب میں کہا کہ بھائی۔۔۔!! اگر سچ کہا جائے تو خلافت نہ تو آپ کا حق ہے اور نہ ہی بنو امیہ کا۔ بلکہ لیلی کا حق ہے۔ اس بات پر امام علیہ السلام نے تعجب فرماکر کہا کہ “انتَ مجنونٌ” یعنی آپ تو دیوانے ہو۔ میں کیا کہتا ہوں اور آپ کیا الاپتے ہو۔ حضرت مہر علی شاہ ؒ لکھتے ہیں کہ چونکہ یہ بات امام علیہ السلام نے فرمائی تھی تو اس وجہ سے قیس جہاں میں “مجنون” کے نام سے مشہور ہو گئے۔
وہ پہلا دیوانہ شاعر تھا اور دوسرا دیوانہ شاعر قيس بن ذريح یعنی”مجنون لبنی تھا۔. قیس بن الملوح نے68 هـ موافق 688ء میں وفات پائی۔ وہ پتھروں کے درمیان مردہ پایا گیا اور اس کی گھر والے اس کی لاش اٹھا کر لے گئے۔
سیر و تراجم کا اس بات پر اجماع ہے کہ قیس لیلی کا چچازاد تھا۔ دونوں کا بچپن ایک ساتھ گزرا دونوں اپنے گھر والوں کے مویشی اکٹھے چراتے تھے اور اکٹھے کھیلتے تھے۔ قیس اپنے شعر میں کہتا ہے:
تعلَقت ليلى وهي ذات تمائم
ولم يبد للأتراب من ثديها حجم
صغيرين نرعى البهم يا ليت أننا
إلى اليوم لم نكبر، ولم تكبر البهم
(لیلیٰ تعویذوں کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی، اور اس کے سینوں کی دھول بڑی نہیں لگتی تھی۔
ہم بہاماس کی دیکھ بھال کے لیے جوان ہیں، کاش ہم آج تک بڑے نہ ہوتے، اور بہاماس بڑے نہ ہوتے)
چنانچہ سيد فالح الحجية اپنی کتاب (الغزل في الشعرالعربي) میں بیان کرتے ہیں:
“لیلی کو اپنے چچا زاد سے محبت تھی۔ دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے ،اکٹھے اپنے والدین کے مویشی چراتے تھے بچپن کا یہ ساتھ ان کی محبت کا سبب بنا۔ حتی کہ دونوں محبت میں وارفتگی کی انتہا کو پہنچ گئے۔ عرب صحرانشینوں کی روایت کے مطابق لیلی جب بڑی ہوئی تو اسے پردہ اختیار کرنا پڑا۔ قیس اپنے ایام گذشتہ کو یاد کر تا اور حسرت کرتا کہ کاش یہ ایام لوٹ آئیں۔ محبت و وارفتگی میں اس کی زباں پر پرتاثیر اشعار غزلیہ جاری رہتے۔ پھر قیس اپنے چچا کے پاس لیلی کا ہاتھ مانگنے گیا، اس وقت تک اس نے مہر کی خطیر رقم جمع کر لی تھی جو 50 سرخ اونٹوں پر مشتمل تھا۔ مجنوں نے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا کیوں کہ عرب اس محبوبہ، جس کی محبت مشہور ہو چکی ہو، اس سے شادی کرنا باعث عار سمجھتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق مجنوں کی گھر چھوڑنے کی وجہ مجنوں اور لیلی کے والدین کے درمیان اختلاف تھا جو میراث کی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ آخرکار لیلی کی شادی طائف کے ایک شخص سے کر کے اسے طائف بھیج دیا گیا۔
لیلی کے ہجر نے قیس کی محبت کی آگ کو تیز تر کر دیا اور اسی عالم وارفتگی میں وہ فوت ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ قیس کا والد اسے اپنے ساتھ حج پر لے گیا تاکہ لیلی کی محبت کی وجہ سے اس پر جو مصائب آئے ہیں،اللہ تعالی اسے ان مصائب سے نجات دے۔ اس کے والد نے اسے کہا کہ کعبہ کے غلاف کو پکڑ کر دعا مانگو کہ خدا لیلی کی محبت سے نجات دے دے۔ قیس نے کعبہ کے غلاف سے لپٹ کر دعا مانگی:
“اے اللہ میری لیلی سے محبت کو زیادہ کر دے اور مجھے کبھی اس کی یاد سے غافل نہ کر! ”
اسی طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ قیس، لیلی کے شوہر ورد کے پاس گیا۔ یہ شدید سردیوں کے دن تھے، ورد اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ، آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھا تھا۔ قیس نے وہاں یہ اشعار فی البدیہہ کہے:
بربّك هل ضممت إليك ليلى قبيل الصبح أو قبلت فاها
وهل رفّت عليك قرون ليلى رفيف الأقحوانة في نداها
كأن قرنفلاً وسحيقَ مِسك وصوب الغانيات قد شملن فاها
(یعنی تجھے رب کا واسطہ۔۔۔۔۔ کیا تو نے صبح ہونے سے پہلے لیلی کو آغوش میں لیا؟ یا اس کا منہ چوما؟ ۔۔۔ یا اس کی شبنمی زلفیں تجھ پر نازک پھولوں کی طرح لہرائیں؟ ۔۔۔ جیسے کہ خوشبوئیں اور مشک اس کے منہ میں درآئی ہوں؟)
ورد نے کہا، جب تم نے مجھے قسم دی ہے تو جواب ہاں میں ہے۔ تو مجنوں نے اپنے ہاتھوں سے آگ کو پکڑ لیا اور اسے نہ چھوڑا یہاں تک کہ بے ہوش ہو گیا۔
لیلی مجنوں کی داستان عشق کو نہ صرف عربی ادب نے جگہ دی بلکہ فارسی ،ترکی اور اردو ادب میں بھی یہ داستان شامل رہی۔ اس واقعہ پر فلمیں اور ڈرامے بھی بنے, گیت بھی لکھے گئے اور اسی طرح اس عشق کے واقعہ کے دو کرداروں سے ہر مسلم تہذیب اور دوسری غیر عرب تہذیبوں کے لوگ صدیوں سے واقف ہیں اور ان دو کرداروں کو سچے عشق کے کردار سمجھتے ہیں اور ان کرداروں سے اپنی محبت اور عقیدت وابستہ رکھتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں لیلی اور مجنون پر کامیاب فلمیں بنی ہیں۔ جو عوام میں بہت مقبول ہوئیں اور ان کے گانے آج بھی مقبول ہیں۔
لیلیٰ مجنوں بنیادی طور پر ایک عربی الاصل داستان ہے۔ اس میں بیان کردہ کردار تاريخی طور پر ثابت مانے جاتے ہیں۔ کہ لیلیٰ مجنوں دو حقیقی شخصیات تھیں اور یہ کہ یہ داستان عشق بھی حقیقی تھی۔ جس کو قلم بند کیا گيا اور بعد میں، صدیوں تک ان پربہت کچھ افسانہ طرازی کی گئی۔ عربی میں سب سے پہلے کس نے اسے لکھا؟ اس کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں البتہ عربی سے فارسی میں اس کو پہلے پہل رودکی نے منتقل کیا۔ اس کے بعد نظامی گنجوی نے اس کو فارسی میں لکھا، جس نے اس کی مقبولیت کو ساری دنیا تک پہنچائی۔ اب تک ہزار سے زیادہ مرتبہ اس داستان کو مختلف زبانوں میں، مختلف لوگ نثر و نظم میں لکھ چکے ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ مقبولیت و اہمیت نظامی گنجوی کی لیلیٰ مجنوں کو ہی حاصل رہی ہے۔
لیلیٰ مجنوں کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مجنوں لغوی طور پر پاگل، دیوانے اور عاشق کو کہتے ہیں۔ لیلیٰ کا نام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیا جاتا ہے۔ عربی و عبرانی میں لیلیٰ یا لیلہ رات کے لیے بولا جاتا ہے۔ عربی میں لیلیٰ مجنوں کی بجائے مجنون لیلیٰ (لیلی کا پاگل) بولا جاتا ہے۔ جب کہ ترکی میں ایک اسم صفت لیلیٰ کی طرح سے مراد محبت کی وجہ سے پاگل، جنونی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کہانی کو قیس اور لیلیٰ، لیلیٰ مجنوں، مجنوں لیلیٰ اور انگریزی میں Laila and Majnu کہا جاتا ہے۔
بعض محققین نے لیلیٰ کے عربی لیلیٰ (رات) سے اس کے معنی سانولی رنگت بھی لیا ہے۔ اور کئی مصنفین نے اپنے قصے میں لیلیٰ کو سانولی صورت والی بنا کر پیش کیا ہے۔ اور عوام میں مشہور ہے کہ لیلیٰ کالی یعنی سیاہ رنگت والی تھی۔ لیکن اگر لیلیٰ کو عربی النسل بیان کیا جاتا ہے تو اس طرح لیلیٰ کا کالا ہونا ایک خلاف واقعہ بات ہوگی۔ مشہور صوفی پنجابی شاعر حضرت بابا فریدؒ نے فرمایا ہے:
لوکاں نوں آکھاں مجنوں کوں
تیری لیلا رنگ دی کالی وے
مجنوں نوں جواب دِتا اے
تیری انکھ نئیں ویکھن والی وے
جے تو ویکھے میریاں انکھاں نال
تے صورت نہ جائی سنبھالی وے
وید وی چٹا تے قرآن وی چٹا
وچوں سیاہی رکھ دتی کالی وے
غلام فریدا جتھے اکھیاں لگیاں
اوتے کیا گوری کیا کالی وے
نظامی گنجوی کے قصے لیلیٰ مجنوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسے میں پڑھنے جاتے تھے، تب ہی ان میں باہمی الفت پیدا ہوئی۔ مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی، جس پر استاد سے سزا ملتی، مگر استاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پر پڑتی اور درد لیلیٰ کو ہوتا۔ استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتائی، جس پر لیلیٰ کے مدرسے جانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گئی۔
بعض قصه گو اس کہانی کو بچپن سے نہیں جوانی سے شروع کرتے ہیں کہ ایک دن اچانک مجنوں، لیلیٰ کو دیکھتا ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
بہر حال حقیقت جو بھی ہو، جب دونوں جوان ہوئے تو، ایک دن پھر مجنوں کی نظر لیلیٰ پر پڑ گئی اور بچن کا عشق تازہ ہو گيا۔ مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا، مگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کر دیا۔ یہاں پر لیلیٰ کا بھائی تبریز کہانی میں شامل ہو جاتا ہے، وہ مجنوں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر مجنوں اس کو قتل کر دیتا ہے۔ جس پر مجنوں کو کیوں کہ اس نے لیلیٰ سے سرِ عام محبت کا اظہار کیا تھا اور اس کے بھائی کو مار دیا تھا۔ اس لیے مجنوں کو سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی۔
بعض کہانیوں میں تبریز کے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ، رشتہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کر دی جاتی ہے۔ جس پر قیس، پاگل سا ہوجاتا ہے۔
ليلى العامرية نجد کے النجوع دیہہ میں 28 ہجری کو پیدا ہوئی۔ وہ بھی ایک عربی شاعرہ تھی۔ اس کا تعلق قبيلہ هوازن سے تھا۔ ليلى بنت مہدي بن سعد بن مزاحم بن عدس بن ربيعہ بن جعده بن كعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعه من هوزان بن منصور بن عكرمہ بن خفصه من قيس عيلان ۔ اس کی کنیت ام مالک تھی۔
لیلٰی بني عامر، مجنوں یعنی قيس سے چار سال چھوٹی تھی۔ دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے دونوں ایک ساتھ اپنے مویشی چرایا کرتے تھے۔ جب لیلی بڑی ہوئ تو قیس سے پردہ کرنے لگی۔ لیکن اس سے قیس کے عشق کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ ان کی محبت کی شہرت عرب میں پھیل گئی۔ وہ وارفتگی کے عالم میں شعر گنگناتا اور ویرانوں کی خاک چھانتا جگہ جگہ گھومنے لگا۔ کبھی اسے شام، کبھی نجد اور کبھی حجاز میں دیکھا گیا۔ با لآخر اسے پتھروں کے درمیان مردہ حالت میں پایا گیا اور اس کے گھر والے اس کی لاش اٹھا کر لے گئے۔
(جاری اگلے شمارے میں)
لیلی بھی قیس کی محبت کی گرفتار تھی اس کے اشعار اس بات کے گواہ ہیں:
كِلانا مُظهرٌ للناسِ بُغضاً
وكلٌّ عندَ صاحبهِ مكينُ
(ہم دونوں لوگوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اعتماد ہے۔)
تبلّغنا العيون بما أَردنا
وَفي القلبينِ ثمّ هَوىً دفينُ
(آنکھیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کیا چاہتے تھے اور دلوں میں پھر جذبہ دفن ہوتا ہے۔)
وَأَسرار اللّواحظِ ليسَ تَخفى
وَقد تغري بِذي الخَطأ الظنونُ
(اور دیکھنے والے کے راز پوشیدہ نہیں رہتے اور غلطی کرنے والا شک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
وَكَيف يَفوتُ هَذا الناس شيء
وَما في الناسِ تظهرهُ العيونُ
جب لوگوں کی آنکھیں دکھاتی ہیں تو یہ لوگ کیسے کسی چیز سے محروم رہ سکتے ہیں۔)
لَم يكنِ المَجنونُ في حالةٍ
إلّا وَقَد كنتُ كَما كانا
(میرے مجنوں کی حالت نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں ویسی ہی ہوں جیسا کہ وہ تھے۔)
باحَ مجنونُ عامرٍ بهواهُ
وَكَتمت الهَوى فمتّ بِوَجدي
(جذبوں سے بھرے مجنون نے چیخ کر کہا اور میں نے اپنے شوق کو دبا لیا اور اسی وجد میں مرگئی)
فاذا كانَ في القيامةِ نودي
مَن قتيلُ الهَوى تَقدّمت وَحدي
(اگر قیامت کے دن کسی ایسے شخص کو پکارا جائے جو شوق سے مارا گیا ہو تو میں اکیلے ہی آگے بڑھوں گی۔)
نَفسي فِداؤك لَو نَفسي ملكت إِذاً
ما كانَ غيرك يجزيها ويرضيها
(میری جان تیرا فدیہ ہے، اگر میری جان میرے پاس ہوتی تو کوئی اور اس کا بدلہ اور تسلی نہ کرتا۔)
صَبراً عَلى ما قَضاه اللَّه فيك على ضائعُ
(کھوئے ہوئے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو حکم دیا ہے اس پر صبر کرو)
أَلا ليتَ شِعري وَالخطوب كثيرةٌ
مَتى رحلُ قيسٍ مستقلّ فراجع
(میری شاعری کی خواہش ہے، اور مصروفیات بہت ہیں، جب آزاد قیس کو رخصتی ملے ، تو لوٹ آنا۔)
بنفسي مَن لا يستقلّ برحلهِ
وَمَن هوَ إِن لم يحفظ اللَه
(مجھے اپنی ذات کی قسم۔۔ جو اپنے شوق میں سفر کرے اور خدا اس کی حفاظت نہ کرے تو عجب ہے؟)
أُخبرتُ أنّكَ مِن أَجلي جُننتَ وَقد
فارَقتَ أَهلك لم تعقل ولم تُفقِ
(مجھے بتایا گیا کہ تم میری خاطر پاگل ہو گئے ہو اور تم نے بغیر کسی وجہ کے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا اور ہوش میں نہیں آئے۔)
لیلیٰ مجنوں کا عشق و محبت فرضی داستان نہیں ہے، یہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے جو عرب کے نجد کے علاقے میں رونما ہوا اور لازوال بن گیا۔ کسی ایرانی نے فارسی میں کیا خوب لکھا,
“خدا مشتی خاک را بر گرفت. میخواست لیلی را بسازد، از عشق خود در آن دمید و لیلی پیش از آن که با خبر شود عاشق شد. اکنون سالیانی است که لیلی عشق میورزد، لیلی باید عاشق باشد. زیرا خداوند در آن دمیده است و هرکه خدا در آن بدمد، عاشق میشود.”
“لیلی نام تمام دختران ایران زمین است، و شاید نام دیگر انسان واقعی!!!!”
“لیلی زیر درخت انار نشست، درخت انار عاشق شد، گل داد، سرخ سرخ، گلها انار شدند، داغ داغ، هر اناری هزار دانه داشت. دانهها عاشق بودند، بیتاب بودند، در انار جا نمیشدند. انار کوچک بود، دانهها بیتابی کردند، انار ناگهان ترک برداشت. خون انار روی دست لیلی چکید. لیلی انار ترک خورده را خورد، اینجا بود که مجنون به لیلیاش رسید.”
“در همین هنگام خدا گفت: راز رسیدن فقط همین است، فقط کافیست انار دلت ترک بخورد. خدا آنگاه ادامه داد: لیلی یک ماجراست، ماجرایی آکنده از من، ماجرایی که باید بسازیش.”
“خدا نے مٹھی بھر مٹی لے لی۔ وہ لیلی کو بنانا چاہتا تھا۔اس نے اس میں اپنی محبت کا دم بھرا اور لیلی کو اس کے علم ہونے سے پہلے ہی پیار ہو گیا۔ لیلی کو اب برسوں سے پیار ہے، لیلی کو پیار ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا نے اس میں پھونک ماری ہے اور جس چیز میں بھی خدا پھونکتا ہے وہ محبت میں پڑ جاتا ہے۔”
“لیلی ایران کی تمام لڑکیوں کا نام ہے، اور شاید ایک حقیقی شخص کا دوسرا نام!!!!”
“لیلی انار کے درخت کے نیچے بیٹھ گئی، انار کے درخت کو پیار ہو گیا، اس نے پھول دیے، سرخ سرخ، پھول انار ہو گئے، گرم گرم، ہر انار میں ہزار بیج تھے۔ بیج محبت میں گرفتار تھے، بے صبرے تھے، انار میں نہ سمائے۔ انار چھوٹا تھا، بیج بے صبرے تھے، انار اچانک پھٹ گیا۔ لیلی کے ہاتھ پر انار کا خون ٹپک رہا تھا۔ لیلی نے پھٹا ہوا انار کھایا، یہیں مجنون اپنی لیلی تک پہنچا۔”
“اسی وقت خدا نے فرمایا: پہنچنے کا راز بس یہی ہے، تمہارے دل میں انار پھوٹنے کے لیے یہی کافی ہے۔ خدا نے پھر جاری رکھا: لیلی ایک مہم جوئی ہے، ایک مہم جوئی سے بھرا ہوا راز ہے، ایک ایسی مہم جوئی ہے جسے آپ کو تخلیق کرنا ہے۔”
(باقی دوسری قسط میں۔۔۔۔!!)
میں انہیں اس افسانوی مجموعے پر صمیم قلب سے مبارکباد دیتا ہوںاور امید قوی ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس آگے بھی اسی شد و مد کے ساتھ اپنے افسانوی سفرپر خوشی خوشی گامزن ہوں گے۔ اور یہاں کے مستند افسانہ نگاروں کی صف میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
جیسا کہ مندرجہ بالا میں مذکور ہے کہ محمد یونس کہیں کہیں افسانہ نہیں بلکہ مضمون لکھنے لگتے ہیں اسی طرح کےاعتراضات کرشن چندر پر بھی اول اول کئے گئے ہیں بقول آل احمد سرور ”ان کے جدید افسانوں میں ایک روشن سیاسی تصور کی جھلک بھی ہے ۔ان کے افسانوں پر اعتراضات کئے گئے ہیں۔ بعض اوقات وہ افسانہ نہیں مضمون لکھنے لگتے ہیں۔“
اردو افسانہ روایات اور مسائل مرتبہ۔۔۔ گوپی چند نارنگ ص نمبر ١١١
ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی ایڈیشن ٢٠٠٤
محمد یونس کو اپنے گردوپیش پر گہری نظر ہے وہ ایک نبض شناس تخلیق کار ہیں انہیں ہر ایک کردار کے اندر ایک ایک کہانی نظر آتی ہے ۔ وہ سماج کے تغیر پذیر حالات کو صحیح معنوں میں اپنے قلم کی جنبش سے صفہ قرطاس پر بکھیرتے ہیں۔ان کے کردار اپنے ہی سماج کے ہیں جن سے افسانہ نگار اپنی قربت اور دوری کے احساسات اور تعلقات کو بے تکلف انداز میں بیان کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں ۔
مجھے محمد یونس میں ایک بہت بڑا قلم کار اور کہانی کار نظر آرہا ہے اگر اس کا قلم اسی نہج پر قائم رہا تو ان کی اہمیت سے کوئی ایک منکر نہیں ہوگا۔