تحریر:سبزار احمد بٹ
اویل نورآبادکولگام
موجود دنیا اگر چہ ہر طرف سے خطروں اور مسائل سے گیری ہوئی ہے لیکن پوری دنیا جس طرح سے منشیات کے دلدل میں دنھستی جا رہی ہے اور منشیات کا استعمال دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی بنتا جا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ وبا دنیا کو اندر سے کھوکھلا بنا دے گی یورپی ممالک میں تو منشیات کا استعمال تشویش ناک حد تک بڑھ گیا ہے حالانکہ دنیا کے مختلف ممالک نے منشیات کے استعمال کے خلاف قوانین بھی بنائے ہیں لیکن یہ سب قوانین بنانے تک ہی محدود ہیں جبکہ درپردہ طور پر تمام تر منشیات کا کاروبار جاری ہے دنیا کے تمام مذاہب نے بھی نشہ آور اشیاء کو بری شیے سے تعبیر کیا ہے تاہم اسلام کا اس بارے میں واضح فرماں ہے کہ کہ نشہ آور چیزوں کا استعمال صاف اور واضح طور پر حرام ہے اسلام نے شراب اور باقی نشہ دلانے والی اشیاء کو حرام قرار دیا ہے اور انہیں استعمال کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہونا ہی اس بدعت سے نجات پانے کا واحد ذریعہ ہے افسوس کی بات ہے کہ جموں و کشمیر میں بھی یہ وبا بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے اور نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی منشیات کے اس دلدل میں پھنستی جا رہی ہے اتنا ہی نہیں منشیات میں ملوث 90فی صد لوگ پڑھے لکھے ہوتے ہیں جو کہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کچھ عرصہ پہلے جموں و کشمیر میں نشہ آور چیزوں کا نام لینا بھی گناہ عظیم تصور کیا جاتا تھا لیکن اب جموں و کشمیر کے نوجوان مسلسل منشیات کا استعمال کر رہے ہیں اور جموں و کشمیر منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے لیے پسندیدہ جگہ بنتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ڈرگ کنٹرول پروگرام کی ایک سروے کے مطابق وادی کشمیر میں 70 ہزار افراد منشیات میں ملوث ہیں جن میں 4 ہزار خواتین بھی شامل ہیں ۔ریاست کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر مشتاق مرغوب بانہالی نے اپنی تحقیق’کشمیر میں منشیات کی لت‘ میں یہ بات سامنے لائی ہے کہ40لاکھ کی آبادی والی وادی میں2لاکھ کے قریب لوگ نشہ آور چیزوں کی لت میں مبتلا ہیں ۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں 20 سے 30 سال تک کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد منشیات میں ملوث ہے اس عمر کے نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کے لئے سب سے بڑے سرمائے کے طور پہ دیکھے جاتے ہیں اس عمر کے نوجوانوں کا منشیات کا شکار ہونا کسی بھی ملک و قوم کے لئے خودکش کے مترادف ہے جموں و کشمیر کے نوجوان سگریٹ، تمباکو، اور کبیر کے علاوہ چرس، گانجا، افین،ہیروئین، براون شوگر اور شراب جیسی منشیات کے مرتکب پائے جا رہے ہیں یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جموں و کشمیر جہاں نامساعد حالات سے لڑ رہا وہاں جموں و کشمیر سفید بارود کے نشانے پر بھی ہے جس سے جموں و کشمیر کو نکالنا وقت کی اشد ضرورت ہے جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال کے لئے بے روزگاری، ذہنی تناؤ اور جموں و کشمیر کے نامساید حالات کارفرما ہوسکتے ہیں بہرحال وجہ کچھ بھی ہو منشیات کے استعمال کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا. ہر انسان کی زندگی میں الجھنیں آتی ہیں لیکن ان پریشانیوں اور الجھنوں سے باگنا بزدلی اور کم ہمتی ہے بلکہ انسان کو چاہے کہ ان پریشانیوں اور مصیبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے لوگ عارضی طور پر ان الجھنوں سے نجات پانے اور وقتی سکوں حاصل کرنے کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں لیکن دراصل یہ لوگ نہ صرف اپنے لیے مستقل اور دائمی پریشانی خرید لیتے ہیں بلکہ اپنے لیے موت کا سامان تیار کر رہے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کا بھی چین و سکون ختم کر دیتے ہیں اتنا ہی نہیں آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں منشیات کا استعمال کرنے والے لوگ صرف ذہنی طور پر بلکہ اقتصادی طور پر بھی مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں ایسے لوگ اپنا قیمتی پینسہ ضائع کرتے ہیں اور یہ سب فضول خرچی میں آتا ہے جبکہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے انسان اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ کاٹ کر اپنے لیے مصیبت مول لیتا ہے اکثر نشہ آور لوگ سگریٹ یا تمباکو نوشی سے شروعات کرتے ہیں اور محض مشغلے کے بطور ایسا کرتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایسی اندھیر نگری میں چلے جاتے ہیں جہاں سے لوٹنا کئی بار نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بن جاتا ہے ایک تازہ تحقیق کے مطابق منشیات کے استعمال سے قوت حافظے میں 20 فی صد کمی آتی ہے
حساسیت میں 92 فی صد کمی آتی ہے
80 فی صد لوگ اختلال کا شکار ہوتے ہیں 88 فی صد منشیات کا شکار لوگوں کی سوچ باقی لوگوں سے الگ ہوتی ہے ایسے لوگوں کو سماجی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے سماج میں ایسے لوگوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اس مصیبت سے نمٹنے کے لئے ہر سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے
اولین ذمہ داری تو والدین کی بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس مصیبت سے دور رکھیں اپنے بچوں کے حرکات و سکنات اور میل جول پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے کئ بار غلط لوگوں سے دوستی بھی منشیات کی لت میں پڑنے کی وجہ بن جاتی ہے اتنا ہی نہیں والدین اور اساتذہ کو بچوں کو وقت دینا چاہیے اور ان کا غمخوار اور دوست بننا چاہیے تاکہ وہ اپنا دکھ درد والدین اور اساتذہ کے ساتھ بانٹ سکیں اور ان کو نشہ آور اشیاء کی ضرورت نہ پڑے ان نشہ آور اشیاء سے یہ نوجوان مختلف قسم کی لاعلاج اور مہلک بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں جن میں کینسر، سرتان، شورش، امراض قلب، ذہنی انتشار وغیرہ قابل ذکر ہیں اتنا ہی نہیں معالجین کا کہنا ہے کہ منشیات میں ملوث لوگوں کی موت جوانی میں ہی ہو جاتی ہے اور منشیات کے استعمال سے ہی چوریاں، قتل اور خودکش جیسے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے منشیات کے کاروبار کے پیچھے بہت ساری ایجنسیوں کا ہاتھ ہے جو ان لوگوں کے لیے دولت بنانے کا ذریعہ بن چکا ہے اور معصوم نوجوانوں کو اس مصیبت میں دھکیل رہے ہیں آخر کون ہے جو ان منشیات تک نوجوانوں کی رسائی کو آسان بنا دیتا ہے اتنا ہی نہیں جموں و کشمیر کی بہت بڑی عراضی کو بھی منشیات کی کاشت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو بہت ہی تشویشناک امر ہے محکمہ پولیس اگر چہ منشیات کی روک تھام کے لئے منظم ہے آے دن نشہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور ہر سال سینکڑوں کنال کی عراضی سے منشیات کی کاشت کو تباہ کیا جاتا ہے تاہم یہ کاروائی تب تک ناکافی ہے جب تک کہ منشیات کا کاروبار کرنے والے مجرموں کو پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے نہ دھکیلا جائے کیونکہ منشیات کا کاروبار کرنے والے معصوم نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر منشیات کا عادی بنا کر ذہنی مریض اور غلام بنا دیتے ہیں جب نشہ کرنے والوں کو پکڑا جاتا ہے اور منشیات کا کاروبار کرنے والے بچ جاتے ہیں تو ایسے میں ایک شعر ذہن میں گشت کرنے لگتا ہے
حضور ان کو کیسے پکڑ پائیے گا
بڑی مچھلیوں کے سمندر الگ ہیں
عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس ضمن میں محکمہ پولیس کا بھر پور تعاون کریں اور اگر کہیں پر بھی کوئی نشہ کرتا ہو یا اس کاروبار میں ملوث ہو تو محکمہ پولیس یا محکمہ ڈرگ کنٹرول کو مطلع کیا جانا چاہیے منشیات کی روک تھام کے لئے اساتذہ کرام کو بھی اپنا حق ادا کرنا چاہیے اساتذہ کے لیے لازمی ہے کہ وقتاً فوقتاً طلباء کو منشیات کے مضر اثرات کے بارے میں جانکاری دیتے رہیں اور خود بھی اس بری عادت اور مصیبت سے اپنے آپ کو دور رکھیں کیونکہ طلباء و طالبات کے سامنے سب سے مستند اور معتبر شخص استاد ہی ہوتا ہے لہذا اساتذہ کرام کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے کیونکہ ان کی ہر حرکت اور عمل کا بچے کی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے ہمارے اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ جہاں وہ مختلف جگہوں کا ایکسکرشن کرتے ہیں وہاں کبھی کبھار ہسپتالوں کا بھی رخ کیا کریں اور وہاں پر بچوں کو عملی طور دکھایا جائے کہ منشیات کے استعمال سے انسان کس طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اس لت سے نجات پانے کے لئے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ان چیزوں سے بار ہا دور رہنے کی تلقین کی گئی . جبک دنیاوی قوانین اس سے مختلف ہیں جہاں نشہ کرنے پر پابندی ہے وہیں سگریٹ صنعت کو باضابطہ قانونی جواز حاصل ہے جبکہ سگریٹ بنانے کی صنعت کے ساتھ ساتھ اس کی خرید و فروخت پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کر دینی چاہیے تھی 26 جون کو منشیات کے خلاف ہر سال عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کا آغاز 1987 میں ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی. منشیات کے مضر اثرات اور بھیانک نتائج کو دیکھتے ہوئے 26 جون کو انسداد منشیات کا عالمی دن قرار دیا گیا اس دن بڑی بڑی تقریبوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جموں و کشمیر میں بھی اس حوالے سے تقاریب منائی جاتی ہیں اور اس بدعت کے خلاف عوامی بیداری عمل میں لائی جاتی ہے اگر چہ اس سال کورونا وایرس کے ہوتے ہوئے بڑی تقاریب کا اہتمام نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن مختلف ذرائع کے زریعے عوام کو اس کے مضر اثرات سے آگا کیا جا سکتا ہے جموں و کشمیر میں اس حوالے سے کنوسلنگ سیلز کا بھی قیام عمل میں لایا گیا جہاں اس مرض میں مبتلا افراد کو نشہ چھڑانے کی مختلف تراکیب بتائی جاتی ہیں کیونکہ اب جو نوجوان نشے کی لت کے شکار ہو چکے ہیں انہیں ہمدردی اور حوصلے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس چنگل سے نکل آئیں نشہ کا عادی بنانے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے نشہ چھڑانے والا بقولِ شاعر
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو جب ہے کہ تو گرتوں کو تھام لے ساقی
جموں و کشمیر کے مذہبی رہنماؤں کو بھی اس ضمن میں آگے آنا چاہیے اور عوام کو منشیات کے منفی اثرات سے آگاہ کرنا چاہے اور اس حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کرنی چاہیے وہ دن ہم سب کے لیے خوشی اور شادمانی کا دن ہو گا جس دن پوری دنیا بالعموم اور جموں و کشمیر بالخصوص منشیات کی بدعت سے آزاد ہو جائے گا چلیے ہم سب مل کر ایک اصول بنائیں گے کہ گھروں، دفتروں، ہسپتالوں، اسکولوں کالجوں اور دیگر عوامی جگہوں پر نشہ آور اشیاء کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں تاکہ ہماری نئی پود اس مصیبت سے پاک رہے
151
