190

مشہور کشمیری شاعر ناجی منور کے ساتھ ایک ملاقات

ندائے کشمیر کے اس خصوصی شمارے میں آج ہمارے نمایندہ خصوصی سبزار احمد بٹ نے جنوبی کشمیر کی ایک مشہور شخصیت جو کہ ایک شاعر و ادیب ہیں اور ساہیتہ اکیڈیمی کی طرف سے ایوارڈ یافتہ ہیں، کے ساتھ ملاقات کی۔
کشمیری شعرو ادب کی اس مشہور شخصیت کا نام ناجی منور صاحب ہیں ۔ناجی صاحب کی پیدائش 1933 میں شوپیان کے ایک علم دوست گاؤں کاپرن میں ہوئی ۔انہوں نے کشمیری زبان و ادب کی کافی خدمت کی ہے جس پر انہیں ریاستی سطح کے انعامات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 1998 میں ان کی ایک کتاب (پُرسان) کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈسے بھی نوازا گیا ۔اس مشہور شخصیت کے بارے میں جاننے کیلئے ہمارے نمایندہ خصوصی نے ان سے ملاقات کی اور ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
سبزار احمد.. ناجی صاحب اسلام علیکم
ناجی صاحب… وعلیکم السلام
سبزار احمد.. ناجی صاحب آپ کی ابتدائی تعلیم کہاں اور کن حالات میں ہوئی۔
ناجی صاحب… ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی کیونکہ میرا گاؤں ایک علم دوست گاؤں ہے اور میرے گھر میں بھی عمدہ علمی ماحول تھا جس سے مجھے کافی فائدہ ہوا۔
سبزار احمد…. ناجی صاحب آپ کشمیری زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کب سے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔
ناجی صاحب… میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، جب میں نے شعر کہنے شروع کیے۔ جہاں تک شاعر بننے کا سوال ہے، تو شاعر بننے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی ہے۔ ہاں میرے گھر کے علمی اور ادبی ماحول نے مجھے شاعر بننے میں مدد کی، اور میرے شاعر بننے میں امین کامل صاحب کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں اسکول سے آکر دکان چلاتا تھا کبھی کبھی امین کامل صاحب بھی میرے پاس دکان پر بیٹھ جایا کرتے تھے ۔اور اپنی ایک کتاب ساتھ لاتے تھے ۔ایک دن میں نے اپنے چند اشعار جو میں نے لکھے تھے اس کتاب میں رکھ دئے ۔اگلے دن کامل صاحب آئے اور میری رہنمائی کرنے لگے ۔ تو یہاں سے میں نے کامل صاحب کو اپنا اُستاد مان لیا۔
سبزار احمد.. ناجی صاحب آپ نے کہا کہ آپ نے آٹھویں جماعت میں شاعری کی شروعات کی ۔کافی عرصہ بیت گیا، کیا فرق نظر آرہا ہے اس وقت کی شاعری میں اور آج کی شاعری میں۔
ناجی صاحب… دیکھا جائے تو شاعری ہر دور میں شاعری ہی ہوتی ہے۔ لیکن ہر دور میں حالات کے ساتھ ساتھ شاعری کے موضوعات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ہر قسم کے حالات کا شاعری کے موضوعات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
سبزار احمد… موجودہ نسل شاعری سے دور ہوتی جا رہی ہے کیا وجوہات ہو سکتے ہیں ؟
ناجی صاحب…. اس کے لیے آج کے اُساتذہ کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ آج کل کے اساتذہ صاحبان اس لگن اور محنت سے کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی یہ اساتذہ نئی پود کو شاعری کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج کل کے بچوں میں شاعری کا رجحان کچھ زیادہ نہیں پایا جاتا ہے اور شاعری کے تئیں بچوں کا شغف کم ہوتا جا رہا ہے ۔
سبزار احمد.. آپ کس شاعر سے متاثر ہیں ؟
ناجی صاحب… میں مختلف وقتوں میں مختلف شاعروں سے متاثر رہا۔ پہلے اقبال سے پھر غالب سے۔ میں اپنے گاؤں کے کشمیری شاعر جناب امین کامل سے بھی کسی حد تک متاثر رہا۔
سبزار احمد… ناجی صاحب آپ چونکہ کشمیری زبان کے شاعر ہیں کشمیری زبان کا مستقبل کیا ہے آپ کی نظر میں ؟
ناجی صاحب… دیکھے جس طرح سے لوگوں نے اپنے بچوں کو باقی زبانیں سکھائیں اور کشمیری زبان کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی اس زبان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے کشمیری لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم کشمیری ہیں ۔جب تک ہماری زبان ہے تب تک ہمارا وجود ہے ۔باقی زبانیں سیکھنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ہاں مگر اپنی مادری زبان کو کمتر سمجھنا نہایت ہی کم عقلی ہے ۔
سبزار احمد…. کیا آپ نے کشمیری زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں بھی شعر لکھے ہیں؟
ناجی صاحب… اردو میں شعر لکھنے کی کوشش کی تھی لیکن زیادہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
سبزار احمد بٹ.. آپ کے کام کو الفاظ میں نہیں سمیٹا جا سکتا ہے لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ادب کیلئے کیا کام کیا ہے ؟
ناجی صاحب… میں نے کئی کتابیں چھاپ کی ہیں جو اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں۔ جن میں کاشر ادبُک تواریخ، پُرسان، پوز تئہ پزِ،شُرن ہُند ناجی، ناگ راد، کینگ لیر( ترجمہ) کلیات محمود گامی، گرایہ پوت ژاین ہینز، کاشر گرامر وغیرہ وغیرہ
سبزار احمد.. آپ کے پہلے شعری مجموعے کا نام کیا ہے؟
ناجی صاحب…. میرا پہلا شعری مجموعہ( ناگراد )ہے یہ کتاب کو دو بار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے مقابلے میں آئی لیکن اس کا انتخاب اس ایوارڈ کے لیے نہ ہو سکا ۔
سبزار احمد.. ناجی صاحب آپ کی نظر میں شاعری کیا ہے
ناجی صاحب…. دیکھا جائے تو ہر شخص اپنے آپ میں شاعر ہے کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ گنگناتا رہتا ہے اور ہر ایک کو دکھ درد ہوتا ہے اسی گنگناہٹ اور دکھ درد کو الفاظ کی شکل دینا شاعری ہے
سبزار احمد…ناجی صاحب آپ کو تب اور اب میں کیا فرق نظر آرہا ہے ۔
ناجی صاحب…. دیکھے میرے زمانے کے لوگ ایک دوسرے سے محبت اور ہمدردی کرتے تھے ۔ملنسار تھے ۔جبکہ آجکل کے لوگ مادیت پرست ہونے کے ساتھ ساتھ انا پرست اور خودغرض بھی ہیں۔ آجکل کا انسان ہر چیز میں اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور کچھ نہیں۔
سبزار احمد.. آپ چونکہ (بطور استاد) سبکدوش ہو چکے ہیں آجکل کیا مصروفیات ہیں
ناجی صاحب… آجکل میں شیخ العالم پر کام کر رہا ہوں اور ان کی کلیات ترتیب دے رہا ہوں ۔
سبزار احمد… ناجی صاحب آپ کشمیر قوم یا یہاں کے نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
ناجی صاحب… میں یہیں گزارش کرنا چاہوں گا ہمیں شعروادب سے خود بھی جڑنا چاہیے اور اپنے بچوں میں بھی شعروادب خاص کر کشمیری شعروادب کا شغف پیدا کرنا چاہیے اور اپنی زبان و ادب کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ ہم فخر سے کہہ سکیں کہ ہم کشمیری ہیں ۔
سبزار احمد…. ناجی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہم سے بات کی۔
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں