غزل
خلیل مہر رازی
ہر انسان ہی دِکھنے میں تو ایک ہی جیسا لگتا ہے
ایک ہی چہرہ پھر کیوں رازی سب سے پیارا لگتا ہے؟
ایسے پُر یقیں رہتا ہے اُس کا لہجہ، اُس کا چہرہ
اب وہ جھوٹ بھی بولتا ہے تو سب سے سچا لگتا ہے
دونوں نے ایسے اپنائی ہے اک دوجے کی خصلت
اب تو کتے کا بچہ بھی انسانوں کا بچہ لگتا ہے
اس دنیا کے انسانوں میں ڈھونڈتا ہے جو سچا پیار
سچ پوچھو وہ ذہن سے عاری، عقل کا مارا لگتا ہے
پہلے تیرا ہر اک وعدہ مجھے ایمان بھرا تیقن تھا
اب تیرا ہر وعدہ مجھے تجھ سے بھی جھوٹا لگتا ہے
جب کوئی اپنا پیٹھ تھپک کر پیار سے ہیلو کہتا ہے
سچ کہتا ہوں اک عرصے تک بے حد اچھا لگتا ہے
میں نے رازی پل بھر میں انساں کو بدلتے دیکھا ہے
اب تو کوئی پیار سے بولے وہ بھی دھوکا لگتا ہے
