طالب علم کے فرائض 2,685

طالب علم کے فرائض

سہیل احمد بٹ
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
طالب علمی کا دور انسان کی زندگی کا خوبصورت اور اہم ترین دور ہوتا ہے۔ یہ دور طے کرتا ہے کہ طالب علم کی آنے والی زندگی کس طرح گزرے گی اگر طالب علم اچھے راستے پر چلتا ہے تو اس کا آنے والا کل اچھا اور خوبصورت ہوگا اس کے برعکس اگر وہ غلط راستے پر گامزن ہوا تو اس کا نتیجہ اس کو جلد ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ ہر طالب علم پر کچھ فرایض ہوتے ہیں طالب علم کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا فرض ہے کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرے۔ طالب علم کی اولین ذمہ داری ایمانداری سے اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرنا ہے اور تعلیم سے آراستہ ہوکر اپنی کردار سازی بھی کرنی ہے اور صحیح اور غلط میں فرق کرنا بھی سیکھنا ہے۔ طالب علم کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ اپنے ساتھ وفادار رہے، وقت کی قدر کرے خدا نے اسے جو رحمت وقت کی صورت میں عطا فرمائی ہے اسے صحیح طور پر استعمال کرے جو طالب علم وقت کی قدر نہیں کرتا وہ ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ اس کے علاوہ طالب علم کو چاہے کہ وہ دوسروں کی عزت کرے اور ہر چھوٹے بڑے انسان سے عزت اور پیار سے پیش آیے۔ طالب علم کا حق ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرے اور انکی ہر نیک اور جایز بات مانیں اور اس پر عمل کرے اس کے علاوہ بزرگوں کی عزت کرے اور ان سے دعائیں حاصل کرے، غریبوں اور حاجت مندوں کی مدد کریں۔
طلباء کو چاہے کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنی پڑھائی کی طرف دے تاکہ وہ ایک اچھے اور کامیاب انسان بنے اور غلط کاموں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جب اسکول جاتے بچے اپنا قیمتی وقت باغوں اور عشق و عاشقی میں ضائع کرینگے تو ہم ان سے یہ امیدیں کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ کل کے اچھے Doctors، engineers، proffosers , اور good administrators اور خاص کر اچھے انسان بنیں گے۔
اس کے علاوہ طالب علم کا سب سے بڑا فرض ہے کہ استاد کی عزت کرے کیونکہ ایک استاد کے بغیر طالب علم ایک زندہ لاش کی طرح ہے۔ بغیر استاد کے طالب علم کے کوئی معنی نہیں۔امام‌ غزالی کے بقول استاد کا حق والدین سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے کہ والدین اس کو فانی دنیا میں وجود میں لانے کا سبب اور ذریعہ بنتے ہیں جبکہ استاد دائمی اور ابدی زندگی کی کامیابی کا ذریعہ اور سبب ہوتا ہے۔
علامہ اقبال نے بھی طلباء کو خوب پیغام دیے ہیں”بانگ درا” میں شامل نظم “طلبا علی گڑھ” جو اقبال نے یورپ سے واپس آنے کے بعد لکھی اس میں انہوں نے خاص کر طلباء کے لئے پیغام دیا ہے کہ تعلیم کو دلچسپ اور انسان دوستی کو بہتر بنانا چاہیے۔ علامہ اقبال کہتے تھے کہ جس کا جو پیغام ہو میرا پیغام انسان میں خاص کر طلباء میں خودی کو بیدار کرنا ہے۔
آوروں کا پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے درد منہ کا طرز کلام اور ہے
لہذا ایک طالب علم کو محنت شاقہ اور مستقل مزاجی سے کام لینا چاہیے اور اس راستے میں جتنے بھی مصاہب و تکالیف سے سامنا ہو جائے ان سب کا ہمت شاہین رکھ کر خوش مزاجی ، بہادری سے مقابلہ کرنا چاہیے تب جاکے وہ زندگی کے اعلی منصب پر فائز ہوگا۔اور ایک طالبِ علم کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ ندامت اور خوش مزاجی سے کام لے تاکہ اسکی صحبت کا اثر انکے آس پاس کے ماحول پر اچھا پڑے وہ کہتے ہیں نا کہ ایک اچھے انسان کی پہچان اُسکے کردار سے ہوتی ہے۔جب کردار اعلیٰ ہوگا تو ایک انسان کی زندگی کا معیار حسین اور پُر اثر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین یا رب العالمین۔
تحریر:- سہیل احمد بٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں