کمر دردوجوہات،علامات ، علاج، احتیاطی تدابیر 66

کمر دردوجوہات،علامات ، علاج، احتیاطی تدابیر

ڈاکٹر نذیر مشتاق

lزبیدہ بیگم نے جلدی سے جھک کرپانی سے بھری بالٹی اُٹھائی تو اچانک اُس کے منہ سے چیخ نکل گئی ’’ہائے میری کمر ‘‘ کیوں کہ اس کی کمر میں درد کی ایک ناقابل برداشت لہر اُٹھی۔ وہ درد سے کراہنے لگی اور فرش پر لیٹ گئی۔اس کے شوہر نے الماری میں سے ایک ’’ٹیوب‘‘ نکالا (جو اْس نے ٹی وی پردیکھاتھا) اور اپنی شریک حیات کے کمر کی مالش کرنے لگا۔
lچالیس سالہ تاجر محمد انور چھ برسوں سے کمر درد کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہاہے۔ اْس نے شہر کے سبھی ہڈیوں او رجوڑوں کے ماہرین کے علاوہ نیم حکیموں ، دوافروشوں اور ’’پیرفقیروں ‘‘ سے علاج کروایا مگر کمر درد اس کا پیچھا چھوڑنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔
lاٹھائیس سالہ محمد سلیم ایک سرکاری محکمہ میں کلرک ہے، اس کی شادی ایک ماہ بعد ہونے والی ہے مگر وہ اچانک کمر درد کا شکارہوا۔ڈھیر ساری ادویات کااستعمال کرنے کے باوجود کمر درد اُسے دن رات تڑپارہاہے۔
lشازیہ (عمر پچیس سال) ایک متوسط گھرانے کی بہو ہے۔ ایک برس سے وہ کمردرد کی شکار ہے۔ گھروالوں اور معالجین کی سمجھ میں یہ نہیں آرہاہے کہ سبھی ٹیسٹ حتیٰ کہ ایم آرآئی نارمل ہونے کے باوجود بھی شازیہ کا ’’کمر درد ٹھیک کیوں نہیں ہوتا ‘‘۔
کوئی بھی فرد ایسا نہ ہوگاجس نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر سردرد کی طرح کمردرد کا مزہ نہ چکھا ہوگا۔ ہمارے ہاں ہرتیسرا مریض کمر درد کی شکایت کرتاہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ہمارے سماج میں کمر درد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں صحت مند ، سیدھی اور مضبوط کمر،مردانگی ،جوانی اور ’’طاقت ‘‘کی علامت ہے۔کمر کی کمزوری کو نامردی یا بڑھاپے سے تعبیر کیا جاتاہے۔ کمر کو جسم اور زندگی کا سہار ابھی سمجھا جاتا ہے۔ بوڑھے والدین ، نوجوان اولاد کو اپنی کمر سمجھتے ہیں۔ اگر اولاد ناخلف ، رو گردان ،باغی یا ’’جواں مرگ‘‘ ہو تو والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اکثر عورتیں شوہروں کو اپنا ’’ڈوکھ‘‘ (کمر)سمجھتی ہیں… بہرحال اگر آپ زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں ہیں تو آپ کمر درد سے ضرور آشنا ہوں گے۔ ایک تحقیق کے مطابق 90فیصد لوگوں کو اپنی پوری زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پرکمردرد کے ساتھ نبر دآزما ہوناپڑتا ہے۔ ماہرین کے ایک اندازہ کے مطابق 85فیصد مریضوں میں کمردرد کی بنیادی وجہ مشخص نہیں ہوتی ہے۔ بعض معالجین کی رائے ہے کہ 80فیصد مریضوں میں کمردرد کی وجہ کوئی نفسیاتی یا جذباتی مسئلہ ہوتاہے۔ کمردرد میں مبتلا مریضوں میں سے صرف دو فیصد کو سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔ دورِ حاضر ہ میں کمر کی سرجری میں اتنی پیش رفت ہوئی ہے کہ ٹوٹے ہوئے مہروں کی جگہ نئے مہرے فِٹ کئے جاسکتے ہیں اور مریض ایک نارمل زندگی گذارنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ کمر درد کے شکار مریضوں کو علاج ومعالجہ کے لئے نہ صرف بھاری رقومات صرف کرنا پڑتی ہیں بلکہ وہ ایک فعال زندگی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں کمر درد میں مبتلا مریض ہر دوسرے تیسرے دن معالج بدلتے ہیں کیونکہ وہ درد سے فوری نجات چاہتے ہیں۔ اکثر معالجین مریضوںکے لئے صرف ضد درد ادویات تجویز کرتے ہیں ، وہ انہیںدرد کی بنیادی وجہ نہیں سمجھاتے ہیں۔ بے چارہ مریض اپنے درد سے ناآشنا ہوتاہے ، وہ درد کی اصلی اور بنیادی وجہ سے ناواقف ہوتاہے۔ یہاں کمردرد کے ہرمریض سے صرف یہ کہاجاتاہے کہ ’’اُسے ڈِسک ہے ، اور جلدبازی میں ادویات تجویز کرکے اسے ’’سرگرم ‘‘ رکھا جاتاہے۔اکثر مریض ڈاکٹری مطبوں ، ہسپتالوں ، نرسنگ ہو موں ،نیم حکیموں، نقلی پیروں فقیروں یا اشتہاری ڈاکٹروں کے پاس حاضری دے دے کر تھک جاتے ہیں او رپھر وہ درد کو شریک ِحیات سمجھ کراس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔
کمر کو جسم میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ریڑھ کی ہڈی (یعنی کمر)33مہروں سے بنی ہوئی ہے۔ اِ ن مہروں کے درمیان ’’ڈسکس‘‘(Discs) ہوتی ہیں جو مہروں کے درمیان ’’شاکِ ابزاربر‘‘ کا کام دیتی ہے۔ ان کی موجودگی سے کمر کے مہرے لچکدار ہوتے ہیں۔ ان مہروں کو مضبوط رباط ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں ، وَتروں کے ذریعہ عضلات مہروں سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر مہروں کے درمیان ڈسکس نہ ہوتے ہو ں تو انسان حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ قدرت نے 33مہرے نہایت ہی ہْنر سے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ ہر مہرہ کے وسط اور اطراف میں سوراخ ہوتے ہیں ، وسطی سوراخ بڑا ہوتاہے اس میں سے سپائینل کا رڈ گذرتاہے ، اطراف کے سوراخوں میں سے باریک نسیں گذرتی ہیں جو جسم کے حصوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔پورے کمر(ریڑھ کی ہڈی)کی کارکردگی میں ہڈیاں ، عضلات ، رباط ، وَتر اور نسیں سب بہت ہی اہم ہیں۔ یہ سب مل جل کر کمر کو اس قابل بناتے ہیں کو یہ پورے جسم کا (اور بسااوقات اضافی) بوجھ سہن کرسکتاہے۔ ایک طرف قدرت نے انسان کے جسم میں کمر کو بہت مضبوط اور لچکدار بنایا ہے لیکن دوسری طرف کمر کے کسی جز کو معمولی نقصان پہنچنے سے درد شروع ہوتاہے۔کمردرد ریڑھ کی ہڈی میں کہیں سے بھی ،کسی بھی حصے میں ظاہر ہوسکتا ہے۔کمرکواناٹومی کے حساب سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بالائی ،وسطی اور پائینی(یعنی اوپر والا ، بیچ والا اور نچلاحصہ)۔ سب سے نچلا حصہ (جسے لمبر حصہ کہاجاتاہے)اکثر درد کا شکا رہوجاتاہے کیوںکہ یہی وہ حصہ ہے جس پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتاہے۔
کمر درد کے وجوہات:
Tغلط انداز میں بیٹھنا، اْٹھنا ،جھکنا او رسونا۔
Tحرکات میں بے اعتدالی ، غلط طریقے سے وزن اْٹھانا ، سر پر روزانہ حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا۔
Tموٹاپا…(نارمل سے زیادہ وزن)۔
Tکسی حادثہ میں کوئی چوٹ۔
Tدورانِ حمل
Tمہروں کے درمیان ڈِسک کا پھسلنا۔
Tکمر کے نچلے حصے میں موچ۔
Tجوڑوں کی بیماری۔
Tاوسٹیوآرتھرائٹس۔
Tریح ہار۔
Tاوسٹیو پوروسس۔
Tجلد کی بیماری۔سوریسز (Psoriasis)۔
Tجنسی بیماری آتشک۔
Tجنم سے ہی ریڑھ کی ہڈی میں نقص۔
Tجراحی کے بعد (کوئی پیچیدگی)۔
Tعمر رسیدگی (بڑھاپا)۔

Tٹیومر (سرطانی یا غیر سرطانی)۔
Tکسی دوسرے عضو سے سرایت کردہ ٹیومر۔
Tپروسٹیٹ
Tپستان
Tپھیپھڑے
Tگردے
T تھائرائڈ
T نظامِ ہاضمہ کے ٹیومر
Tانفیکشن(حادیا مزمن)
Tہڈی کی عفونت (طویل مدتی)۔
Tڈسک کے بیچ میں انفیکشن۔
Tجراثیمی یا پھپھوندی انفیکسن۔
Tٹی بی۔
Tمادرزادی نقائص۔
Tہڈیوں کی کمزوری۔
T کیلشیم ، فاسفورس، وٹامن ڈی کی کمی۔
Tپیٹ کے عقبی حصے میں کوئی ٹیومر۔
Tگردوں کی بیماریاں۔
Tانفیکشن (پیشاب کا خراب ہونا)۔
Tگردوں میں پتھری۔
Tگردوں کی رسولیاں یا ان کے ٹیومر۔
Tپیٹ کی بیماریاں۔
Tانتڑیوں کی دیرینہ بیماری۔
Tلبلبہ کی بیماریاں(سرطانی وغیر سرطانی)۔
عورتوں میں
Tماہواری میں بے قاعدگی۔
Tبچہ دانی کی بیماریاں۔
Tبیضہ دانیوں کے ٹیومر۔
Tڈپریشن۔
Tپریشانی، ذہنی دبائو۔
Tنفسیاتی مسائل۔
Tغیر فعال (بے کار)زندگی۔
T باقاعدہ ورزش نہ کرنا۔
Tہسٹیریا(Hysteria)۔
Tبہانہ بازی۔
Tکوئی وجہ نہیں۔
Tغیر مشخص شدہ۔
سوال یہ ہے کہ ٓخر کمر درد عام لوگوں میں کیوں ایک عام شکایت ہے ؟ ماہرین کاماننا ہے کہ کمر درد بنی نوع انسان کا اْس وقت سے پیچھا کررہاہے جس وقت سے اُس نے دو ٹانگوں پر چلنا شروع کیا اور اپنے پورے جسم کا بوجھ کمر کے نچلے حصے پر ڈال دیا۔ کمردرد کے وجوہات کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن جو لوگ موٹاپا کے شکار ہوتے ہیں ، باقاعدہ ورزش نہیں کرتے ہیں اور نفسیاتی وذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ان میں اس درد کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جنسی کمزوری ، نامردی او رجنسی مسائل کا سامنا کرنے والے اکثر نوجوان کمر درد کی شکایت کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نامردی اور دیگر جنسی مسائل کا کمر درد کے ساتھ کوئی بھی ربط نہیں ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں نیم حکیم اور غیر سند یافتہ ،نقلی ڈاکٹروں کے مشوروں سے یہ بات ’’گھر کرگئی ہے‘‘ کہ سیکس اور کمر درد کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ واضح رہے کہ سیکس او رکمردرد کے درمیان کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔
اس مضمون کے آغاز میں جن چار مریضوں کا ذکرکیا گیا۔ ان میں پہلی خاتون زبیدہ بیگم کے کمردرد کی وجہ یہ تھی کہ اُس نے غلط طریقے سے بوجھ(بالٹی )اُٹھایا تھا۔ دوسرا مریض محمد انور جو چھ برسوں سے کمر درد میں مبتلا ہے۔ اس کا درد ٹھیک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ معالجین نے اس کے ساتھ کبھی تفصیلی گفتگو نہیں کی تھی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس کی کمر میں درد کب سے شروع ہوا تو اس نے جھٹ سے جواب دیا ’’جس دن میرا بیٹا شہید ہوگیا‘‘ یعنی اس نے بیٹے کے فوت ہونے کو اپنی کمر ٹوٹنے سے تعبیر کیا تھا۔ اب بھلا ضدِ درد دوائیاں کیسے اس کے درد کا مداوا ہوسکتی ہیں۔ تیسرا مریض محمد سلیم نامردی کا شکار ہے اور وہ شادی سے انکار کرنے کے بارے میں سوچتے سوچتے اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی کمر کمزور ہوگئی ہے اور وہ شادی سے دو ربھاگنے کے لئے کمردرد کا سہارا لے رہاہے۔ اب ایسے مریض کوعمر بھر بھی ضدِ دردادویات دی جائیں تو کیا اسے درد سے چھٹکارا مل سکتاہے۔
اسی طرح شازیہ اپنے سسرال والوں کے درمیان رہ کر خوش نہیں ہے اور وہ گھرکے روزمرہ کاموں میں دلچسپی نہیں لے سکتی ہے اس لئے اس نے لاشعوری طور کمر درد کا بہانہ کیا۔ وہ نفسیاتی مریض ہے اور کمر درد اس کے مرض کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔اس لئے اس کی سبھی ٹیسٹ (حتیٰ کہ ایم آرآئی)بھی نارمل ہیں۔ اس کے کمر میں درد ضرور ہے مگر وجہ اس کے ذہن میں ہے۔
ان مریضوں کی ہسٹری سے صاف ظاہرہے کہ کمر درد کی وجہ ، کمر کی بجائے جسم کے کسی اور حصے میں بھی ہوسکتی ہے۔ شاید اس لئے کمر درد کی اصلی اور بنیادی وجہ جاننے کے لئے مریض اور معالج کے درمیان ایک گہرے رشتے کا ہونالازمی ہے۔ اکثر مریضوں کو ادویات کے علاوہ سائیکوتھراپی یا مشاورت کی ضرورت پڑتی ہے۔
علاج:
کمردرد کا علاج صرف اْس صورت میں ممکن ہے جب ڈاکٹر مریض کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرے اور مریض کی زندگی کے ہر گوشہ میں جھانکنے کی کوشش کرے اور پھر درد کی بنیادی وجہ تلاش کرکے اس ’’وجہ ‘‘ کا علاج کرے۔ کمر درد میں مبتلا مریضوں کو خون پیشاب ، فضلہ کے سبھی آزمائشات انجام دینے پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں الٹراسونوگرافی ، ایکسرے ،سی ٹی سکین ، ایم آر آئی جیسے ٹیسٹس(tests) کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔
llll

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں