تحریر::: چودھری قاضی نثار چہیچی
تعصیل:::کیلر ۔۔۔۔ ضلع شوپیان
فون نمبر 7006816440
ولو باغس آو نُو بہار ویسیٕ یے
نیٕر چھا ونہٕ گل تہٕ گلزار ویسیٕ یےٕ
برصغیر ہندو پاک میں دو ہی ایسے علاقے ہیں جہاں کشمیری زبان بولی جاتی ہے.لیکن بطور رابطے کی زبان اردو ہی ہےاگر چہ ہم کشمیریوں کی مادری زبان اردو نہیں ہے.لیکن ہم نے اس زبان کو پھُولنے اور پھَلنے میں ہر ممّکن کوشش کی۔ اس سے سیکھا اور آنی والی نسلوں کو سیکھارہے ہیں۔اگر دیکھا جائے آج کل کشمیر کے ادیب اور دانشور نہ صرف کشمیری زبان کی آبیاری کررہے ہیں۔بلکہ کشمیری کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی ادب تخلیق کررہے ہیں. اس سے نہ صرف کشمیرمیں اردو اور کشمیری زبان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔بلکہ نوجوانوں کو اس کے ذریعہ روزگار بھی فرہم ہورہے ہیں۔ کشمیر میں ایسے بہت سارے مایہ ناز ادیب ودانشور موجود ہیں۔ جنہوں نے ان دونوں زبانوں کے ادب کو فروغ دیا۔چاہیے وہ نثری ادب یا نظمی ادب۔ان ہی مایہ ناز ہستیوں کی فہرست میں شاعر کشمیر” غلام آحمد مہجور“بھی شامل ہے جس نے بہت لگن اور محنت سے کشمیری کے ساتھ ساتھ اردو کی بھی آبیاری کرنے میں کو قصر باقی نہ چھوڑی۔ جہاں تک آپ کا تعلق ہےآپ کشمیر کے ایک پیر زادہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
.آپ١٣٠٥ھ بمطابق١٨٨٨عہ کو متری گام پلوامہ میں توالد ہوئے گھر کا ماحول علم کی روشنی سے پر نور تھا۔جس کی وجہ سے آپ کی تعلیم گھر پر ہی ہوی۔ پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے.١١”گیارہ“ سال کی عمر میں ١٨٩٨عہ میں ترال جاکے عاشق ترالی سےحاصل کی۔ جو اپنے دور کے بہت بڑے بڑے عالم ،شاعر، مفّکر ،اور دانشور تصور کے جاتے تھے۔ جس کا اثر سیدھے مہجور پر پڑا. عاشق ترالی کی رہبری نے مہجور کو صاحب علم بنانے کے ساتھ ساتھ ایک شاعربھی بھی بنادیا۔جس سےمہجور پوری جمّوں و کشمیر میں ایک درخشاں ستارے کی طرح چمکتے ہوے نظر آرہے ہیں۔
شاعری خداوند کریم کی طرف سے ایک انمول تعفہ ہوتا ہے۔ جو صرف چند گنے چُنے لوگوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے اس قیمتی تعفے کے اثار مہجور کے اندر موجود تھے۔جو ایک فطرتی شاعر کے اندر ہونے چاہیے۔ آپ نے اپنی شاعری کا آغاز١٩٠٥عہ ایک دوست کو خط لکھنے سے کیا۔مہجور اُن شاعروں کی فہرست میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔جب ہم مہجور کی حالات زندگی کی ورق گردانی کرتے ہیں۔ تو یہ بات وہاں پر عیاں ہوجاتی کہ ١٩١١عہ سے پہلے مہجور کو شاعری سے اتنی دلچسپی نہیں تھی.ناجی منور اور شیفی شوق اپنی ایک کتاب”کأشُر زبان تہٕ ادبُک تواریخ“میں یوں رقمطراز ہیں۔ کہ مہجور نے ١٩١١عہ میں ایک مثنوی ”پھاپھا کٹنی“لکھ کر کشمیری میں لکھنے کا تجزیہ کیا۔اس مثنوی کا واقع اس نے الف لیلٰی سے لیا ہے۔اس سے پہلے آپ کو کشمیری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ناجی منّور اور شیفی شوق کے اس اقتباس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ مہجور نے کشمیری شاعری کی شروعات اسی مثنوی سے کی ہے.
اب جہاں تک مہجور کی اردو شاعری کا تعلق ہے.انہوں نے اردو شاعری کی شروعات ایک مشاعرے سے کی۔جو کہ ایک انجمن ” بزم ادب“کی طرف سے لدھیانہ میں قایم کیا گیا تھا۔ اس مشاعرے میں مہجور نے نو اشعار کی غزل سنائی ۔جس سےآپ کو بہت ہی داد ملی تھی۔ اسی غزل کا ایک اشعار ملاحظہٕ فرمایے
”اُجڑے غاروں میں رہا کرتے ہیں رہزن چھپ کے دل مضطر ہی میں دلبر کا قیام آچھا ہے“
جموں وکشمیر میں اردو اور کشمیری شاعری کے حوالے سے مہجور کا اپنا ایک الگ اور منفرداندزتھا۔جو اپنے دور میں دوسروں سے نہیں ملتا جلتا تھا۔جہاں تک اردو اور کشمیری شاعری کےنئےامکانات سے روشناس کروانے کا تعلق ہے اس فریضہ کوبھی مہجور نے ہی بڑی ہنر مندی سے انجام دیا۔اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ مہجور علامہ اقبالؒ سے بے حد متاثر تھے۔جس طرح علامہ اقبالؒ کی شاعری میں حُب الوطنی،قومی بیداری ،کاینات کے کے حُسن کی تصور کشی ملتی۔بلکل اسی طرح مہجور کی شاعری میں کشمیر کے باغوں، چمنوں، دریاوں اور سبزاروں کے علاوہ قوم کو بیدار کرنےکی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مہجور نے باغِ نشاط میں بیٹھ کر ایک اردو غزل لکھی جس کے چند اشعار یہ ہیں۔
اب کے آیا موسم گُل لے کے پیغامِ نشاط
عید ہے،نوروز ہے حولی ہے انجام نشاط آنکھ نرگس کی کُھلی سُنبل نےزلفیں کھول دی
ہے گُل بادام مست لذت جام نشاط
اسی طرح دوسری جگہ باغ نشاط کے بارے میں یوں رقمطراز ہے۔۔
آگُلِ گلشنِ نشاط۔۔۔کھول دے نازکی کی بساط شوق سے مُسکراتے آ۔۔۔لعل و گوہر لُٹاتے آ۔۔
باغ میں تم کیا آگے۔۔۔بُوسے سمن نے لے لیے۔۔۔
جس طرح آپ نے اردو شاعری میں کشمیر کے حُسن کی تصور کشی کھنچی ہے۔بلکل اِسی طرح آپ کی کشمیری شاعری میں بھی وہی جھلک دیکنھے کو ملتی ہے۔ اب آپ مہجور کے کشمیری زبان کےچند اشعار ملاحظہٕ فرمایے۔۔
باغ نشاطہٕ کہٕ گُلو۔۔۔ناز کران کران وَلُو
خَندٕ کَران کَران والو
مُوختہٕ ہَران ہَران وَلو
ژأکھٕ ژٕ یأم درچمن۔۔۔بُوسہٕ کرےٕ ژئےکُوسمَن
شُوق چُھ یمبرٕ زلن
کھأسیٕ بران بران ولو
سیرِڈلُک ژٕ وُچھٕ بہار۔۔۔باغہٕ نشاط وشالمار
چشمہٕ زٕ تھاومےٕ تیار
تأر تَران تَران ولو
سنگِ دلا ستمگرا۔۔۔۔رحم ژٕے چُھے نہٕ اکھ ذَرا
زایہٕ گیَّس بہٕ سُوندرا
مانے بَران بَران وَلو
نہ صرف کشمیر کی خوبصورتی مہجور کی اردو اور کشمیری شاعری میں ملتی ہےاس کے علاوہ بھای چارہ، اپسی اتفاق ، حبُ الوطنی،قومی بیداری اور نوجوانوں کے لیے پندونصیحت جیسے خیالات بھی مہجور نے اپنی شاعری کے ذریعے قاری تک پہنچانے کی کوشش کی مختصرً ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ مہجور اپنے دور کے قداور شاعر گزرے ہیں جو آنی والی نسل کے لیے راہ مشعل ہے۔۔۔
