نہیں اسے ہے پرواہ زمانے کی 98

نہیں اسے ہے پرواہ زمانے کی

غزل

گل تنویر بانڈی پورہ

نہیں اسے ہے پرواہ زمانے کی
مگر مجھے ہے پرواہ دیوانے کی
فرق جانتا ہے سفید و سیاہ کی
مگر لت پڑی ہے میخانے کی
پروانے کو مقدر ہے جلنے کی
شمع کو عادت ہے رلانے کی
یہاں کسی کو کسی کی نہ پرواہ
دلوں میں ہے آگ لگانے کی
کچھ نہ پوچھ زمانے کا حال یارو
زمانہ کو پرکھ تو ہے پیمانے کی
دوستی بھی اب تجارت سی ہے
دشمنوں کو ضرورت بہانے کی
قیس جیسی سہی زنجیریں تنویر
یہ بھید ہے اپنے فسانے کی
گل تنویر بانڈی پورہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں