نالہ شب کہاں سے اُٹھتا ہے 64

عالمِ آب و تاب میں یارو

غزل

یاورؔ حبیب ڈار۔۔۔۔ہندوارہ

عالمِ آب و تاب میں یارو
اپنی صورت نَظر نہیں آتی
زندگی تیری آس کس کو ہے
تیری شامت کِدھر نہیں آتی
ہیں نگاہیں ٹِکی مری کب سے
لوٹ کے کیوں وہ گھر نہیں آتی
زندگی کا یہی وسیلہ ہے
راحتِ جان پھر نہیں آتی
جان جاتی رہی مری ورنہ
وہ تو ہر گز اِدھر نہیں آتی
اک کمی بود و باش کی ورنہ
میری یہ آنکھ بھر نہیں آتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں