معشوق کی محفل میں کہئے وہ حالِ پریشاں کیسے ہیں 100

معشوق کی محفل میں کہئے وہ حالِ پریشاں کیسے ہیں

غزل

اشرف بابا

معشوق کی محفل میں کہئے وہ حالِ پریشاں کیسے ہیں
جوعشق میں جل کر خاک ہوئے وہ چاک گریبان کیسے ہیں

رسموں سے لیکر قسموں تک جو ساتھ نبھاتے آئے ہیں
جو دل کی رونق بن بیٹھے راحت کا وه ساماں کیسے ہیں

وه قاصد میرا خط میرے دشمن کو جا کر دیتا ہے
میں سوچوں میری حالت سے اب تک وه انجاں کیسے ہیں

اس شہر خموشاں میں آکر میں دیکھنے آیا ہوں اسکو
اے حسن کی دنیا کے راجہ آقائے غلاماں کیسے ہیں

آرام کو چھوڑ کے اشرف تم صحرا صحرا کیوں پھرتے ہو
باغوں میں جاکر دیکھو تو وہ رشکِ بہاراں کیسے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں