پرویز مانوس
وحشت کی چلی صر صر شبیر کی بستی میں
محشر تھا بپا گھر گھر شبیر کی بستی میں
نرغے میں لعینوں کے جب حضرتِ زینب تھیں
سہمی تھی ہر ایک دُختر شبیر کی بستی میں
لشکر میں یزیدوں کے ہلچل سی مچی نکلے
عباس علم لے کر شبیر کی بستی
اصغر کا دہن چھونے مچلی تھی لہر لیکن
پہرہ تھا کنارے پر شبیر کی بستی میں
بے نُور ہوا عالم اقدامِ یزیدی پر
سُورج کا کٹا جب سر شبیر کی بستی میں
ہر پُھول تھا افسُردہ لرزا تھا فلک جس دم
قربان ہوئے اصغر شبیر کی بستی میں
دی تھی جو صدا تُونے اے ابنِ علی حق کی
گونجے ہے وہی اکثر شبیر کی بستی میں
دعویٰ تو حُسینی کا کرتے ہیں سبھی لیکن
کُھلتا ہے فقط یہ درشبیر کی بستی میں
مانوس یزیدیوں بکی بیت نہ کبھی کرنا
یہ جان بھی جائے گر شبیر کی بستی میں
