ہمارے سامنے جب روضۂ خیر الورٰی ہوگا 76

سلام

محمد زاہد رضا بنارسی

ہم کو ملی ہے دیں کی جو تابندگی حسین
موجود اس میں آپ کی ہے روشنی حسین
جس شخص کو بھی آپ سے نسبت ہوئی حسین
قسمت میں اس کے خلد بریں لکھ گئی حسین
ان جانثاروں کو ہے ہمارا سلام شوق
کربل میں جن سے دین کی عزت بچی حسین
پیاسے تھے پھر بھی کوئی توجہ نہ دی ادھر
دریا نے دیکھی آپ کی دریا دلی حسین
بیشک وہاں پہ بارش انوار ہوگئی
جس جا بھی بزم پاک سجی آپ کی حسین
گرنے نہیں دی آپ نے دیوار صبر کی
گرچہ شدید ظلم کی آندھی چلی حسین
یہ الحسین مِنّی سے زاہد ہے آشکار
قاتل ہیں جو بھی آپ کے ہیں دوزخی حسین
محمد زاہد رضا بنارسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں