غلام نبی پروانہ
“یو نو نہ تھنگ۔You Know Nothing۔۔۔ تمہیں کچھ لکھنا وکھنا نہیں آتا تم صرف کسی مضمون کے کی۔۔کا۔۔املا ۔اور زمان و مکان میں پھنسے رہتے ہو میں کوئی ایرا غیرا نتھو کھیرا نہیں ہوں تم سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں اور ایک موقر اخبار کا ایڈیٹر ہوں اگر اردو زبان پر قدرت رکھنے کا دعوٰی ہے تو ہمت کرو کچھ لکھنے کی اور مجھے بھیجنے کی پھر دیکھو میں تمہارے لکھنے میں کتنی غلطیاں نکال لیتا ہوں”وغیرہ وغیرہ میرے فون پر اگلی طرف سے ان الفاظ کی ‘نان سٹاپ” گونج نے مجھے ہکا بکا کر دیا تھا اور اس سے پہلے کہ میں اپنے بچاو میں اپنے، محسن “کالر” سے اپنے بچاو میں اپنی نحیف سی آواز میں کچھ کہنے کی جسارت کرتا مذکورہ آواز میں پائی جانے والی تلخی ‘بھاری پن اور مجھے مرعوب کرنے کے لیے غراہٹ کی گونج میں میری آواز دب جاتی تھی۔دراصل میں نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے فون کے آڈئیو :audio: کو گاڑی میں لگے ریڈیو کے سپیکر کے ساتھ جوڈ رکھا تھا تاکہ گاڑی چلاتے ہوئے فون کرنے کے جرم میں میں ملزم ٹھہرا کر دھر نہ لیا جاؤں ۔ہوسکتا ہے کہ مذکورہ ایڈیٹر صاحب کی آواز میرے کانوں کے لیے اس قدر تکلیف دہ اور غیر مناسب نہیں ہوتی جس قدر اس آواز کو میری گاڑی میں لگے سپیکر نے بنادیا۔ میری گاڑی میں اس وقت میرے علاوہ چار اور افراد سفر کر رہے تھے جن میں سے دو میرے بیٹے ہیں اور دو بس راہ چلتے لوگ جنھیں میں نے لفٹ آفر “lift offer” کی تھی۔راہ چلتے لوگوں کا ذکر اس لیے آیا کیونکہ پچھلے سترہ سال سے میں جب کبھی اپنی سیکنڈ ہینڈ اور ٹوٹی پھوٹی ماروتی کار کو چلا رہا ہوتا ہوں میں ہر کسی ضرورت مند کو اسکی طرف سے کسی گزارش یا التجا کے بغیر ہی لفٹ دیتا ہوں سترہ سال کا لفظ اس لیے لکھنا پڑا کیونکہ سترہ سال پہلے میری کوئی اپنی گاڑی نہیں تھی۔ خیر بات چل رہی تھی مجھے فون پر اچھی خاصی ڈانٹ پلانے کی۔ میرے دونوں بیٹے جو پیشے سے وکیل ہیں انکے والد کو پلائی جارہی ڈانٹ پڑ اپنے معصوم چہروں پر حیرت اور پشیمانی کے آثار نمایاں کرنے کے سوا کچھ نہ کر پائے ہاں اگر شخص غائب انکے سامنے ہوتا تو وہ ضرور اپنے والد کی فطرت کے عین مطابق اس کی زبردست ناراضگی کا سبب پوچھے بغیر ان سے معافی مانگ لیتے۔گاڑی میں سوار دو دوسرے افراد جو کہ ہم تینوں کے لیے انجانے تھے بھی اس طرح کے بنے ماحول میں ششدر ہوکر رہ گے تھے اور شاید حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھے کہ آخر انکے محسن نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جسکی سزا اسے تند و ترش اور کسی قدر نا زیبا الفاظ کے تازیانوں کی صورت میں دی جا رہی تھی میرے دو بیٹے چونکہ دم بخود ہو کر رہ گئے تھے اس لیے گاڑی میں فون بند ہونے کے بعد ایک سناٹا سا چھا گیا لیکن چاروں میں سے کسی نے بھی مجھ سے اس بارے میں کسی بھی طرح کا سوال پوچھنا شاید مناسب نہ سمجھا۔ زندگی کا تجربہ رکھنے والے حضرات کا کہنا ہے کہ جو بچے اپنے والد سے کچھ پوچھنے کی جسارت نہیں کرتے وہ اپنی والدہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں اس سلسلے میں میری بھی یہی رائے ہے کیونکہ میں بھی اس طرح کے تجربے سے کئی بار گزرا ہوں اور اب کی بار تو یہ تجربہ بالکل ہی تلخ ثابت ہوا کیونکہ اس دن شام کو گھر پہنچنے پر گاڑی میں پیش آئے واقعے کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔
اب بات یہ ہے کہ میں کس کس سے کہتا پھروں کہ میں نے غلط کو غلط بتانے کی بہت بڑی غلطی کی جسکی سزا مجھے ملنی ہی چاہیے۔ میں نے اپنی اس غلطی کے اعتراف کے لیے وادئ کشمیر کے ایک تاریخی حیثیت رکھنے والے روزنامے کا انتخاب کیا ہے جس کی مقبولیت کا اندازہ لگانے کے لئے کسی حوالے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے میں تمام قارئین حضرات سے ملتمس ہوں وہ بھی میری غلطی پر میرے لیے سزا کا انتخاب کریں تاکہ میں مستقبل میں کبھی اس طرح کی غلطی کرنے سے اجتناب کروں۔
غلطی نمبر ایک : محترم ایڈیٹر صاحب کے اخبار میں لکھا تھا “زرخیز مٹی سے پروان پا چکے شری۔۔۔۔۔۔زندگی کی آخری سانس لیکر داعی اجل کے ساتھ بغل گیر ہو گئے”میری کم علمی نے اس جملے کو غلط بتایا۔
غلطی نمبر دو: اخبار کے اسی شمارے میں قرآن مجید کی ایک آیت کے حوالے کی ضرورت تھی جس میں ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اس کے دو بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کا بھی ذکر ہے محترم ایڈیٹر صاحب کے اخبار میں لفظ ابراہیم کی جگہ “ابتراھیم” لکھا ہے میں نے اپنی کم علمی کی وجہ سے اس پر بھی انگلی اٹھانے کی بہت بڑی غلطی کی ۔۔۔اس کے علاوہ بھی میں۔ ماضی قریب میں بھی کچھ اسی طرح کی غلطیاں کر چکا ہوں اس لیے آپ سب “قارئین ” حضرات سے گز ارش ہے کہ مجھے اس طرح کی غلطیوں سے باز رکھنے کے لیے میرے لیے قرار واقعی سزا مقرر فرمائیں ساتھ ہی میں یہ کہنے پر بھی مجبور ہوں کہ:
سچائی سے دکھ پہنچے تو
لو اب ہم لب سیتے ہیں
غلام نبی پروانہ
8899284197
