کہانی کار۔۔۔خالد حسین
تعارف:۔
خالد حُسین ادبی دُنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں اُن کا شمار برِ صغیر کے معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے وہ چالیس سال سے زائد عرصہ سے پنجابی اور اُردو زبانوں کی آبیاری کر رہے ہیں اُنہوں نے بہ یک وقت ایک کامیاب افسانہ نگار اور ترجمہ کار ہونے کا ثبوت دیا ہے اُنہیں ایک نڈر اور بےباک کہانی کار ہونے کا اعزار بھی حاصل ہے، اس وقت تک اُن کے قلم سے سولہ تصانیف تخلیق ہو چُکی ہیں جس میں ترجمے بھی شامل ہیں، اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ادبی تنظیموں نے اُنہیں وقتاً فوقتاً اعزاز و اکرام سے نوازا ہے ۔۔۔ “جنت گرہن “اُن کا تازہ تر کہانیوں کا مجموعہ ہے، ندائے کشمیر خالد حُسین صاحب کی تخلیقات کو اپنے اخبار میں شامل کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے پیش ہے اُن کی “جنت گرہن “سے ایک کہانی ۔۔۔۔،
بابے نُورے کانام نوراج سندھوتھا ۔ اسّی بیاسی سال کے باباکوسبھی نُوراسندھو بُلاتے تھے پراُسکے ہم عمراُسے نوراکہتے تھے ۔ تب میں وقف بورڈ جموں کا چیئرمین اورضلع کاڈپٹی کمشنرتھا جب بابانُورامیرے دفترآیااورایک ہرے رنگ کی پوٹلی ، میری میزپررکھتے ہوئے رونے لگا۔میں اپنی کُرسی سے اُٹھااوربابے کوچُپ کرانے کی کوشش کرنے لگا لیکن جانے کب سے اُس کی آنکھوں نے آنسوئوں کاسیلاب روکاہواتھا کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہاتھا ۔
میں نے چپراسی سے پانی لانے کیلئے کہااوراپنے ہاتھوں سے بابانُورے کوپانی پلایا ۔اُسکے لئے چائے منگوائی ۔اُسے چائے پلائی۔جب اُسکامن ہلکاہوا تووہ کہنے لگا_’’یہ جوپوٹلی تمہاری میزپررکھی ہوئی ہے، اِس میں میرے چچا چوہدری لال دین باجوہ کی ہڈیاں پڑی ہیں۔چاچالال دین اور میرے باپ وریام سندھونے مِتّری کی تھی اورشادی کے وقت پگڑیاں بدلی تھیں۔چا چالال دین ہماراہمسایہ تھا۔ ہمارے رشتے بہت پُرانے تھے ۔میرا دادا اور چاچا لال دین باجوے کاباپ بچپن کے دوست تھے ۔ہماراگائوں کھوڑ، چھمنب اوراکھنورکے درمیان پڑتاتھا۔ مُلک کی تقسیم سے پہلے چھمنب اور اکھنور بھنمبرتحصیل کی نیابتیں تھیں اورآج اکھنور جموں ضلع کی تحصیل ہے اورچھمنب بھمبرضلع کی تحصیل ۔کھوڑپٹوارتقسیم سے پہلے ہندو،مسلمان اورسِکھ جاٹوں اور زمینداروں کیلئے مشہورتھا ۔ چاچے لال دین کابیٹامنظُور باجوہ اور میں کھوڑکے پرائمری سکول میں ایک ساتھ داخل ہوئے تھے ۔ہم دونوں ’’اترپتر‘‘ ،’’سنتولیا‘‘ ،’’جھجرپھیسی‘‘ اور ’’بانٹے ‘‘کھیلتے ۔برگد،پیپل ،شیشم اوربیریوں کی دھُوپ چھائوں میں پلتے، اور گرنے ، بیر اور خربوزے کھاتے جوان ہوئے۔ بھمبرہائی سکول کے راست اساتذہ سے الفاظ کوسیکھنے اوراُنھیں استعمال کرنے کاڈھنگ سیکھا۔ ہر اتوار کو ہمارے گائوں کی چوپال میں یاردوستوں کی محفل سجتی ۔ سیف الملوک ،ہیروارث شاہ، قادر یارکا پُورن بھگت اورپیلوکامرزاصاحباں گانے کے مقابلے ہوتے۔گائوں کانمبردار چوہدری الیاس گُھمن جیتنے والوںمیں انعام تقسیم کرتا۔خلُوص ومحبت، یاریوں اور دِلداریوں کے سہرے گائے جاتے۔ گائوں کے نوجوان اکھاڑوں میں زور آزمائی کرتے اورپہلوانی کے دائوپیچ سیکھتے ۔دُودھ ،دہی، لسّی ،گھی ،شہد،گُڑ اورشکرکی مٹھاس میں زندگی ہنستے کھیلتے گذرتی ____ میرے پِتا چوہدری وریام سندھو اور چاچالال دین باجوہ نے اپنی دوستی مرتے دم تک نبھائی۔ سچ کہوں بیٹا،مجھے پالاہی چاچالال دین نے تھا… اورآج شنکربھٹے والے نے اُسکی قبراُکھاڑدی اورہڈیاں باہرپھینک دیں اورمٹی گدھوں پرلادکراپنے بھٹّے پرلے گیا۔ بیٹا! شنکربھٹے والے نے کھوڑکاآدھاقبرستان کھود ڈالا ہے۔اُسکی جے،سی ،بی قبریں توڑنے اورمٹی نکالنے کاکام پچھلے مہینے سے کررہی ہے۔جوڑیاں کا سرپنچ اوراکھنورکے وزیرنے مِل کراینٹوں کایہ بھٹالگایاہے ۔دونوں کی شراکت ہے۔ شنکرسرپنچ کا ہی بیٹا ہے اوربھّٹے کاکام سنبھالتاہے اورمُردوں کی قبروں کی مِٹی سے اینٹیں بناکر فروخت کرتاہے ۔ رام، رام ،رام ،کیا وقت آگیاہے ۔جیسے اِنہوں نے مرنانہیں ہے۔ میں مانتاہوں کہ بھٹے والے اپنارِزق مٹی اورآگ سے کشیدکرتے ہیں لیکن قبروں کی مِٹی سے بنی اینٹوں کی کمائی کھاتے اِنہیں شرم نہیں آتی۔ یہ ظُلم دیکھ کر میراضمیرجاگ اُٹھا۔ میں نے چاچالال دین کی ہڈیوں کواکٹھاکیا اور تمہیں دِکھانے کے لئے آگیا۔ تم میرے ساتھ چلو اوراپنی آنکھوں سے موقع ملاحظہ کرو۔‘‘۔
بابانُورے کی باتیں سُن کر اورایک مرے شخص کی ہڈیاں دیکھ کر میر اخُون کھولنے لگا۔میں نے وقف بورڈکے فیلڈ افسر کو بُلایا اور بابا نوراج کوساتھ لیکرتحصیلدار اکھنورکے دفترپہونچا۔ وہاں سے تحصیلدار ،اُسکے عملے اورمتعلقہ تھانیدار کے ساتھ کھوڑ کے قبرستان گیا اور بابا نُورے کی سچائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ شنکر حرام زادے نے تو آدھے سے زیادہ قبرستان کھودڈالاتھا ۔ پندرہ ،بیس فٹ گہرائی تک کھدائی کی جاچُکی تھی ۔قبروں پر پڑی پتھرکی سِلیں اورمُردوں کی ہڈیوں کاڈھیرایک کُونے میں پڑاتھا اورجے،سی،بی قبریں توڑنے اورمٹی نکالنے کاکام متواترکررہی تھی ۔میرے کہنے پر ڈرائیور کو گرفتار کرلیاگیا اور جے، سی،بی ضبط کرلی گئی ۔تھانیدارنے چوکی افسرسے کہاکہ وہ شنکر کوبُلانے کیلئے سپاہیوں کوبھیجے۔ آدھے گھنٹے بعدسپاہی بدبخت شنکر کو پکڑ کرلے آئے۔اُس نے سفیدقمیض، سفید پتلون اور سفید بوٹ پہنے تھے۔انگلیوں میں سونے اور ہیرے کی انگوٹھیاں اورگلے میں کم سے کم دس تولے کی زنجیر پہنی ہوئی ۔اُس نے آتے ہی تھانیدارسے پوچھا۔
’’مُجھے کیوں بُلایا ہے تھانیدارصاحب؟‘‘
تھانیدارنے میری طرف اشارہ کرتے کہا، ’’تمہیں ڈی،سی صاحب نے بُلایاہے ‘‘۔
’’بتائیے جناب !کیاحُکم ہے ؟‘‘ اُس نے اکّڑ کرمجھ سے پوچھا
’’یہ قبریں تم نے اُکھاڑی ہیں؟‘‘اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’یہ قبرستان تمہارے باپ کی جاگیرہے ؟‘‘
’’جناب ،باپ کانام لینے کی ضرورت نہیں۔آپ مجھ سے بات کریں۔‘‘۔
’’میں تم سے پوچھ رہاہوں کہ یہ قبریں تم نے توڑی ہیں؟‘‘
اُس نے پھرکوئی جواب نہیں دیا ۔بلکہ چپ چاپ ماتھے پہ شکن ڈالے مجھے گھُورتارہا۔
’’خنزیرکے بچے ! میںتم سے پوچھ رہاہوں‘‘
’’گالی مت دیں ۔اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھائیں۔ عدالتیں کھُلی ہیں۔جائیے اورمیرے خلاف کیس کرئیے‘‘۔
میں نے اُسکے گال پرایک سناٹے دارتھپڑرسیدکیا ۔ دوتین گھونسے اور لاتیں بھی ماریں ۔مجھے دیکھ کرمیرے محافظوں نے بھی اُسکی خوب پٹائی کی۔
’’حرامی ،مردُود ! شمشان اورقبرستان کی تعظیم کرنا، اللہ اور ایشور کا شکرانہ اداکرناہوتاہے .. اورتم قبروں کی مِٹی سے اینٹیں بناکر بیچتے ہو۔تمہیں موت یادنہیں۔ تُم انسان ہویا بھیڑئیے ۔تم نے ماں کی کوکھ سے جنم لیاہے یاپتھرسے نِکلے ہو۔ بدخصلت ،بدمعاش ،تم نے اپنے کاروبارکیلئے قبرستان کھودڈالا۔‘‘۔
’’جناب ! معاف کردیں۔ غلطی ہوگئی۔یہ ساری جگہ ویران پڑی ہے۔کوئی وارث نہیں۔کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا۔اسلئے ……‘‘۔
’’اِس لئے تم نے قبرستان کونیست ونابودکرنے کافیصلہ کرلیا۔ کیازمانہ آگیاہے ۔انسانی قدریں ہی مٹ گئی ہیں۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ بھُوتوں کوکیالگے تابوُتوں کے ساتھ۔۔ _ بابا! تیراشکریہ ۔تُم نے میری آنکھیں کھول دیں ہیں۔ تمہارے جیسے نیک لوگوں کی وجہ سے ہی ابھی انسانیت زندہ ہے ۔بابا، تم نے آج اپنے پُرکھوں کی سنگت کی سجنائی کاصدقہ اُتارا ہے ۔تمہاری مہربانی۔‘‘۔
’’بیٹا!میں گھُن لگادرخت ہوں ،داتاکے سہارے کھڑا ۔ جانے کب ڈھیہ جائوں ۔میری طرح اِس قبرستان کے مُردوں کی رُوحیں بھی بین کررہی ہیں ۔اس لئے اپنافرض نبھائو ۔شنکر جیسے نامُرادوں کوسبق سکھائو۔‘‘
میں نے تھانیدارکوتحریری حکم دیاکہ وہ شنکرکے خلاف کیس درج کرے۔اُسے گرفتار کرکے چالان عدالت میں پیش کرے ۔وقف بورڈ کے فیلڈ افسر کو ہدایت کی کہ وہ قبرستان کی پُختہ چاردیواری کرائے اورچوکیداری کے لئے ملازم رکھے۔
دوسرے دِن صبح مجھے ایک منتری صاحب کافون آیا ۔وہ بڑے غصے میں تھا۔اُس نے مجھ سے پوچھا۔
’’تم ڈی،سی بول رہے ہو؟‘‘
’’ہاں میں بول رہاہوں ۔کہئیے ….‘‘
’’تم کو کس نے یہ اختیاردیاہے کہ تم ایک شریف اورعزّت دار شہری سے مارکُٹائی کرواوراُسے حوالات میں بندکرادو۔‘‘۔
’’تم کون بول رہے ہو؟‘‘۔
’’میں مال منتری اروندشرما بول رہاہوں ۔‘‘
’’منتری جی !آپکوڈپٹی کمشنراور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات معلوم ہونے چاہئیں ۔اگرڈی سی چاہے توقانون توڑنے والے کسی بھی شخص کواپنے ضلع کی حُدود سے باہرنکال سکتاہے ،پھروہ چاہے کوئی وزیرہی کیوں نہ ہو۔‘‘۔
’’اپنی بکواس بندکرو۔مجھے قانون سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ میں سب جانتاہوں ۔ بس تم شنکرکی رہائی کاحکم دوورنہ کل تک تُم کوتمہاری اوقات بتادُوں گا۔‘‘۔
’’بکواس تم کررہے ہو۔تمہاراشریف اورعزّت دار شہری قبر چور ہے۔قبروں کی بے حُرمتی کرنے والا۔ قبرستانوں کی کھُدائی کرکے مُردوں کی مٹی سے اینٹیں بنانے والا مُجرم ۔ اُسکاچالان عدالت میں پیش کیاجارہاہے ۔تم عدالت کادروازہ کھٹکائو ….. اوراپنی زبان کو قابو میں رکھو ۔تم نے سُنانہیں کہ تُرش آدمی کاشہدبھی کڑوا ہوتا ہے۔ باقی میں تمہاری ساری کرتُوتیں جانتا ہوں۔میری بات یاد رکھناکہ ضعیف اوربوڑھے شیرکے یار، کُتے ،گیدڑ اور بھیڑئیے ہوتے ہیں۔اسلئے پھُنکارنا بندکرو۔ میرے لئے شریف ،عِزت دار اور آدر یوگ تو بابا نوراج ہے جس نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور انسانیت کاپرچم بُلندرکھا ۔ اِس لیے دھمکیاں کسی اورکودینا‘‘۔
میری باتیں سُن کرمنتری نے فون بندکردیا___ دوپہرکے وقت جب میں اپنے دفترمیں مصروف تھا توچیف سیکریٹری صاحب کابُلاواآگیا ۔میں سمجھ گیاکہ منتری کے کرودھ کی ہانڈی اُبل رہی ہوگی ۔لیکن میں جانتاتھاکہ ہانڈی کا چھلّا اور توّے کاتھلّا ہمیشہ کالاہی رہتاہے ۔جب میں چیف سیکریٹری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنھوں نے غُصے میں مجھ سے پوچھا۔
’’کیاتم نے منتری جی کوگالیاں دی ہیں اوراُن کے ایک ورکر کو حوالات میں بندکرادیاہے ۔‘‘۔
’’سر! گالیاں میں نے نہیں بلکہ منتری نے مجھے دی ہیں۔انتہائی گھٹیازبان استعمال کرتے ہوئے مجھے میری اوقات بتانے اورکھُڈے لائن لگانے کی دھمکیاں دی ہیں۔میں نے بھی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اُسے جواب دیئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کوشیشم کے پیڑ اورمجھے کانٹے دارجھاڑی سے تعبیرکررہاتھا ۔میں نے بھی کہہ دیاکہ تم جیسے سیاست دان کچی مٹی کاگھڑا ہوتے ہیں جوطوفانی لہروں کی مارنہیں سہہ سکتے جبکہ ہم دھات کے بنے برتن ہوتے ہیں جوٹوٹتے نہیں‘‘۔
پھرمیں نے چیف سیکریٹری صاحب کوساری رُوداد تفصیل سے سُنائی اور اُنھیں تحریری رپورٹ بھی پیش کی ۔اینٹوں کے بھٹے میں منتری کی شراکت کے ثبوت بھی دیئے۔چیف سیکریٹری صاحب نے میرابازوپکڑا اورمجھے وزیراعلیٰ کے کمرے میں لے گئے ۔اُنہوں نے وزیراعلیٰ کواُنکے وزیرکی کرتوتُوں اورغیرقانونی حرکتوں سے آگاہ کیا۔ اُسکے خلاف آئی کئی اورشکایتوں کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیراعلیٰ غُصے سے لال پیلے ہونے لگے اوراپنے منتری کولعنتیں بھیجنے لگے۔پھرکہنے لگے ۔
’’اس نیچ اورگھٹیاشخص کومیں اپنی کیبنٹ میں بالکل برداشت نہیں کرسکتا۔ میں کل ہی کیبنٹ میٹنگ بُلارہاہوں۔ سب کے سامنے اسے ذلیل کروں گا اور پھراِسکااستعفیٰ طلب کروں گا۔‘‘
چیف سیکریٹری صاحب نے میری پیٹھ تھپتھپائی اورمجھے پوری لگن اوربے خوفی سے اپنی ڈیوٹی کرنے کی ہدایت دی۔
_____ پھرکُچھ دِنوں بعدمجھے واقعی کھُڈے لائن لگادیاگیااورمیری ٹرانسفردُوردرازایک فضول سی کارپوریشن میں کردی گئی اوریہ ثابت کردیاکہ آج کی دوغلی راج نیتی میں راج دھرم کاکال پڑاہواہے اورسیاست کے تیلی سچ کے بیلی نہیں ہوتے کیونکہ منتری صاحب آج بھی وزیراعلیٰ کی کیبنٹ کے ہردلعزیز وزیرہیں اورقوم کی خدمت کررہے ہیں۔
