اس ذوق صفائی کو تکلف نہیں کہتے
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد
ہمارے گرد و نواع میں پائی جانے والی ہر چیز ہمارا ماحول کہلاتی ہے۔جیسے پیڑ پودے، ہوا، پانی، زمین، جاندار، وغیرہ ۔ ماحول بالکل انسانی جسم کی ماند ہوتا یے ۔جیسے انسانی جسم کے کسی اعضا میں کوئی تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے ۔اسی طرح سے اگر موحول کے کسی بھی عنصر میں کوئی خرابی ہو تو پورے موحول کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔موحول ہمارے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہے ۔جس سے ہم استفاده کرتے ہیں ۔لیکن اس میں توازن رکھنا بے حد ضروری ہے ۔کبھی کبھی انسان صرف اپنے فائدے دیکھتا ہے اور انسان اپنی ضرورتوں کو بروے کار لانے کے لیے قدرتی وسائل کا بے تحاشا استعمال کرتا ہے ۔اس سے ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے اور انسان بہت ہی خطرناک مسائل سے دوچار ہوتا ہے یہ توازن بگڑنے سے global warming, کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں ۔ماحولیاتی توازن بگڑنے کے بہت سارے وجوہات ہو سکتے ہیں جیسے جنگلات ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم رول نبھاتے ہیں لیکن انسان اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جنگلات کا صفایا کرتا ہے جس سے ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔مختلف تعمیراتی کاموں کے لیے جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے ۔اتنا ہی نہیں جنگلات کو کاٹ کر کاشتکاری کے لیے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے ۔جس سے ماحول پر برا اثر پڑتا ہے ۔جنگلات کا صفایا کرنے سے زمین ڈھہ جانے کا خطرہ بڑھتا ہے ۔سیلاب اور خشک سالی بھی جنگلات کاٹنے کا ہی نتیجہ ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ جنگلی جانوروں کا مسکن خطرے میں پڑ جاتا ہے اور یہ جنگلی جانور انسانی بستیوں کا رخ کرتے ہیں ۔ جنگلاٹ کاٹنے سے بارشوں میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔جس سے ہمارے زراعت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس طرح سے ماحول کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور انسانی زندگی پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔جنگلات کو نہ صرف سبر سونا بلکہ زمین کے پھیپھڑے بھی کہا جاتا ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم جنگلات کا منصفانہ استعمال کریں ۔تاکہ یہ قدرتی وسیلہ ہماری آنے والی نسلوں کےلیے بھی محفوظ رہ سکے۔اور ماحول کا توازن برقرار رہے۔ پانی ہمارے ماحول کا ایک اہم جز ہے ۔پانی قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک قابل قدر نعمت ہے ۔دنیا کے ستر فیصد حصے پر پانی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ صرف دو فیصد پانی پینے کے قابل ہے۔لیکن موجودہ انسانی پانی کے ذخائر کو آلودہ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔جس سے پینے کا پانی روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے ۔یہاں تک کہ گھروں سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ بھی پانی میں پھینکا جا رہا ہے جس سے آبی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔جس جھیل ڈل کے پانی سے لوگ وضو بنا کر عبادت کرتے تھے. آج وہ اس قدر گندہ ہو چکا ہے کہ وہ پانی اگر انسانی جسم سے لگ جائے تو انسان نہانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ کشمیر کے باقی جھیلوں کی حالت بھی جھیل ڈل سے مختلف نہیں ہے۔اس طرح کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ہم نے آبی ذخائر کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ یہاں ک کہ ان آبی ذخائر کے ارد گرد تعمیراتی ڈھانچے بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں ۔ماہرین کا مانا ہے کہ مستقبل قریب کی اس بات کا بہت امکان ہے کہ اب جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی ۔آلودگی کی ایک اور قسم فضائی آلودگی ہے ۔جو مختلف فیکٹریوں سے نکلنے والے فضلے سے بڑھ جاتی ہے۔ان کارخانوں سے نکلنے والا دھواں فضا میں تحلیل ہوتا ہے۔اور اس طرح سے ہوا آلودہ ہو جاتا ہے نہ صرف کارخانوں سے بلکہ سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں جو دھواں اگلتی ہیں اس سے بھی فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ آلودہ ہوا انسانیت کے لیے سم قاتل بنتا جارہا ہے ۔جس سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہوا اس قدر آلودہ ہو چکا ہے کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔اب اس گندے ماحول میں سانس لینے سے بھی گھٹن محسوس ہو رہی ہے گاڑیوں اور لوڑ سپیکروں کے شور سے صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے ۔اس شور سے بھی ہمارا ماحول آلودہ ہو جاتا ہے ۔کسی بھی طرح کی آلودگی کسی اٹم بم سے کم نہیں ہے۔آج کا انسان جہاں ترقی کے مختلف منازل طے کرتا جارہا ہے وہیں ماحول کے تئیں انسان کا حس کم ہوتا جارہا ہے۔ایک سروے کے مطابق ملک بھر میں 80 ،فیصد کوڑا کرکٹ یوں ہی ندی نالوں اور پانی کے مختلف ذخائر میں پھینک دیا جاتا ہے۔یعنی اس کوڑے کرکٹ کو مستقل طور پر ٹھکانے لگانے کی کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاتی ہے ۔ماحولیاتی آلودگی کے لیے ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی ذمہ دار ہیں ۔ اگر چہ ہر سال 5 جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاہم زمینی سطح پر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔سب سے پہلے عوامی بیداری پر زور دینا چاہیے تاکہ ایک عام انسان ماحول کی اہمیت اور افادیت کو سمجھے اور ہر شخص ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا حصہ ادا کرے۔سرکار پر ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ آبی ذخائر کے تحفظ کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے ۔تاکہ یہ ان آبی ذخائر کی شانِ رفتہ بحال ہو۔شجرکاری مہم بھی اس ضمن میں سود مند ثابت ہوگی جس سے ماحول کو بچایا جاسکتا ہے لیکن انفرادی طور پر بھی ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم پالتھین کا استعمال کم بلکہ ترک ہی کر دیں، کوئی بھی چیز کھا لیں اور چلھکے کو ادھر ادھر نہ پھینکیں بلکہ کوڈے دان کا استعمال کریں، ٹوتھ برش اور اس جیسی باقی پلاسٹک چیزوں کو ادھر ادھر نہ پھینکیں بلک ان چیزوں کو ٹھیک طرح سے ٹھکانے لگائیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ چیزیں زمین میں نہیں گھلتی ہیں بلکہ سال ہا سال تک زمین میں رہ کر زمین کو بنجر بنا دیتی ہیں ۔ہمیں اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے اور قدرتی وسائل کی قدر کرنی چاہیے تاکہ ہماری نئی پود کو بھی صاف ماحول میں سانس لینا نصیب ہو ۔کسی بھی صحت افزاء مقام کی سیر کریں تو وہاں کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور باقی لوگوں کو بھی اس چیز کی ترغیب دیں۔ کیونکہ یہ صحت افزاء مقامات ہماری شان ہیں اس شان کو بنائے رکھنے میں ہمیں اپنا حق ادا کرنا چاہئے اور کسی بھی قیمت پر ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانا چاہیئے ماحولیاتی آلودگی سے سیلات، اور خوشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بارشیں اگر چہ ہوتی ہیں تاہم اس قدر بے وقت ہوتی ییں کہ ان بارشوں سے فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچتا ہے ماحولیاتی آلودگی سے تو اب تیزابی بارشوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جسے بہت بڑے خطرے کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے لہذا اپنے آپ کو بلکہ پوری انسانیت کو بچانے کے لیے ہم پر ذمی داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ماحول کو صاف رکھیں اور اس کا توازن برقرار رکھنے میں اپنا کردار نبھائیں
�������
