گوشہ اطفال
کہانی پرویز مانوس
عادل کی عمر نو سال تھی، وہ شہر کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینک میں ملازم تھا اور ماں ایک سرکاری اسکول میں اُستانی تھی۔ وہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ننّھال میںماں کے ساتھ آجاتا تھا ،جہاں وہ قدرتی ماحول کا خوب لطف اٹھاتا تھا۔ اس بار بھی وہ جون کے گرم مہینے میں جموں سے پونچھ کی طرف روانہ ہوا تھا،یہاں پہنچ کر اُس نے شہر کے مقابلے میں کافی تازگی محسوس کی۔ اونچے اونچے برف سے لدے ہوئے پہاڑ، سر سبز پیڑ، دور تک پھیلے ہوئے میدان، شفاف پانی کی ندیاں اور پرندوں کی چہچہاہٹ دیکھ کر وہ سوچتا کہ یہیں رہ جائے ،وہ اپنی نانی کو پیار سے امّاں کہتا تھا۔ نانی بھی اُسے بہت پیار کرتی تھی، کرتی بھی کیوں نہ۔۔۔ اکلوتا نوا سا جو ٹھہرا۔
جب بھی وہ بازار سے کچھ سامان لینے جاتی تو عادل کو اپنے ساتھ لے جاتی تھی اور اُس کو طرح طرح کے ڈھیر سارے کھلونے لے کر دیتی۔ بازار جاتے ہوئے راستے میں پارک کے پاس ایک بھکاری بیٹھا رہتا تھا۔ اُس کو دیکھ کر عادل نے اپنی نانی سے پوچھا ’’امّاں! پچھلی بار جب میں آیا تھا تو یہ بھکاری یہیں پر بیٹھا ہوا تھا اور یہ آج بھی یہیں بیٹھا ہوا ہے۔ یہ ایک ہی جگہ پر کیوں بیٹھا رہتا ہے؟ کیا وہ رات میں بھی یہیں رہتا ہے؟ ‘‘امّاں نے بات ٹالتے ہوئے کہا ’’ یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایک ہی جگہ پر کیوں بیٹھا رہتا ہے اور رات کہاں گزارتا ہے لیکن سنا ہے کہ وہ ایک زمیندار کابیٹا تھا۔ اُن کے پاس بہت ساری زمین اوردولت تھی‘‘ یہ بات عادل کی نانی نے اُسے راز دارانہ انداز میں کہی تو عادل نے پیچھے مُڑ کر اُس بھکاری پر ایک نظر پھر ڈالی اور نانی سے پھر سوال کر بیٹھا’’ امّاں! پھر وہ بھکاری کیسے بن گیا؟‘‘ اس بات پر اس کی نانی چڑ گئی اور بولی ’’ تیری یہی بری عادت ہے ،تجھے کوئی بات بتائو تو پھر تو چیونٹی کے میکے تک پہنچ جاتا ہے‘‘ عادل نانی کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا ،اس لئے اس نے چپ سادھ لی ،وہ جانتا تھا کہ نانی کو اس بھکاری کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے لیکن وہ بتا نا نہیں چاہتی۔ یہ راز جاننے کے لئے وہ بے قرار ہو گیا۔ ایک دن تپتی دوپہر میں جب اُس کی نانی اور ماں گھر میں آرام تھیں تو وہ چپکے سے گھر سے نکل گیا اور چلتے چلتے اس پارک کے پاس پہنچ گیا ،جہاں وہ بھکاری بیٹھتا تھا۔ عادل چُپ چاپ اُس کے پاس کھڑا ہو کر اُس کو غور سے دیکھنے لگا۔ بھکاری سمجھ گیا کہ وہ اُس کو دیکھ رہا ہے اور اُس نے عادل سے پوچھا’’کیا دیکھ رہے ہو بیٹا؟‘‘ عادل نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ’’ کچھ نہیں بابا‘‘ ’’نہیں بیٹا کوئی تو بات ضرور ہے، اسی لئے تو مجھے غور سے دیکھ رہا ہے‘‘ ’’ نہیں بابا کوئی بات نہیں‘‘ ’’اچھا تو آئو ،یہاں بیٹھو! ‘‘بھکاری نے پیراپٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اُس کے لہجے میں نرمی حلیمی اور خلوص دیکھ کر عادل کی ساری غلط فہمی دور ہو گئی اور وہ چُپ کر کے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر بیٹھ گیا۔عادل نے دیکھا کہ وہاں سے گزرنے والے راہگیر اُسے کچھ نہ کچھ دے کر جاتے تھے۔ جیسے وہ اُس بھکاری کو شروع سے جانتے ہوں۔’’اب بتائو تم کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ بھکاری نے عادل کی سوچ کو توڑتے ہوئے پوچھا ’’عادل نے جھکتے ہوئے کہا ’’ بابا جی آپ سے ایک بات پوچھنی تھی، آپ بُرا تو نہیں مانیں گے؟‘‘ نہیں بیٹا میں بُرا نہیں مانوں گا‘‘ تجھے جو بھی پوچھنا ہے ،پوچھ‘‘ بھکاری کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر عادل کی ہمت بڑھ گئی تو وہ فوراً بولا ’’ بابا جی! میری نانی کہتی ہیں کہ چند سال پہلے آپ چنگے بھلے اور امیر آدمی تھے، پھر آج آپ اس حالت میں؟‘‘ ’’ہاں بیٹا تم نے ٹھیک سنا ہے، کبھی میں بھی ایک امیر گھر کا لڑکا ہوتاتھا، میرا باپ بہت بڑا زمیندار تھا، ہمارے پاس بہت ساری دولت تھی، ایک دن جب میرا باپ زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا تھا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس پیار سے بٹھایا اور تجوری کی چابیاں اور زمین جائیداد کے سارے کاغذات میرے حوالے کر دئیے۔ انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر مجھ سے کچھ وعدے لئے اور خود اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اُن کے انتقال کے کچھ دن بعد تک تو میں انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا رہا لیکن اُس کے بعد دولت نے مجھے انسانوں کی طرح جینے نہیں دیا۔ میں دولت کے نشے میں مست جانوروں سے بھی بدتر ہو گیا۔ دولت کے سہارے مزید دولت کے لئے میں نے سب سے پہلے اپنے سوتیلے بھائی کو دوسرے علاقے کے بدمعاشوں سے مروا ڈالا۔ کبھی کسی غریب کسان سے قرض کے بدلے اُس کی فصل چھین لائی اور کبھی کسی کو زبر دستی اس کے مکان سے باہر نکال دیا۔ اپنی ضد کی خاطر کبھی کسی کے مکان کو آگ لگوادی، کبھی کسی کے جانوروں کو مروا ڈالا۔ بس اسی طرح ظلم کے سائے تلے بیٹھ کر میرے دن گزرتے رہے… میری بیوی مجھے ہمیشہ سمجھاتی تھی کہ اتنا ظلم اچھا نہیں۔ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ میں اُس کی بات اس کان سے سنتا تو اس کان سے نکال دیتا تھا۔ زیادہ بک بک کرنے پر میں اُس کی خوب پٹائی کرتا تھا۔ پھر جب میری عمر ۳۲ سال ہوگئی تو تقدیر نے مجھے ایسی ٹھوکر ماری کہ میری زندگی حادثوں کی زنجیر میں بندھ گئی۔ ایک دن میں کسی مقدمے کے سلسلے میں دوسرے شہر میں گیا ہوا تھا تو مجھے وہاں بہت دن لگ گئے ۔ یہ برسات کا موسم تھا۔ لگاتار بارش سے ہمارے علاقے میں زبردست سیلاب آگیا۔ جس میں کئی بچے، بوڑھے ،جوان بہہ گئے اور کافی سارے مکان بھی ڈھہ گئے۔ ان میں میرا سہ منزلہ مکان بھی شامل تھا۔ گائوں والے حیران تھے کہ اتنا مضبوط اور کنکریٹ مکان کیسے ڈھ گیا؟ یہ تو بس میں ہی جانتا تھا کہ وہ میری کرتوتوں اور گناہوں کابوجھ برداشت نہیں کر سکا تھا۔ میرے گناہوں کی سزا میری بیوی اور بچّی کو بھی ملی جو مکان کے ملبے تلے دب گئے۔ اتنا کچھ دیکھ کر بھی میں اپنی کرتوتوں سے باز نہ آیا۔ ابھی میری بیوی کو مرے ہوئے چالیس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ میں نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کچھ دنوں بعد میں باراتیوں سے بھری بس لے کر دوسرے گائوں چل پڑا کہ پہاڑی راستے سے چلتے ہوئے ہماری بس کو ایک حادثہ پیش آگیا۔ بس لڑھک کر بہت نیچے جاگری۔ اس حادثے میں بہت سارے لوگ مر گئے اور کچھ شدید زخمی ہو گئے۔ میں بچ تو گیا مگر اس حادثے میں میری دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں۔ میں نے اپنے علاج پر پانی کی طرح روپیہبہادیا لیکن میری ٹانگیں ٹھیک نہ ہوئیں۔ زہر اندر ہی اندر پھیلتا رہا اور آخر کار مرض لاعلاج ہو گیا۔ خدا نے میرے برے عمل کی مجھے عبرت ناک سزا دی۔ آخر کار ڈاکٹروں کو میری دونوں ٹانگیں کاٹ دینی پڑیں اور میں معذور ہو گیا‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی ٹانگوں پر سے کمبل ہٹایا تو اُس کی حالت دیکھ کر عادل کی چیخ نکل گئی۔
’’ بس پھرکیاتھا لوگ پہلے ہی میرے اعمال سے تنگ آچکے تھے۔ سب نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔اپنا پیٹ بھرنے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہ بچا تھا اور مجبور ہو کے مجھے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑا‘‘’’ بابا جی! مجھے معاف کر دیں،میں نے آپ کے زخموں کو کریدا‘‘ عادل نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو بھکاری نے کہا ’’نہیں بیٹا! تم نے اچھا کیا، جو مجھ سے پوچھ لیا۔ اس طرح میرے دل پر سے تھوڑا بوجھ تو کم ہوگیا۔ بیٹا زندگی میں میری ایک نصیحت یاد رکھنا! کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ کیونکہ غریب کی ہائے بہت بُری ہوتی ہے‘‘
اُس کی باتیں سن کر عادل آہستہ سے اٹھ کر گھر کی طرف چل دیا۔
نصیحت:۔
پیارے بچّو! کبھی بھی جوانی کے جوش میں کسی کمزور کو نہیں ستانا چاہییٔ کیونکہ خدا وندِ کریم اگر غفورالرحیم ہے تو وہ قہار بھی ہے اُس سے ہمیشہ ڈرنا۔
