اے مرے ہمسفر گلے لگ جا 130

نظم ۔۔۔۔۔۔ تقدیر

نظم ۔۔۔۔۔۔ تقدیر

محسن کشمیری

وہ میرا ہو نہیں پایا
وہ میرا ہو نہیں پایا
محبت تھی مگر سچّی
نہ اک دوجے کو بھولے ہم
ستم لاکھوں زمانے کے
سہے ہم نے سبھی ہنس کر
میں مجنوں سا کبھی صحرا
کی تپتی ریت پر چل کر
اسے آواز دیتا اور
وہ سن کر چلی آتی
لپٹ کر ایک دوجے سے
عجب اک ڈر ستاتا تھا
وہ ڈر تھا دور ہونے کا
کبھی مجبور ہونے کا
مجھے لیکن بھروسہ تھا
اسے بھی تھا یقیں مجھ پر
مگر پھر یوں ہوا اک دن
بھروسہ ٹوٹ کر بکھرا
ہوا اک حادثہ ایسا
محبت ہار بیٹھی اور
وہ میرا ہو نہیں پایا
نہ میں ہی مل سکا اسکو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں