نالہ شب کہاں سے اُٹھتا ہے 128

دُعا ہے یہ میری خُدایا تُو سن لے

دعا

یاورؔ حبیب ڈار

دُعا ہے یہ میری خُدایا تُو سن لے
مجھے نیک بندوں میں یارب تُو چُن لے
مُجھے سیدھا رستہ دِکھا میرے مالک
مرے خستہ دل کو جگا میرے مالک
گُناہوں کے دلدل میں آ کے پھنسا ہوں
درِ یار پے میں فُسردہ پڑا ہوں
تُو شاہِ جہاں ہے تُو رحمت سدا ہے
دکھانے کو تیرے مرے پاس کیا ہے
سدا گونجتی ہے یہاں ذکرِ تیرا
خودی کے نشے میں کروں فکرِ تیرا
اُجالا تو کر دے مری زندگی میں
کروں زندگی میں فدا بندگی میں
گُناہوں سے یا رب کَرم مانگتا ہوں
ترا بندہ ہو کے اِرم مانگتا ہوں
کہاں جاؤں تیرے سوا کون میرا
ترا بول بالا تُو مالک تُو آقا
پڑا در پہ سر خم میں یاورؔ جیا اب
گُناہوں کی بخشش سے پاؤں خدا اب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں