میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا 76

میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا

غزل

(ظفر صدیقی)

میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا
تو اگر درکنار ہو جاتا
تم جو آتے اگر نہیں گھر میں
یاد میں میں بیمار ہو جاتا
چوم لیتے کبھی جو ہونٹوں کو
لمحہ وہ یادگار ہو جاتا
ساتھ سچ کا جو میں نہیں دیتا
بد عا کا شکار ہو جاتا
ساتھ ماں باپ کا نبھاتا گر
آدمی شاندار ہو جاتا
کام اچھے ظفر کیے ہوتے
خوش وہ پروردگار ہو جاتا
(ظفر صدیقی)
(لکھنؤ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں