بدلے گی دعا سے ہی مری تقدیر تو اک دن 69

یوں کسی کو کھویا نہیں کرتے

غزل

طلحہ جنید

یوں کسی کو کھویا نہیں کرتے
بے سبب تو رویا نہیں کرتے
اس عشق کی گرمی میں رہ کر
ہم با خدا سویا نہیں کرتے
اس دل میں پیار کا درد ہو جب
کسی یاد میں سویا نہیں کرتے
ان آنکھوں میں پردہ پڑا ہے کیوں
جن کو عاشق کھویا نہیں کرتے
کوئی مستی میں کوئی عبادت میں
کسی کو یہاں رسوا نہیں کرتے
جب حق سے پردہ اٹھا طلحہ
پھر چین سے سویا نہیں کرتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں