غزل
بلال صہبا
ہم نے دیکھا بالیقیں رات کے پچھلے پہر
بام پر تھا ہمنشیں رات کے پچھلے پہر
در پہ ان کے چاند کو ہم نے دیکھا وجد میں
گھس رہا تھا وہ جبیں رات کے پچھلے پہر
وصل میں کچھ اس قدر تھا کیا! نظارا قرب کا
آسماں تھے در زمیں رات کے پچھلے پہر
تنہا خلوت گاہ میں ہم نے دیکھا ذات کی
تم ہی تم تھے ہم نہیں رات کے پچھلے پہر
جلوتیں تھیں بے بہا محو رقصاں بزم میں
اس پہ دورے آبگیں رات کے پچھلے پہر
اوٹ سے زلفوں کی جب سحر پھوٹی شرق سے
چھپ گیا، جو تھا مبیں رات کے پچھلے پہر
چار سو تھے قمقمے اور “صہبا” تخت پر
با حشم تھا وہ حسیں رات کے پچھلے پہر
