طارق اطہر حسین
عبدلحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال ہندوستان
اسلامی کیلنڈر کا آغاز محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے۔ ’’محرم ‘‘کے معنی ہیں ’حرمت والا‘ اور ’’الحرام‘‘ کے معنی ’قابلِ احترام‘ کے ہیں۔ گویا محرم الحرام کے معنیٰ ’’حرمت والے قابلِ احترام مہینے‘‘ کے ہوئے۔ محرم الحرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے۔ حرمت والے مہینے کل چار ہیں، جن کے نام بالترتیب یہ ہیں، محرم الحرام، رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ ۔ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کی بڑی حرمت تھی اور ان کو نہایت قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا اور ان میں قتال کو سخت گناہ قرار دیا گیا تھا۔ اس مہینے کی فضیلت اسطرح ہے کہ یوم عاشورہ میں ہی آسمان و زمین، قلم اور حضرت آدم علیہما السلام کو پیدا کیا گیا۔ اسی دن حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاة والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔ اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ،،خلیل اللہ“ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔ اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔ اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔ اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلا کر آسمان پر اٹھایا گیا۔ اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔ اسی دن قریش خانہٴ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔ اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔ اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہٴ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو میدانِ کربلا میں شہید کیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ہمارے نبی اکرم نے فرمایا کہ ظلم تو سال کے بارہ مہینوں میں ممنوع ہے، لیکن ان چار مہینوں کی عزت و حرمت اور ان کی تقدس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرما دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اسلامی مہینے کی افادیت کو شرعی علوم کے حصول کے مطابق عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں، اللہ نے تمام اسلامی مہینوں میں کافی فضیلت رکھا ہے اور اس مہینے میں بھی موجود ہے۔
اس مہینے میں ایک خاص دن آتا ہے جسے عاشورہ کہتے ہیں مسلم شریف کی حدیث کے مطابق حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دریافت کیا : آپ روزہ کیسے رکھتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سے ناراض ہوئے : جب عمر ؓ نے آپ کی ناراضی دیکھی تو کہا : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، عمر ؓ بار بار یہ بات دہراتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ جاتا رہا تو عمر ؓنے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کی کیا حالت ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔‘‘ پھر انہوں نے عرض کیا : اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۔‘‘ پھر انہوں نے عرض کیا : اس کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو داؤد ؑ کا روزہ ہے ۔‘‘ اور پھر انہوں نے عرض کیا : اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن نہیں رکھتا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت مل جائے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر ماہ (ایام بیض کے) تین روزے اور رمضان کے روزے رکھنا یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے جبکہ یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) کے روزے کے بارے میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ اور آیندہ سال کے گناہ مٹا دے گا اور یومِ عاشورہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ سال کے گناہ مٹا دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے، اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن جائیں اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کریں اور جیسا کہ اِسی مہینے میں تاریخِ اسلام کا عظیم سانحہ واقعہ کربلا کی صورت پیش آیا، جس میں خانوادۂ رسولؐ اور نواسۂ رسولؐ حضرتِ امام حسینؓ کو شہید کر دیا گیا۔ حضرتِ امام حسینؓ کی عظمت اور شان بہت بلند اور اُن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اُن کے ساتھ ساتھ تمام صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتِ عظام اور دیگر بزرگ شخصیات کا ذکر نہایت ادب و احترام اور عقیدت سے کرنا چاہئے۔
طارق اطہر حسین
عبدلحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال ہندوستان
