انجینئرمنظر زیدی
رثائی ادب وہ ادب ہے جس میں کسی شخص کی موت پر غم و الم کی کیفیات ادبی پیرائے میں بیان کی جائیں ۔ مرثیہ بھی اسی لفظ سے مشتق ہے جو اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی شخص کی موت پر اظہار الم کے ساتھ اسکے محامد و محاسن بھی بیان کئے جائیں۔اردو کے مشہور شاعر برج نارائن چکبست ؔ نے رام چندر جی کے بنواس جانے پر سیتا جی نے جو فریاد کی ہے اسے بھی مرثیہ کے انداز میں لکھا ہے مگر عموماً مرثیہ میں امام حسین ؑ اور انکے اعزا و اقربا کا ذکر اور واقعات کربلا بیان کئے جاتے ہیں۔اسلئے مرثیہ کاخاص مقصد سانحہء کربالا کا غم منانا اوران معصوم شہدا کی یاد میں رونا رلانہ ہے۔اردو ادب میں مرثیہ ہی ایک ایسی صنف ہے جس میں مذہب اور ادب کا امتزاج اتنی خوبصورتی سے ہواہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم قرار پائے ہیں۔
اردو میں غیر مسلموں کی مرثیہ نگاری کی روایت قدیم ہے۔رثائی ادب میں غیر مسلم شعرا میں پہلا نام راؤؔ کا ملتا ہے۔ دوسرے شاعر داسؔ بتائے جاتے ہیں۔دکن میں حقیرؔ، شفیقؔ، شاداںؔ، مالکؔجی اور ترمیک جی ذرہؔ کے نام بھی اہم ہیں۔دکن کے سر کشن پرشاد شادؔاپنی مرثیہ گوئی کے لئے مشہور رہے ہیں۔شمالی ہند میں غیر مسلموں میںپہلے مرثیہ نگار مہاراجہ کلیان سنگھ ہیں۔دوسری شخصیت لالہ فتح چندشائق تلمیز ناسخؔ لکھنؤی کی ہے۔ ان کے علاوہ نول رائے،رائے سنگھ بیدارؔ،گھاسی رام، بشیرؔ اور دلگیرؔ جیسے مرثیہ گو بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ہندو مرثیہ نگاروں نے اردو شاعری کی ادبی قدروں کا لحاظ رکھتے ہوئے مرثیہ کو مختلف شکلوں میں لکھا ہے اور درجہ کمال کو پہونچے ہیں۔ چنانچہ غیر مسلم شعرا نے ایسے ایسے کلام پیش کئے ہیں جو دل کے تاروں کو جھنجھوڑنے والے اور قلب کی گہرائی میں اترنے والے ہیں۔
عزاداری سے متاثر ہوکر لکھنؤ میں ہندوؤں نے امام باڑے بھی تعمیر کرائے۔ٹھاکر گنج میں راجہ جھاؤ لال نے نواب آصف الدولہ کے عہد میں امام باڑہ تعمیر کرایا۔راجہ ٹکیٹ نے جو آصف الدولہ کے دیوان تھے، نے ٹکیٹ گنج میں امام باڑہ تعمیر کرایا۔امام باڑوں کے علاوہ لکھنؤ میں ہندوؤں نے کربلائیں بھی تعمیر کرائیں۔نواب امجد خاں کے عہد سلطنت میں جگن ناتھ اگروال، جو شرف الدولہ کا خطاب رکھتے تھے، نے ۱۸۵۲ء میں منصور نگر کے قریب حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کی یادگار تعمیر کرائی،جہاں راجہ محمودآباد نو تصنیف مرثیہ پڑھتے تھے۔ہندوستان میں اردو میں مرثیہ لکھنے والے غیر مسلم شعرا کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں ہندو اور سکھ دونوں شامل ہیں۔یہاں کچھ شعرا کا مختصر تعارف اور انکا کلام پیش کیا جا رہا ہے۔
۱۔ کنور سورج نارائن ادبؔ سیتاپوری۔۔ انکی پیدائش ۱۹۰۹ء میں سیتا پور کے معززکائستھ خاندان میں ہوئی تھی۔۲ اگست ۱۹۶۲ء کو انکا انتقال ہو گیا۔انکے سلاموں کا مجموعہ ’اشکِ خلوص‘ شائع ہو ا تھا۔چند اشعار پیش ہیں۔
زمانہ حشر تک دیکھے گا تکبیروں کے سائے میں
وہ سجدہ جو کیا شبیّر نے تیروں کے سائے میں
لہو سے اپنے کی اسلام کی بنیاد مستحکم
بہتّر تشنہ کام آئے جو تعمیروں کے سائے میں
چمک سے جنکی منوّر ہے آج تک اسلام
چراغ ایسے بہتّر جلا دئے تم نے
حسین چشمِ عنایت ذر ا ادب پر بھی
نہ جانے کتنے مقدّر بنا دئے تم نے
۲۔ گر سرن لال ادیبؔ لکھنؤی۔ یہ ۱۹۰۲ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انکے والد مہادیو پرشاد عاصیؔ لکھنؤی اور بھائی گوپی ناتھ امنؔ لکھنؤی بھی شاعر تھے۔ اہل بیت سے عقیدت کو انہوں نے اپنے مجموعہ کلام ’نذرانہ ٔ عقیدت‘ میں پیش کیا ہے۔ اپنے مجموعہ میں وہ خود لکھتے ہیں، ’حضرت امام حسینؑ کے کردار کی بلندی، شجاعت، راہِ ایمان میں ثابت قدمی،حضرت عبّاس کی بے مثال وفا اور قربانی،حضرت علی اصغر کی کم سنی میں شہادت اور دیگر واقعات ِ کربلا نے دل پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔‘ انکا نمونہ کلام پیش ہے۔
اعدا مٹا سکے نہ زمانہ مٹا سکا
ہے آج بھی دلوں پہ حکومت حسین کی
تھا اعتقاد میرے بزرگوں کو بھی ادیبؔ
میراث میں ملی ہے محبت حسین کی
فوجِ اعدا سے نکل کرشہ کے قدموں میں گرا
حر ُ نے پہچانہ یزیدِ کینہ پرور کا مزاج
حر ُ ملا خوش تھا کہ اک معصوم کا خوں کر دیا
تیر کھاکر مسکرائے یہ تھا اصغر کا مزاج
جزبہ ٔ ایثارو ایماں و شجاعت میں ادیبؔ
کربلا میں ایک سا نکلا بہتّر کا مزاج
۳۔ گوپی ناتھ امنؔ لکھنؤی۔ یہ کائستھ گھرانے میں ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۸ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔انکے والد میشی مہا دیو پرشاد کو اردو، ہندی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور تینوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔امن لکھنؤی دہلی کے تیج اخبار سے وابستہ رہے اور تیج ویکلی کے مدیر رہے۔انہیں پدم شری اعزاز سے بھی نوازہ گیا۔۱۹۸۳ء میں انکا انتقال ہو گیا۔انکے سلام اور مرثیے کافی تعداد میں ملتے ہیں۔
قربانیوں کی شان بنامِ حسینؑ ہے
یعنی بہت بلند مقامِ حسینؑ ہے
رکھو نہ راہِ حق میں کبھی جان و دل عزیز
اے مومنوں سنو یہ پیامِ حسینؑ ہے
کافر کوئی کہے تو کہے امنؔ کو مگر
اسکے دل و جگر میں قیامِ حسینؑ ہے
اپنے ایک مرثیہ میںامن لکھنؤی نے مرثیہ کی مختصر تاریخ اس طرح لکھی ہے۔
پہلے دکن میں لکھے گئے چند مرثیہ
سودا ؔ نے چند بند سپردِ قلم کئے
گو پیش بند میرؔ نے بھی کچھ لکھ دئے
میداں مگر یہ وقف تھا اور وں ہی کے لئے
سب صاحب کمال اودھ کی زمیں کے تھے
یعنی دبیرؔ، انیسؔ، تعشقؔ یہیں کے تھے
تھے حضرتِ رشیدؔ بھی ایسے ہی اہلِ فن
اس سر زمیں میں خوب کھلائے نئے چمن
وہ حضرتِ مودّب ؔو شاعرؔ کا بانکپن
نانکؔ بھی اپنے قسم کے ایک صاحبِ سخن
کتنے ہی اور مرثیہ گو با ہنر ہوئے
جن کا کلام سن کے بہت دیدہ تر ہوئے
امن لکھنؤی نے مرثیہ میں مصائب اس طرح بیان کئے ہیں۔
عباسِ نامدا ر جو پہونچے سرِ فرات
دم دشمنوں کے رُک گئے دکھلائے ایسے ہات
ہاتھوں میں مشک دیکھ کے اعدا نے کی یہ گھات
برسائے اتنے تیر کہ چھلنی ہوئی وہ گات
بازو کٹے تو دانتوں میں مشکیزہ تھام کے
جانے لگے قریں شہ عالی مقام کے
سجدے میں تھے حسین ؑتو گھِر آئے سب شریر
خنجر چلایا شمر نے آخر تھا بد خمیر
سجدہ تھا یہ کہ آپ کی تھی منزل اخیر
دنیا سے آخر اٹھ گئے امّت کے دستگیر
خیموں میں یہ صدا تھی کہ مولا کدھر گئے
ہے ہے کہاں رسول کے لختِ جگر گئے
۴۔ سادھو رام یادو، آرزوؔ سہارنپوری۔ یہ ۱۹۰۶ء میں سہارنپور میں پیدا ہوئے۔نعت، منقبت اور مرثیہ کہنے میں کمال حاصل تھا۔۱۹۸۳ء میں انکا انتقال ہو گیا۔حضرت عباس کی شان میں ان کے سلام اور مسدّث کے چند بند پیش ہیں۔
عالمِ علمِ شریعت ہے بنی ہاشم کا چاند
عطرِ گُل ہائے طریقت ہے بنی ہاشم کا چاند
نازِ جعفر، شانِ حمزہ، ثانی ٔحیدر لقب
خسروِ ملکِ شجاعت ہے بنی ہاشم کا چاند
جوہرِ شمشیرِ عریاں ، ضیغم ِ دشت ِ وغا
زورِ بازوئے امامت ہے بنی ہاشم کا چاند
سلام اس پر جو ہم صورت و ہم رازِ حیدر تھا
سلام اس پر جو دستِ بازوئے سبطِ پیمبر تھا
سلام اس پر جو بحرِ شجاعت کا ثناور تھا
سلام اس پر جو نازِ جرّاتِ حمزہ و جعفر تھا
سلام اس پر بنی ہاشم کا جسکو چاند کہتے تھے
سلام اس پر کہ جس کا نام عباسِ دلاور تھا
سلام اس پر کہ عالی تھا زمانے میں نسب جسکا
سلام اس پر کہ سقائے سکینہ تھا لقب جس کا
سلام اس پر کہ دشمن کانپتے تھے جسکی ہیبت سے
سلام اس پر فرات اب تک ہے لرزاں نام سے جس کے
۵۔ راجیندر نارائن سکسینہ، بسملؔ شمس آبادی۔انکی پیدائش ۱۷ نومبر ۱۹۲۰ء کو شمس آباد ضلع فرخ آبادمیں ہوئی۔یہ پیشے سے وکیل تھے۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیںجن میں ’ خشتِ حرم‘ میں نعت،سلام اور منقبت شامل ہیں۔ان کا ہدیۂ عقیدت پیش ہے۔
پھول باغِ فاطمہ کا جانِ گلزارِ رسول
ہے حدیثِ دلبری روئے ضیا بارِ حسینؑ
جان دیدی راہِ حق میں بیعتِ باطل نہ کی
اے جہاں والو ذرا دیکھو تو گلزارِ حسینؑ
کیا ستم ہے شیخ ٹھکراتا ہے کہہ کر بتُ پرست
برہمن کہتا ہے بسملؔ ہے پرستارِ حسینؑ
واقعاتِ کربلا کا جب بھی آتا ہے خیال
آنکھ میں تصویرِ منظر،دل میں ہوتا ہے ملال
یاد آتی ہے تری اے فاتح خیبر کے لال
آج تک دنیا نہ پیدا کر سکی جس کی مثال
توُ گلستانِ نبووت کا وہ خوشبو پھول تھا
تا عبد مہکے گی جس سے دونوں علم کی فضا
ظالموں نے تجھ پہ رکھے کون سے باقی ستم
اصغرِ معصوم کا خوں، قاسم و اکبر کے غم
حوصلہ تیرا، تری جرٔات ہوئی پھر بھی نہ کم
راہِ حق میں تو رہا آخیر تک ثابت قدم
تو ہے شمع راہِ عرفاںسارے عالم کے لئے
رہنمائے راہِ دیں ہے نسلِ آدم کے لئے
۶۔وجیندر سنگھ ، پروازؔ۔ ان کی پیدائش ۲۸ مارچ ۱۹۴۳ء کو ضلع میرٹھ کی تحصیل سردھنا میں ہوئی۔اردو میں نعت،منقبت اور سلام وغیرہ پر مشتمل دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔کربلا کے سانح پر ایک طویل نظم کے چند اشعار پیش ہیں۔
میرے خدا خیال کا سرمایہ ہو عطا
میں باندھ نے چلا ہوں وہ موضوعِ کربلا
جس کی تہوں میں سوزِ رگِ کائنات ہے
تیرا کرم نہ ہو تو کہاں بس کی بات ہے
یہ نظم نظمِ خونِ شہیداں کی داستاں
تاریخِ دیں اور ہے ایماں کی داستاں
اس داستاںمیں خون سے رنگین گرد ہے
اس داستاں میں سارے زمانے کا درد ہے
عزم و وقارِ قلب کی رفعت حسینؑ ہیں
سوئے رہِ یقیں مسافت حسینؑ ہیں
یہ شاخِ فاطمہ ہیں علی کے شجر کا پھول
روحِ وفا کی پیاس دلِ معتبر کا پھول
سجدوں کے پھو ل ساری زمیں پہ کھلا گیا
اہل ِ قرآں کو صاحبِ ایماں بنا گیا
۷۔ منّی لال، جوانؔ سندیلوی ۔ ضلع ہردوئی کے قصبہ سنڈیلہ میں ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۷۴ء میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ان کے سرمایہ سخن میں رباعی، نعت کے علاوہ چار مرثیہ بھی شامل ہیں ۔مرثیہ کے چند بند پیش ہیں۔
لے کے ہاتھوں پہ چلے اصغرِ بے شیر کو شاہ
یاس سے چہرۂ معصوم پہ کرتے تھے نگاہ
دیکھا جاتا نہ تھا بیکس کا مگر حال تباہ
شدّتِ تشنہ لبی، تشنہ لبی کی تھی گواہ
شکوہ پھر بھی نہ زباں پر تھا ستم رانی کا
مانگنا شوق تھا بچے کے لئے پانی کا
جانتے تھے نہ لعینوں سے ملے گا پانی
رحم بچے پہ نہ کھائیں گے ستم کے بانی
کیا کروں گا نہ اگر میری نصیحت مانی
ہوگی معصوم کی بھی حق کے لئے قربانی
خونِ اصغر سے بھی اسلام ہی پیارا ہے مجھے
نصرتِ حق کے لئے یہ بھی گوارہ ہے مجھے
باپ سے کرتا تھا بے شیر اشاروں میں کلام
طالبِ آب نہیں آپ کا ادنا یہ غلام
دیکھئے فردِ شہیداں میں ہے میرا بھی نام
مل بھی جائے تو پیوں گا نہ چھلکتا ہو ا جام
سر خرو ہو کے مجھے سوئے جناں جانا ہے
اب چھلکنے کو میری عمر کا پیمانہ ہے
آپ صابر ہیں تو صابر کا ہوں میں لختِ جگر
پردۂ تشنہ دہانی میں ہے امّت پہ نظر
دیکھئے پیاس کا اب مجھ پہ نہیں کوئی اثر
آپ سے پہلے مر ا ہوگا زمانہ سے سفر
رن میں جب حلق پہ میں تیرِ ستم کھاؤںگا
مسکراتا ہوا جنّت کی طرف جاؤں گا
۸۔ دِلو رام، کوثریؔ۔ یہ ضلع حصار ہریانہ میں راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے حیدرآباد،بھوپال، بھاول پور اور پٹیالہ ریاستوں کے درباروںمیںاپنا کلام پیش کیا اور انعامات حاصل کئے۔حیدر آباد میں مہاراجہ کرشن پرشاد شاداںؔ ان کے بڑے مدّاح تھے۔مولوی عبدالمجید صدیقی نے ان کے بارے میں کہا ہے۔
کس قدر دلکش ہے اندازِ بیانِ کوثریؔ
آبِ کوثر سے ہے ترگویا زبانِ کوثریؔ
رسول اللہؐ کی مدح اور اہلِ بیتِ اطہارسے عقیدت اور محت اس قدر بڑھی کہ وہ دلو رام کوثریؔ سے کوثر علی کوثری ؔہو گئے۔ انہوں نے بہت سے نعت، منقبت،سلام اور مرثیہ لکھے ہیں جس میں ’ قرآن اور حسین‘ کے عنوان سے ۷۷ بند کا مرثیہ مقبول ہے ۔مرثیہ کے چند بند پیش ہیں۔
قرآن اور حسین برابر ہیں شان میں
دونوں کا رتبہ ایک ہے دونوں جہان میں
کیا وصف ان کا ہو کہ ہے لکنت زبان میں
پیہم ندا یہ غیب سے آتی ہے کان میں
قرآن کلامِ پاک ہے شبّیر نور ہے
دونوں جہاں میں دونوں کا یکساں ظہور ہے
ہادی ہے ایک ،ایک ہدایت کی ہے کتاب
سرور ہے ایک، ایک فضیلت کی ہے کتاب
ہے اک امام،ایک رسالت کی ہے کتاب
حضرت کا یہ نواسہ وہ حضرت کی ہے کتاب
ان دونوں پر تمام فضائل تمام ہیں
دونوں یہ بوسہ گاہے رسول انام ہیں
قرآں اگر حسین کو کہئے تو ہے بجا
اصغر دلِ حسین ہے یسٰین کبریا
یوسف کا سورہ ہے علی اکبر سا مہ لقا
سقائے آلِ سورۂ کوثر ہے واہ واہ
الکہف اگر حبیب ِ امامِ غیور ہے
حرّ ِ دلیر سورۂ توبہ ضرور ہے
الفتح ہے حسنؑ کا پسر قاسمِ حسیں
الحمد الحدید ہوئے زین العابدیں
شہ کی سکینہ سورۂ طہٰ ہے بالیقیں
زینب کی شان سورۂ مریم سے کم نہیں
بلقیس کا جو ذکر ہے قرآنِ پاک میں
بانو یہاں ہے خیمۂ سلطانِ پاک میں
فرماگئے ہیں خود یہ دمِ نزع مصطفیٰ ؐ
قرآن و اہل ِبیت نہ ہونگے کبھی جدا
مصداق اس حدیث کے ہیں شاہِ کربلا
نیزے پہ بھی حسینؑ نے قرآنِ حق پڑھا
غافل ہے جسکو شک ہے حدیثِ رسول میں
قرآں حسین پڑھتے تھے بطنِ بتول میں
قرآں حسین پڑھتے تھے اُس وقت بالیقیں
سینے پہ تھا چڑھا ہو ا جب قاتلِ لعیں
آواز دردناک سے کہتے تھے شاہِ دیں
ایّا ک َ نعبدو و ایّا ک َ نستعیں
مصحف سے ساتھ کیا تھا شہِ مشرقین کا
قرآن پڑھتے پڑھتے کٹا سر حسین کا
۹۔ روپ کنور کماری۔ روپ کماری اپنے دور میں قابلِ ذکر شاعرات میں نمایاں رہی ہیں۔ان کا تعلق کشمیری پنڈتوں کے خاندان سے تھا۔ آگرہ میں مقیم تھیں۔ روپ کماری کو مرثیہ کہنے میں کمال حاصل تھا۔ڈاکٹر تقی عابدی صاحب نے ان کا کلام اپنی ۴۰۶ صفحات پر مشتمل کتاب میں یکجا کیا ہے۔انہوں نے طویل مرثیہ کہے ہیں۔۱۲۸ بند کا ایک مرثیہ کافی مقبول ہے۔ایک مرثیہ کے کچھ بند پیش ہیں۔
رہِ خدا میں بہتّر کا خوں دیا شہ نے
میں ان کے صدقے برادر کا خوں دیا شہ نے
جنابِ قاسمِ مضطر کا خوں دیا شہ نے
جواں پسر علی اکبر کا خوں دیا شہ نے
کئی پہر سے جو تھا خشک وہ گلا بھی دیا
بس انتہا ہے کہ ششماہے کا لہو بھی دیا
لکھا ہے جب کوئی حامی نہ شاہِ دیں کا رہا
اور آپ ظلم کی فوجوں میں رہ گئے تنہا
ہجومِ یاس نے چاروں طرف سے گھیر لیا
تو نا گہاں درِ خیمہ سے آئی رن کی صدا
خبر لو جلد شہ کربلا دہائی ہے
تمہارے بچّے کو جھولے میں نیند آئی ہے
یہ سن کے خیمہ کی جانب گئے امامِ ہدا
قریب جھولے کے پہونچے تو روکے فرمایا
معاف کیجو بیکس پدر کو اے بیٹا
کہ ایک پانی کا قطرہ تمہیں پلا نہ سکا
خدا گواہ کہ بہت تم سے شرمسار ہوں میں
یقیں کرو علی اصغر کہ بے قرار ہوں میں
پکارے لشکرِبے دیں کو جاکے سرورِ دیں
تڑپ رہا ہے کئی دن سے میرا ماہ جبیں
جو کہہ رہا ہوں آخر کرو تم اس کا یقیں
خود آکے دیکھ لو پہونچے ہیں یہ اجل کے قریں
جو رحم کھاؤ تو پانی پلانے لایا ہوں
انہیں میں خیمہ سے تم کو دکھانے لایا ہوں
سنی حسین کی باتیں تو اہلِ شر روئے
دلوں کو تھام کے سب صاحبِ جگر روئے
سوار فوج میں رونے لگے شتر روئے
بشر پہ کچھ نہیں موقوف جانور روئے
حباب پانی سے اٹھ اٹھ کے جان کھونے لگے
جو ذی حیات تھے آخر تمام ہو نے لگے
پرے سے فوج کے نا گاہ حر ملا نکلا
کمان دوش پہ چلّے سے تیر لے کے چلا
گلوئے بخت دلِ شاہِ کربلا تاکا
کماں میں تیر کو جوڑا شقی نے اور یہ کہا
حسینؑ اب وہ پلاتا ہوں آبِ سر د ان کو
کہ تا با حشر لگے گی نہ پیاس کمسن کو
یہ کہہ کے تیر جو جوڑا ادھر یہ حال ہوا
کہ حلق چھد گیا معصوم خوں میں لال ہوا
دہن سے خون اگلنے لگا نڈھال ہوا
اک آہ ہلکی سی نکلی اور انتقال ہوا
پدر نے یاس سے ننھی سی جان کو دیکھا
کبھی زمیں کو کبھی آسمان کو دیکھا
(انجینئر منظر زیدی)
رابطہ۔9450931862
