95

افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے حسی

مشتاق عالم
سامبورہ ،پانپور

آج یونیورسٹی کا خوبصورت اور بارونق کیمپس سنسان نظر آرہا تھا ۔ساری سڑکیں،عمارتیں اور باغ باغیچے جیسے انسانوںکی غیر موجود گی کا سوگ منا رہے تھے۔ دور دور تک برائے نام اکا دُکا غیر تدریسی عملے کا ملازم دکھائی دیتا تھا۔جن کی رونی صورتوں سے ڈر اور وحشت نمایاں تھا۔ آرٹس فیکلٹی کی عمارت کے سامنے والے وسیع لان میں موجود وہ فوارا بھی آج روتا ہوا نظر آرہا تھا جس کے ارد گرد دن بھر طلبا وطالبات بیٹھے رہتے تھے۔ نہ ان باغیچوں میں وہ رونق نہ ان پھولوں میں وہ چمک ،گرد و غبار میں اٹے سبھی کلاس روم۔چمن چمن اداس ڈالی ڈالی ویران۔ طلبا اور اساتذہ کا کہیں نام و نشان تک نہیں ایسا لگتا تھا جیسے یہاں پہلے کوئی رہتا ہی نہیں تھا۔یونی ورسٹی کا یہ پر رونق کیمپس آج جیسے کسی ویرانے کی یاد دلا رہا تھا۔
جب یونیورسٹی میں تدریسی کام کاج عالمی وبائی وائرس کی وجہ سے احتیاط کے طور پر دو ماہ کے لئے معطل کیا گیا تو سبھی طلبہ خوف ودہشت کے عالم میں اپنے اپنے گھروں کا رخ کرنے کی فکر میں لگ گئے۔کوئی ٹرین کا ٹکٹ بنانے گیا ، کسی نے ہوائی جہاز سے جانے کی تیاری کی اور کچھ بس کے اوقات کا پتہ کرنے کے لئے صبح ہی بس اسٹینڈ چلے گئے ۔یونیورسٹی بھر میں افراتفری کا عالم برپا ہوا ۔سبھی طلبا کے چہروں سے ڈر اور پریشانی کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔کیونکہ گذشتہ دنوں یونیورسٹی کے تدریسی عملے میں۱۷استاتذہ کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا ۔ جن میں تین کی موت اور چار کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی تھی اسی وجہ سے یونیوسٹی بند کرنے کا علان کیا گیا۔ہاسٹل بھی بند ہورہے ہیں۔اس افرا تفری کے عالم میںاشفاق بے فکر ہو کر دوسرے ساتھی طلبہ کو خوف زدہ دیکھ کر ہنس رہا ہے اوران کا مذاق اڑارہا کہ یہ وائرس کچھ نہیں ہے صرف افواہ ہے بس ایسے ہی ڈرارہے ہیں۔لیکن آئے دن ملک میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہورہے ہیں اور ہزاروں افراد اپنی جان اسی کی وجہ سے گنوا رہے ہیں۔اس کے باوجود بھی وہ کہتا ہے کہ یہ کچھ نہیں سب بکواس ہے۔ جب سبھی طلبہ ایک ایک کر کے ہاسٹل اور یونیورسٹی سے جانے لگے تو اشفاق کو بھی بادل ناخواستہ گھر جانے کی تیاری کرنی ہی پڑی۔شہر شہر گائوں گائوں میں ہو کا عالم ہے۔ لوگ ہراساںاور متفکر نظر آرہے ہیں۔سبھی ایک دوسرے سے دور باگ رہے ہیں۔اسی دوران اشفاق نے ٹرین میں ریزویشن کی اور گھر کے سفر پر روانہ ہوا ۔کیوں کہ ریڈویو ، ٹی ۔وی اور شوشل میڈیاپر روز یہ خبریں چلائی جارہی تھیں کہ ملک میں انقریب لاک ڈائون لگ جائے گا۔آمد و رفت کازمینی اور خلائی راستہ بھی بند کر دیا جائے گا۔اشفاق ابھی بھی اس وائرس کو ایک مذاق سمجھ رہا ہے ۔اس نے ٹرین میںسفرکے دوران بھی اس وبائی وائرس کے روک تھام کی غرض سے ڈاکٹروں کے بتائے گئے احتیاطی تدابیر کا استعمال نہیں کیا۔نہ ماسک ،نہ سینی ٹائزر اور نہ ہی سماجی فاصلے کا لحاظ رکھا۔ ٹرین کے بعد بس اور دسری مسافر گاڑیوں جن میںسفر کر تا رہا وہاںبھی لاپرواہ ہی رہا۔یونیورسٹی سے نکلنے کے قریب تین دن بعدوہ گھر پہنچا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی والدین اور بھائی بہن سبھی اس کی آمد سے خوش ہوئے کہ اللہ کا شکر ہے کہ وقت رہتے گھر لوٹ آیا ہے۔بڑے بھائی فاروق نے اشفاق سے کہا کہ’’ تم باہر سے آئے ہو کل ہسپتال جا کر جانچ کر کے آنا اور یہاں گھر میں بھی کچھ دنوں کے لیے الگ ہی بیٹھنا۔‘‘اس پر ان کی والدہ نے کہا ’’اللہ خیر کر ےتم اس کو ایسا کرنے کے لیے کیوں کہتے ہو یہ تو ماشااللہ سے ٹھیک ہے اور تندروست بھی،کیاہوگیا ہے تم کو بھائی سے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو۔‘‘انہوںنے امی سے کہا ’’امی جان یہ احتیاط کے طور پر ضروری ہے آپ تو روز ریڈیو سنتی ہیں کہ اگر کوئی باہر سے آپ کے علاقے میں آئے تو اس کی جانچ کرانی لازمی ہے اور اس کو کم از کم ۱۴ دن تک قرنطینہ میں بیٹھنا چاہئے۔‘‘امی نارض ہوگئی اور اس نے بڑے بیٹے سے کہا’’ وہ باہر سے آنے والوں کے لئے ہے یہ تو میرا بیٹاہے۔‘‘کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد اشفاق نے سبھی کو مخاطب ہو کر کہا ۔’’آپ لوگ بھی اس مغالطے میں ہیں کہ یہ وائرس کوئی چیز ہے یہ تو بس افواہ ہے اور کچھ نہیں۔اور میں کوئی الگ نہیں بیٹھنے کے لئے گھر نہیں آیا ہوں۔ میں تو یونیوسٹی میں سب سے آخر میں نکلا ہوں۔‘‘سبھی چب ہوگئے کیوں اشفاق بہت ہی چست اور تندرست لگ رہا تھا۔اگلے دن وہ اپنے دوست جاوید سے ملنے ان کے گھر گیا۔جہاں کیچن میں ان کے بزرگ والدین بیٹھے تھے انہوں اشفاق کو دیکھ کر کہا جاوید ابھی باہر گیا ہے تھوڑی دیر میں آتا ہی ہوگا۔تم کب آئے ہو؟چچی جان میں کل پہنچا ہوں۔اللہ سلامت رکھے۔بیٹا یہ بتائو یہ وبائی بیماری جس کے بارے سبھی لوگ آج کل پریشان نظر آرہے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے۔جاوید کے والد نے پوچھا۔چاچا :یہ کچھ نہیں ہے جس کو اللہ نے اپنے پاس بلانا ہوتا ہے وہ پھر وائرس وغیرہ نہیں دیکھتا ہے۔ایسے ہی خوامخواہ ڈرارہے ہیں۔میں بھی تو سوچوں آج تک ان ساٹھ برسوں میں کبھی ایسا نہیں سنا میں۔ٹی بی،کینسر،چیچک جیسی مہلک بیماریوں کا نام تو سنا تھا لیکن یہ کورونا کیسی بلا ہے جو انسان کو انسان کے چھونے سے یا قریب بیٹھنے سے بھی لگ سکتی ہے۔اس نے حیران کن لہجے میں کہا۔اشفاق نے ان کی مایوسی کو دور کرتے ہوئے کہا چچا جی کچھ بھی نہیں ہے بس حکومت کی چال ہے ۔اس درمیاںجاوید کی امی چائے لیکر آگئی۔تینوں نے چائے پی لی۔اشفاق نے دونوں سے رخصت چاہئی کہ ڈراسہما جاوید داخل ہوا۔ماں نے پوچھا بیٹا سب خیرت تو ہے تم اتنے خوف زدہ کیوں ہو۔جاوید نے کہا امی جان پڑوس کے گائوں میں۵افراد کو کورونا وائرس ہواہے اور ان کو ہسپتال لے جارہے ہیں۔اس پر اشفاق کو ہنسی آگئی جاوید تم بھی اس کو سچ مان رہے ہو۔جاویدنے اس کو دیکھ کر سب سے پہلے یہی کہا کہ اشفاق بھائی آپ نے ماسک کیوں نہیں پہنا ہے۔آپ تو پڑھے لکھے ہیں۔آپ دوسرے لوگوں کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔اس بیچ میں ان کے والد نے کہا اشفاق تو کہتا ہے کہ یہ وبائی بیماری حکومت کی کوئی چال ہے ڈھونگ ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘کیا۔۔۔؟جاوید کوتعجب ہوا۔کیا واقعی آپ ایسا سمجھ رہے ہیں اشفاق بھائی ۔’’جی بالکل سب ایسے جھوٹ موٹ کی بیماری ہے ۔‘‘اشفاق نے کہا۔’’نہیں نہیں میرے بھائی آپ بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔کیا آپ دنیا بھر کی خبروں سے آگاہ نہیں ہیں۔کیا آپ اپنے ملک اور اپنے شہر میں آئے دن اس وبائی مرض میں مبتلا افراد کی ہوشربا بڑھتی ہوئی تعداد سے بے خبر ہیں؟ کونسی دنیا میں رہ رہے ہیں آپ۔‘‘جاوید نے سمجھاتے ہوئے کہا۔اشفاق نے وہاں سے نکلتے ہوئے کہا ’’بھائی میں اسی دنیا میں رہ رہا ہوں اور مجھے یہ سب بکواس لگ رہا ہے اور کچھ بھی نہیں۔‘‘
گھر پہنچتے ہی اشفاق سے ان کی امی نے کہا’’ بیٹا نان بھائی کی دکان سے چائے کے لئے روٹیاں لے آنا۔‘‘وہ الٹے پائوں واپس لوٹا۔دوکان پر دس پندرہ افراد اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ۔کچھ لوگ ماسک پہنے ہوئے تھے اکثر بنا ماسک کے ہی تھے۔یہاں بھی اسی موضوع پر گفتگو ہورہی تھی کہ وا ئر س نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ لیکن وائرس سے بچنے کی تدابیر پر بہت کم لو گ عمل کر رہے تھے۔اشفاق نے ان کو بھی یہی کہا کہ آپ لو گ نہ ڈریں یہ کو بیماری نہیں ہے حکومت کی چال ہے۔جس پر وہاں موجودبعض لوگوں نے حامی بھر ی اور بعض کو تعجب ہوا۔جو حیرت سے اس کو دیکھنے لگے۔
یونیورسٹی سے لوٹنے کے قریب بارہ دن بعد اشفاق کو نزلہ ،بخاراورکھانسی ہونے لگی۔لیکن وہ اس کو معمولی اور عام سا بخار سمجھ کر روایتی دوائیاں لینے لگاتاکہ دوتین دن بعد ٹھیک ہوجائے۔مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ جس کو وہ معمولی بخار سمجھ رہا ہے دراصل کورونہ وائرس کی علامات ہیں۔جو رفتہ رفتہ اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔اسی دن جاوید کے والدین کو بھی کھانسی اور سانس کی تکلیف کی شکایت ہوئی جس کو دیکھتے ہوئے جاوید نے فوراًانہیں ہسپتال لے کر سب سے پہلے کورونہ کا ٹیسٹ کروایا جس کا نتیجہ مثبت دیکھ کر اس کے حواس باختہ ہوگئے۔کیونکہ کورونہ وائریس اس سے پہلے ان کے گاؤں میںاور کسی کو نہیں ہوا تھا۔یہ خبر گائوں میںجنگل کی آگ کی طرح بھیل گئی۔لوگ جو پہلے بے خوف گھوم رہے تھے اب گھر سے باہر قدم رکھنے سے کتراتے ہیں۔اشفاق کی حالت بھی خراب ہوگئی ساتھ میں اس کے والدین اور دیگر افراد خانہ بھی کچھ بخار کی سی کیفیت محسوس کرنے لگے۔اشفا ق کے بڑے بھائی نے ہسپتال سے گاڑی بلوائی اور سبھی افراد خانہ کاکورونہ ٹیسٹ کروایا جس کا نتیجہ مثبت آکر پورے گائوں میں کہرام مچھ گیا ۔ہسپتال والوں کے استفسار پر کہ آپ کے گائوں میں یہ وائرس اتنی تیزی سے کیسے پھیلا رہا ہے ؟کیا کوئی شخص گائوں کے باہر سے آیا ہے۔؟سبھی نے یک زبان ہوکر کہا ہاں اشفاق!
محکمہ صحت کو جب یہ خبر موصول ہوئی تو انہوں نے بر وقت ایک ٹیم تشکیل دیے کر گائوں میں جتنے بھی لوگ اشفاق کے رابطے میں آئے تھے ان کے ٹیسٹ کرانے اور ان کو دوسرے لوگوں سے الگ اور دور رہنے کی سخت ہدایات دیں۔ پتہ چلا کہ ۲۰ دن کی مدت میں گائوں میںکورونہ مثبت مریضوں کی تعداد ۷۰ سے تجاوز کر چکی ہے۔جن میں اشفاق ان کے والدین اور جاوید کے والدین کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔جن کو آکسیجن وینٹی لیٹر کے سہارے رکھا گیا ہے۔ادھر پورے گاؤں کومحاصرے میں رکھا گیا اور سبھی آمد و رفت کے راستے منقطع کیے گئے ہیں۔
گاؤں میں اس وقت افسردگی کی لہر ڈوڑ گئی جب جاوید کے والد اور اشفاق کی والدہ کی موت کی خبر پھیل گئی۔دونوں کورونہ وائرس کی وجہ سے ایک ہی دن انتقال کر گئے ۔ہسپتال کی گاڑی میں محکمہ صحت کے کچھ ملازم مخصوص قسم کا لباس پہنے دونوں میتوں کو بڑے تابوتوں میں رکھ کر گھر کے بجائے سیدھا جناز گاہ کے باہر اتارا گیا۔کسی بھی شخص کو میتوں کی زیارت تو دور قریب آنے بھی نہیں دیا گیا۔ دور دور رہ کرانہی چھ سات وردی پوش افراد نے جنازے کی نماز بھی پڑھی۔اس کے بعد تابوت سمیت قبر میں میتوں کو اتار دیا۔تکفین و تدفین کا ایسا منظر اس سے قبل گاؤ ں میں کسی نے دیکھا تھا،سبھی لوگ خون کے آنسوں بہانے لگے اور اللہ سے توبہ کیلئے ہاتھ اٹھانے لگے۔
ہسپتال میں اشفاق خود کی ،اپنے اہل خانہ کی اور گاؤں کے دیگر افرد کی کورونہ وائرس کی وجہ سے حالت زار دیکھ کر اپنی ماں اور دوست کے والد کو کھو کر اسے شدید افسوس ہوا اوروہ اپنی بے حسی اور لاپروہی پر زار و قطار رونے لگا۔اسے اس وائرس کے اتنے خطرناک اثرات و نتائج کا گماں بھی نہیں تھا۔ بے اختیار اس کی گالوں پر آنسوں کے قطرے گرتے ہیں اورہاتھ ملتے ہوئے موت اور حیات کی کشمکش میںاب وہ اس سوچ میں روز مر رہا ہے کہ کاش!میں نے اس وائرس کومذاق نہ سمجھا ہوتا۔کاش! میں نے وقت پر احتیاطی تدابیر پر عمل کی
ہوتی۔کاش ۔۔کاش۔۔ کاش۔۔۔ کاش۔۔۔!

Mushtaq Alam
Samboora Pampore Pulwama Kashmir
Mob:7006402409
Email Id:mushtaqalamphd87@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں