کمر دردوجوہات،علامات ، علاج، احتیاطی تدابیر 78

جو کچھ نہ بن سکا تو۔۔۔۔۔۔۔۔

مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں جو کچھ لکھوں گا سچ لکھوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں لکھوں گا۔۔۔۔۔۔اپ یہ تحریر پڑھ لیں۔۔۔۔۔مسکرایں پھر انکھیں بند کرکے سوچیں اور پھر سوچ سمجھ کر اپنی رائے لکھیں

ایک دور دراز علاقے کا اسکول ماسٹر بقول اس کے میرا مرید بن گیا کیونکہ میں نے اس کی طویل مدتی بیماری کا کامیاب علاج کیا تھا۔۔۔۔۔۔ایک دن وہ ایک پندرہ سالہ لڑکے کو میرے پاس بغرض علاج لایا۔۔۔۔لڑکا ظاہری طور ایک دماغی مریض نظر آرہا تھا اسے گرد و پیش کا کوئی اندازہ نہ تھا وہ ناخن چبا رہا تھا اس کے سر کے بال کسی چیل کا گھونسلہ لگ رہا تھا اس کے اوپر والے چار دانت ہونٹوں کے درمیان لٹک رہے تھے اس کے منہ کے کونوں سے لگاتار لعاب دہن بہہ رہا تھا۔ اس کی ناک لگاتار بہہ رہی تھی وہ بڑی بڑی آنکھوں سے میرے کمرے میں موجود چیزوں کو دیکھ رہا تھا کشمیری زبان میں ایسے لڑکے کو موُت کہتے ہیں ہماری زبان میں ایسے مریض کو۔sevre mental retardation کہتے ہیں۔۔۔۔
اس کے باپ نے مجھ سے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب تین بیٹیاں ہیں اور یہ اکلوتا بیٹا۔ اس کا علاج کریں عمر بھر آپ کے پیر دھو دھو کر پیوں گا۔اور آپ جو مانگیں گے وہ میں دوں گا
میں نے سوچا۔۔۔۔میں نے مینٹل ہاسپٹل میں کام کیا ہے اس لیے مجھے ایسے مریضوں سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔۔۔جانے کیوں میں نے چیلینج قبولِ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے میں نے اسے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا جس نے اس کے باہر کو نکلے ہوئے دانت نکالے اور پھرنئے دانت implantکرنے کا وعدہ کیا۔۔۔میںنے اس کے باپ سے کہا اسے ہر روز نہاؤ اس کے بالtrimکرو اور اسے رومال دیکر سکھاؤ کہ کس طرح ناک اور منہ صاف کرتے ہیں۔۔۔۔میں نے اس کے دائمی زکام اور منہ سے لگاتار لعاب بہنے کے لیے دوا یاں تجویز کیں۔۔۔۔۔۔علاج چلتا رہا مجھ سے جو ہو سکا میں نے کیا۔ میں نے کونسلر کا کام بھی کیا اس کے باپ سے کوئی فیس وصول نہیں کی ۔۔۔۔علاج اور اس کے ماں باپ کے سپورٹ نے لڑکے کی شکل وصورت بدل دی اب وہ نارمل لڑکا لگنے لگا میں نے اس کے لیے امریکہ سے کچھsupplement بھی منگوائے۔۔۔ اس کا باپ ہر معاملے میں میرا ساتھ دیتا رہا اور پورے ایک سال کے بعد وہ ایک نارمل لڑکا لگنے لگا۔ اب وہ بولنے بھی لگا۔۔۔ابا۔ موجی۔ ڈاکٹر ۔۔۔دوا pill۔۔کاپسول۔ انششن(injection). صابن۔۔۔دج۔ نس مس وغیرہ۔۔۔۔۔۔اس کے ماں باپ بہت خوش تھے اور میری جھولی دعاؤں سے بھر دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب سؤال یہ تھا کہ لڑکا کچھ کام کرے اس کے باپ نے ایڈوانس میں اس کے لیے میٹرک کی سرٹیفکیٹ کا انتظام کیا تھا اس کے چچیرے بھائی نے اس کے بدلے میٹرک کا امتحان دیا تھا اسکول کے اسناد کا انتظام اس کے اسکول ماسٹر باپ نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مریض صحت یاب ہوجائے تو پھر ڈاکٹر کی کیا ضرورت۔۔۔۔وہ مجھے بھول گئے۔۔۔اور کبھی شکل نہیں دکھائی اور جو وعدے کئے تھے وہ بھول گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو سال بعد اس اسکول ماسٹر کی بیوی بیمار ہوگئی اور وہ میرے پاس آیا اس کی بیوی کا علاج کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہارا وہ بیٹا کیسا ہے کیا کرتاہے۔۔تو اس نے ہشساش بشاش انداز میں کہا
اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آپ کی جوتی کی بدولت آج وہ بھی ڈاکٹر ہے۔ وہاں میڈیکل شاپ کھولا ہے دوایاں بیچتا ہے Licenseبھی خرید لی۔۔۔ایک میڈیکل شاپ پر چھ ماہ ٹریننگ کرلی اور پھر اپنی دکان کھولی۔۔۔۔بڑا رش رہتا ہے اب تو علاج بھی کرتاہے مریض کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دست شفا دیا ہے۔۔۔اچھی خاصی رقم کماتا ہے۔۔۔۔ وہ کہے جارہا تھا اور میں نہ جانے کہاں کھو گیا تھا کیا سوچ رہا تھا اور کیوں سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں