ضلع انتظامیہ کولگام کی کاوشوں سے نورآباد سیاحتی نقشے پر نمودار 83

ماضی کے جھروکے سے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کا شام ہو جائے

سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد

یادیں کبھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔اچھے برے حالات تو گزر ہی جاتے ہیں ۔انسان پہلے بچپن، پھر جوانی اور پھر بڑھاپے میں قدم رکھتا ہے ۔یعنی زندگی کا ہر دور گزر ہی جاتا ہے ۔انسان کے پاس اگر کچھ رہتا ہے۔تو وہ ہے کھٹی میٹھی یادیں۔بچپن کی یادیں کچھ زیادہ ہی خوشگوار ہوتی ہیں ۔آج سے چند روز قبل اپنے گاؤں کے مڈل اسکول(گورنمنٹ مڈل اسکول اویل) کے احاطے میں ایک شام گزارنے کا موقع نصیب ہوا۔میں اپنے اس اسکول کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا ۔بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں ۔جب میں اس اسکول میں بطور طالب علم تھا ۔تب یہ اسکول صرف دو کمروں پر مشتمل تھا ۔آج اگر چہ پانچ نئی عمارتیں کھڑی ہیں ۔تاہم دو کمروں پر کھڑی وہ عمارت آج بھی بچوں کے انتظار میں بے قرار نظر آئی۔اس کے صحن میں سے اگر چہ بیشتر شہتوت کے درخت اب موجود نہیں ہیں لیکن جتنے بھی درخت موجود ہیں وہ آج بھی گاؤں کے طلباء وطالبات کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہوئے نظر ائے یہ الگ بات ہے کہ آجکل نجی اسکولوں کی بھرمار سے اس اسکول میں طلبا کی تعداد قدرے کم ہو گئی ہےجس کی وجہ سے اسکول کی رونق کم ہو گئی ہے۔۔یہ شہتوت کے درخت اپنی جھولی میں معصوم بچوں کے لیے شہتوت لے کے ان کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔کیا خوب مزہ تھا جب ہم اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ شہتوت کے ان درختوں کے نیچے اپنے شفیق اور رفیق اساتذہ سے علم حاصل کرتے تھے ۔پڑھائی کے دوران کبھی کبھی شہتوت کے یہ درخت پکے شہتوت گراتے تھے ۔جیسے ہمیں روز اسکول آنے کے لیے ہمیں بہلا کر آمادہ کرتے تھے۔ایک عجیب قسم کا لگاؤ ہو گیا تھا ان شہتوت کے درختوں سے۔ پچھا چھپی کا کھیل بھی ان ہی درختوں کے پیچھے چھپ کر کھیلتے تھے ایسا لگتا تھا جیسے یہ درخت بھی ہمارے ساتھ کھیل کر یماری اس کھیل کا حصہ بنتے تھے۔اسکول کے صحن میں کھڑا وہ چنار بھی اپنا وہی اونچا قد لیے طلبا کے انتظار میں کھڑا تھا ۔آج بھی یہ چنار ننھے منھے بچوں کو اپنا سایہ فراہم کرنا چاہتا تھا ۔مجھے یاد ہے جب ہم وقت سے پہلے اسکول آتے تھے اور ہم سب کی یہی کوشش رہتی تھی کہ ہم اس چنار کے سایے میں بیٹھیں ۔جب کبھی ہم دیر سے پہنچتے تھے اور دھوپ میں بیٹھنا پڑتا تھا لیکن کچھ وقت گزرنے پر یہ گھنا سایہ ہم تک پہنچتا تھا۔اور سایے میں بیٹھے ہوئے میرے دوست دھوپ میں آجاتے تھے۔اس وقت ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہتی تھی ۔چنار کا یہ سایہ ہمیں روز یہ درس دیتا تھا کہ جہاں دھوپ وہاں سایہ۔ہمیں اس بات کی سیکھ بھی ملتی تھی کہ کوئی بھی خوشی یا غم مستقل نہیں ہے بلکہ یہ سب عارضی ہے۔مجھے میرے اسکول کے وہ شفیق اور رفیق اساتذہ یاد آئے۔جنہوں نے ہمیں بہت ہی محنت اور پیار سے پڑھایا ہے ۔میں اگر آج چار حروف لکھنے کا اہل ہوں تو یہ سب میرے رب اور اس کے بعد میرے ان شفیق اور رفیق اساتذہ کی مہربانی ہے۔مجھے اپنے اسکول کی وہ مارننگ اسمبلی یاد ہے ۔جب اپنی اپنی بھاری آنے پر سب کو آگے آنا پڑتا تھا ۔تالیوں کی وہ گونج میرے دل و دماغ میں آج بھی ہے جو مارننگ اسمبلی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کے اعزاز میں بجائی جاتی تھیں.اور یہ سب قدرت کے بچھائے ہوئے مخملی قالین پر انجام پاتا تھا۔اسکول کے ارد گرد تب بھی ایک دیوار تھی اور اب بھی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ تب یہ دیوار پیڑ پودوں کی تھی ۔جی ہاں ان پیڑ پودوں کی جو اسکول کے بچے اپنے اساتذہ کے کہنے پر گھروں سے لاتے تھے اور اسکول کا خاکروب ان پیڑ پودوں کو اسکول کے ارد گرد لگا دیتا تھا ہاں مگر اب یہ دیوار سمنٹ اور لوہے کی ہے۔مجھے میرے اساتذہ محترم بھی یاد ہیں۔محترم بشیر صاحب کا نو بجے اسکول میں حاضر ہونا اور چھٹی ہونے پر سب سے آخر میں نکلنا۔بشیر صاحب کی وہ ہمدردی اور خلوص آج بھی میری نگاہیں ڈھونڈ رہیں ہیں ۔محترم ارشاد صاحب کا بچوں سے کھیلنا ,اور بچوں کو ہنسانے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈ نکالنا ۔اس اپنے پن اور درد کی کمی آج بھی کھلتی ہے۔میری آنکھوں کے سامنے آج بھی محترم اقبال صاحب، شبیر صاحب، سلطان صاحب، افتخار صاحب، اور مرحوم فاروق صاحب موجود ہیں ۔اور نہ جانے اور کتنے اساتذہ کرام اس اسکول سے وابستہ تھے جن کے اسم گرامی مجھے اس وقت یاد نہیں ہیں ۔مجھے یاس ہے جب ہم اپنی لکھی ہوئی تختیوں کو اسکول میں ہی چھپائے رکھتے تھے تاکہ کل دوسری تختی نہ لکھنی پڑے بلکہ اگلی صبح اسی تختی سے کام چلایا جائے ۔لیکن اساتذہ کی اس ذہانت کو سلام جو اگلی صبح ان کل کی لکھی ہوئی تختیوں کو فوراً الگ کرتے تھے ۔میں آج بھی حیران ہوں کہ ہمارے شفیق اساتذہ بلا کیسے پہچانتے تھے کہ کون سی تختی کل کی لکھی ہوئی ہے اور کون سی تازہ؟ میں اپنے شفیق اساتذہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کو بھولے نہیں ہیں ۔ہمیں آپ کی ایک ایک رفاقت اور آپ کا ایک ایک احسان آج بھی یاد ہے۔آپ کی قربانی کے بدلے میں میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کی اس قربانی اور ایثار کے بدلے میں آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔دل کرتا ہے کی اس اسکول. سے لپٹ کر روؤں اور اپنے من کا بوجھ ہلکا کروں ۔دلی خواہش ہے کہ اسی اسکول میں میری تعیناتی ہو ۔ اور اسی محبت اور ہمدری سے بچوں کو پڑھاؤں جس طرح سے میرے شفیق اور رفیق اساتذہ نے مجھے پڑھایا ۔اسکول کے صحن میں موجود مخملی سبزہ آج بھی اسی طرح کی مارننگ اسمبلی کا انتظار کرتا ہے لیکن کرونا کی وجہ سے ایسا ابھی ممکن نہیں ہے۔ پورے ملک کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ میرا یہ پیارا اسکول بھی سنسان لگتا ہے ۔امید ہے کہ کرونا کی یہ وبا جلد ختم ہو گی اور تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ میرے اس پیارے اسکول کی بہاریں پھر سے لوٹ آئیں گئیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں