شہنواز مصطفوی
فرمان رسول اللہ ﷺ کے مطابق تمام صحابہ کرام عادل ستاروں کی مانند ہیں اور اہل زمین کے لئے باعث امان ونجات ہیں مگر جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما می خلفائے راشدین کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ مقام ومرتبہ ہی ان نفوس قدسیہ کی ایمانی فضیلت اور ذات مسطفیٰ ﷺ سے غیر معمولی وابستگی کی دلیل ہے ان نفوس قدسیہ نے اپنے احساس ذمہ داری ،فلاح وبہبود عامہ ،تبلیغ اسلام اور انتہائی کٹھن وقت میں اپنے صبر واستقامت کی بدولت یہ ثابت کردیا کہ ان کا انتخاب حق اور شوکت وغلبہ دین کے باعث تھا ان میں سے ہر ایک کی شخصیت آسمان رشد و ہدایت پر جگمگاتے ھوئے ستاروں کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔رسول اللہﷺ کے فیضان صحبت اور تعلیم وتربیت کی بدولت صحابہ کرام ؓ اشاعت اسلام کے اولین داعی اور راہ حق میں استقامت و ثابت قدمی کے پہاڑ بن گئے انہوں نے غلبہ دین حق اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ایسی فقیدالمثال قربانیاں پیش کیں کہ ان کا انفرادی واجتماعی کردار تا قیامت امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ بن گیا ۔ان ہی نفوس قدسیہ میں ایک شخصیت کا اسم گرامی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی ؓ ہے
حضرت عثمان بن عفان ؓ کے خادم حضرت مسلم )ابو سعید(سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا اور ایک پاجامہ منگوایا اور اسے زیب تن کرلیا اسے آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی پہنا تھا اور نہ ہی زمانہ اسلام میں پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے گزشتہ رات حضور نبی اکرمﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور آپ کے ساتھ ابو بکرؓ اور عمر ؓ بھی ہیں ان سب نے مجھے کہا ہے کہ) ائے عثمان( صبر کرو پس بے شک تم کل افطاری ہمارے پاس کروگے پھر آپ نے مصحف منگوایا اور اس کو اپنے سامنے کھول کر تلاوت فرمانے لگے اور اسی اثناء میں آپ کو شہید کردیا گیا اور وہ مصحف آپ کے سامنے ہی تھا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اپنی طرف بلا بھیجا جب وہ آئے تو حضور نبی اکرمﷺ کی طرف بڑھے اور آپ نے ان کے ساتھ جو آخری کلام فرمایا :وہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مار کر فر مایا :ائے عثمان بے شک اللہ تعالی تمہیں) خلافت کی( قمیص پہنائے گا اگر منافقین اس کواتارنے کا ارادہ کریں تو از کو ہرگز نہ اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو پس آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا
حضرت عثمان بن عفان ؓ ایک مالدار اور با حیاء شخصیت تھے جنہوں نے اسلامی تحریک کو اس وقت اپنا مال پیش کیا جب اس کی بے حد اشد ضرورت تھی حضرت رسول اکرم ﷺ کو بھی حضرت عثمان غنیؓ سے بے حد محبت تھی حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت نبی اکرم ﷺ سے پوچھا :کیا جنت میں بجلی ھوگی آپﷺ نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک عثمان جب جنت میں منتقل ھوگا تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی)حاکم المستدرک( حضرت عثمان غنیؓ کی خصوصیت میں سے یہ بھی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ ہر نبی کا ایک رفیق ھوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ؓ ہے اس روایت کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
کون عثمان غنی ؓ جس نے مسلمانوں کے لئے اس وقت اپنے مال سے ایک کنواں خریدکر وقف کردیا جب مسلمان پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے یہ وہ عظیم شخصیت ہے جنہوں نے حضورﷺ کے ایک ایک فرمان پر لبیک کہتے ھوئے اپنی دولت اس وقت اسلام اور بانی اسلام حضرت رسول اکرمﷺ کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لئے نچھاور کردی جب تحریک اسلامیہ داخلی اور خارجی سازشوں کی شکار تھی
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حضرت عثمان ؓ کا ذکر کیا گیا حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا وہ تو نور والے ہیں عرض کیا گیا نور سے کیا مراد ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا نور سھ مراد آسمانوں اور جنتوں کا آفتاب ہے اور یہ نور جنتی حوروں کو بھی شرماتا ہے اور میں نے اس نور یعنی عثمان بن عفان سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیاہے بس اس وجہ سے اللہ تعالی نے عالم ملائکہ میں ان کا نام ذاالنور) نور والا( رکھا ہے اور جنتوں میں ذاالنورین )دونوروالا(رکھا ہے تو جس نے عثمان کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اس روایت کو ابن عساکر نے فی تاریخ دمشق الکبیر میں بیان کیا ہے
امام جود وسخا ثالث امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان غنیؓ داماد رسول اکرم ﷺ کی خلافت 24 ہجری سے 35 ہجری تک تقریبًا بارہ سال پر مشتمل رہی اور وسعت خلافت تقریبًا 44 لاکھ 46 ہزار مربع میل تھی آپ کے دور خلافت میں مشرق وسطیٰ ،مشرق ادنی،اور افریقہ کی مہمیں خلافت اسلامیہ کے شاندار ماضی کی عکاسی کرتی ہیں ۔حرم کعبہ کی توسیع اور مسجد نبوی کی از سر نو تعمیر اور ترتیب قرآن جیسے عظیم کام آپ ہی کے دور خلافت کی دین ہے مگر بدقسمتی سے دشمنان اسلام کی مکاریوں اور عیاریوں سے اسلام کو ہمیشہ کی طرح اس وقت بہت بڑے نقصان سے دوچار ھونا پڑا جب حضرت عثمان غنیؓ کو منافقوں اور باغیوں نے 18 ذالحجہ 35 ہجری کو شہادت کے مرتبے پر فائز کردیا اور ملت اسلامیہ پھر سے ایک بار داخلی اور خارجی شازشوں کا شکار ھوگئی ۔بلوائیوں نے نہ صرف آپ کو شہید کیا بلکہ آپ کے جنازے پر سنگ باراں کر کے آپ کے جنازے کو بھی منتشر کرنے کی ناپاک کوشش کی ۔وہ عثمان ؓ جن کو رسول اللہ جنت کی بشارت دے وہ عثما نؓ جس کی عظیم ذات اور جس کا پاک مال ہمیشہ ہمیشہ اسلام اور بانی اسلام کی کی ناموس کی پہرے داری میں پیش پیش رہا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔
