نہیں اسے ہے پرواہ زمانے کی 70

زہے نصیب ہے مجھے اپنانے لگے

غزل

گل تنویر

زہے نصیب ہے مجھے اپنانے لگے
میرے رقیب بھی مجھے چاہنے لگے
اپنا مقدر ہے روز سہتے رہے جو ستم
اپنے بھی تو سدا کیوں جلانے لگے
راہ میخانے کی معلوم نہ تھی مجھ کو
چاہ انکی جو مدہوشی میں پلانے لگی
دل سے چاہا تھا ان کو جو بچھڑگے
وہ ہمیں ہم انہیں جو پلانے لگے
درد و غم کو بنالیا ساتھی میں نے
غم جانان کے وعدے رلانے لگے
محفل یاران سے ملا جو پیار ہر سو
ان کی یادوں میں کھوجانے لگے
آنسو رواں ہیں دل کو کیا کیا بنائوں
دل ہی دل میں ان کو چاہنے لگے
یہ رنگینیاں کسی کام کی نہیں تنویر
کھانیاں لڑکپن کی انکو سنانے لگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں