کسی کی یاد میں ۔۔۔۔قطعات 92

کسی کی یاد میں ایک نظم

شیخ گلزار

چھڑایا ہاتھ تم نے بھی مگر میں
تمہیں تو ڈھونڈ لوں میں ہر نگر میں
ہوا کرتی تھی جو آواز گھر میں
کھنک باقی ہے اب دیوارودر میں
میں جن کے ساتھ محوِ گفتگو ہوں
فقط وہ عکس ہیں تیرے، نظر میں
میں روتا ہوں نہیں بس تیری خاطر
لیے پھرتا ہوں آنسو آنکھ بھر میں
تم آتے ہی نہیں ہو ورنہ تیری
میں کب سے منتظر ہوں رہگزر میں
میں ڈرتا ہوں نہیں پر آج تنہا
بہت گھبرایا خود کو دیکھ کر میں
دعا کرتا ہوں اب بھی تیری خاطر
دُعا کرتا رہوں یوں عمر بھر میں
تجھے تو علم ہے تیری وفا میں
ہوں ٹھہرا شہر میں ایک معتبر میں
کہا جو آپ نے کافی ہے گلزارؔ
بہت حیران ہوں یہ جان کر میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں