وقت کے ساتھ چلا توُ بھی نہیں میں بھی نہیں 166

ہونے لگے جو موم پگھل کر یہ آدمی

غزل

منظر زیدی، لکھنو ٔ

 

ہونے لگے جو موم پگھل کر یہ آدمی
سمجھو ہے سب کے واسطے نشتر یہ آدمی
پانی میں جیسے برق چھپی ہے اسی طرح
باہر سے کچھ ہے اورکچھ اند ر یہ آدمی
تہذیب جب سے سیکھ لی انسان بن گیا
کہتے ہیں ایک روز تھا بندر یہ آدمی
ٹکڑے بدن کے کرکے دباے ٔ ہیں اسلیٔ
تاکہ اُگے کچھ اور سنور کر یہ آدمی
جلد ی امام آیئے اب اس زمین پر
پھر بن گیا گناہ کا پیکر یہ آدمی
پہلے تو رینگتا تھا زمینوں کی گود میں
پہنچا ہے اب تو چاند پہ منظرؔ یہ آدمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں