سینئر وکیل دھیرج کور کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد۔ 0

سینئر وکیل دھیرج کور کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد۔

پولیس حراست میں بے قصور لوگوں کے ساتھ ظلم و بربریت کو بتایا غیر آئینی۔

ندائے کشمیر /ماجد چوہدری

پونچھ/16 جون / مرکزی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل حویلی کے شہرِ خاص میں ماضی قریب میں ایک معاملہ پیش آیا تھا جس میں جگویندر سنگھ نامی ایک شخص جو محکمہ پولیس میں ملازم ہے اور باکسنگ میں قومی سطح کا گولڈ میڈلسٹ کھلاڑی ہے کے فوٹو و ویڈیوز میڈیا و سوشل میڈیا پر گردش کررہے تھے جس میں اسکے بدن پر چوٹیں دکھائی گئی تھیں جس پر جگویندر سنگھ کے کنبہ کے افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ اس وقت کے تعینات ایس ایچ او رنجیت سنگھ راو نے بلا وجہ اس شخص کے ساتھ مار پیٹ کی اور اس پر پولیس تھانے میں لیکر ان پر اتنی تشدد کی کہ انکو اہسپتال داخل کرنا پڑ گیا تھا ۔
اس ضمن میں آج سینئر ایڈوکیٹ دھیرج کور نے دیگر وکلاء و پولیس کے ظلم زدگان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کر پولیس حراست میں لوگوں کے ساتھ ظلم و بربریت کرنے ، انہیں تھرڈ ڈگری جیسی اذیت دینا ، انہیں بجلی کے کرنٹ لگانے جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے اسے غیر آئینی بتایا اور کچھ اشخاص کا ذکر بھی کیا جن پر سابق ایس ایچ او پونچھ رنجیت سنگھ راو نے ظلم و ستم کر معذور ہونے تک کی حالت تک پہنچا دیا جبکہ انہوں نے بتایا کہ پولیس کا کام ایف آئی آر درج کر ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے اور اگر ثبوت و شواہد ملزم کے خلاف ملتے ہیں تو عدالت کے حکم پر اسے تحویل میں لیکر اس کی تفتیش کی جاتی ہے لیکن انسانی حقوق کے دائرہ اختیار میں لیکن پونچھ پولیس اسٹیشن میں سابق ایس ایچ کی جانب سے صرف شک کی بنیاد پر ہی لوگوں کو حراست میں لیکر انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے انکے ساتھ بربریت کی جاتی ہے جو غیر قانونی ہے جس کے خلاف آج آواز بلند کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح کچھ لوگ انکے پاس آئے ہیں جو پولیس کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں اسی طرح اگر کسی شخص پر ظلم و ستم بلا وجہ ہوا ہو وہ ہم سے رابطہ کرے ہم اسکی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہیں اور انکی لڑائی بحیثیت انسان لڑیں گے ۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہم محکمہ پولیس کے بالکل خلاف نہیں کیونکہ پولیس ہے تو ہم حفاظت سے رہتے ہیں لیکن کچھ ایسے اشخاص جو اس طرح لوگوں پر غیر قانونی طریقے سے ظلم و بربریت کرتے ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے تاکہ انسانی حقوق کو پامال کرنے کے بارے میں کوئی مستقبل میں حماقت نہ کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں