ایمان بااللہ کی معرفت اور اُس کے واجبات 314

مثالی عدل و انصاف کے علمبردار حضرتِ عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہُ

شہنواز مصطفوی

خلیفہ دوم جانشین پیغمبر وزیر مصطفیٰ حضرت عمرؓ کی کنیت ابو حفص اور لقب فاروق اعظم ہے آپؓ 39 مردوں کے بعد اعلان نبوت کے چھٹے سال میں ایمان لائے ۔آپ کے ایمان کے لئے جو الفاظ حضور ﷺ کے لبہائے مبارک سے ادا ھوئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ ائے اللہ! عمر بن الخطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو جبرئیل ؑ نازل ھوئے اور کہا ائے محمدﷺ!تحقیق اہل آسمان نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے پر خوشی منائی ہے اور مبارکبادیاں دی ہیں (ابن ماجہ باب فضل عمر)
جس ہستی کے ایمان لانے پر آسمان والے خوشیاں منائے اور جس عظیم ذات کے ایمان لاتے ہی طاغوتی ایوانوں میں زلزلہ پیدا ھوجائے اور دنیائے کفر یہ اعلان کرے کہ آج کے دن ہماری قوم دو حصوں میں بٹ گئی اس کی عظمت ورفعت کا عالم کیا ھو گا جس کے ایمان لانے پر عبداللہ بن مسعود فرمائے کہ کہ بے شک حضرت عمرؓ کا قبول اسلام (ہمارے لئے ) ایک فتح تھی اور ان کی امارت (یعنی خلافت) ایک رحمت تھی خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ اسلام لائے پس جب وہ اسلام لائے تو آپؓ نے مشرکین مکہ کا سامنہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی (الطبرانی)
ایمان کا تقاضا ہے کہ جہاں اہلبیت اطہار سے محبت ووابستگی ضروری ہے وہیں پر تمام صحابہ کرام کی تعظیم واحترام بھی لازمی بلکہ ایمان کا جز ہے جہاں تعظیم صحابہ کی باتیں اہل بیت کی محبت کے بغیر خارجیت ہے وہیں محبت اہل بیت کا دعوی بغیر تکریم صحابہ منافقت ہے
حضرت عمرؓ وہ عظیم شخصیت ہے جن کے بارے میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ حق تعالی سب سے پہلے جس شخص کے سے مصافحہ فرمائے گا وہ عمرہے اور سب سے پہلے جز جس شخص پر سلام بھیجے گااور سب سے پہلے جس کا ہاتھ پکڑکر جنت میں داخل فرمائے گا وہ عمر ہے۔(ابن ماجہ) ۔آپ ؓ کی رائے پر بہت سے قرآنی آیات کا نزول ہی آپ کے عظیم المرتبت ھونے کی ایک بہٹ بڑی دلیل ہے ۔حضرت انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی سعادت حاصل کی ۔میں عرض گزار ھوا کہ یا رسول اللہﷺ کاش ہم مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بنائیں تو حکم نازل ھوا (اور مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناو) اور پردے کی آیت ،میں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا :کاش آپ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم فرمائیں کیونکہ ان سے نیک اور بد ہر قسم کے لوگ کلام کرتےہیں تو پردے کی آیت نازل ھوئی اور حضور نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات نے رشک کے باعث آپ ﷺ پر دباو ڈالا تو میں نے ان سے کہا ۔اگر وہ آپ کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب انہیں اور بیویاں عطا فرمادے جو اسلام میں آپ سے بہتر ھوں تو یہی آیت نازل ھوئی یہ تین آیات کا ذکر شہرت کے اعتبار سے ہے ورنہ ان آیات کی تعداد ذیادہ ہے (بخاری)
حضرت عمر بن الخطاب ؓ ایک قاری قرآن عالم بااللہ اور ایک بہت بڑے فقیہہ تھے جس کا اظہار حضرت قبیصہ بن جابرؓ نے ان الفاظ میں کیا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروق ؓ سے بڑھ کر کوئی عالم بااللہ نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی کتاب اللہ کا قاری دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی دین کا فقیہ دیکھا ہے
حضرت عمرؓ نے اٹھائیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔آپؓ کی زندگی تین ادوار پر مشتمل ہے دور قبل از ایمان دور اسلام اور دور خلافت ۔اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ رسول اللہﷺ کے شانہ بہ شانہ اسلامی تحریک کو منظم کرنے اور اللہ عزوجل کے نظام کو غالب کرنے کے لئے حضور رحمت عالم ﷺ کے ساتھ تمام مہمات میں شریک رہے ۔آپ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ کے مشیر خاص بھی تھے۔اللہ عزوجل کی حدود کی پاسداری کے معاملے میں آپ نہایت سخت مزاج رکھتے تھے اسی لئے آپ کو رسول اللہ ﷺ نے (غلق الفتنہ) فتنوں کو بند کرنے والا کا لقب عطا کیا ۔حضرت قدامہ بن مظعون ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان بن مظعون ؓ کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنی سواری پر سوار تھے کہ حضرت عمرؓ کی سواری نے حضرت عثمان ؓ کی سواری کو دھکا دیا اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سواری قافلہ سے آگے چل رہی تھی پس حضرت عثمان ؓ نے کہا : ائے فتنوں کو روکنے والے جب سواریاں رکیں تو حضرت عمر ؓ حضرت عمرؓ کے قریب گئے اور کہا آئے ابو سائب اللہ تعالی تمہاری مغفرت فرمائےیہ کون سا نام ہے جو تو نے مجھے دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم میں وہ نہیں ھوں جس نے تمہیں یہ نام دیا ہے بلکہ حضورﷺ نے خود تمہیں یہ نام دیا ہے جو کہ اس لشکر کی قیادت فرما رہے ہیں ۔وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن آپؓ ہمارے سامنے سے گزرے ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ھوئے تھے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ شخص (یعنی عمر دین اور امت کے خلاف اٹھنے والے)فتنوں کو روکنے والا ہے اور آپﷺ نے ان کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ بھی فرمایا اور فرمایا :یہ تمہارے اور فتنوں کے درمیان ایک سختی سے بند کیا ھوا دروازہ ہے جب تک یہ تمہارے درمیان زندہ ہے (فتنہ تمہارے اندر داخل نہیں ھو سکے گا۔آپ ؓ ہی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ (لو کان نبی بعدی لکان عمر) یعنی اگر میرے بعد کو نبی مبعوث کیا جاتا تو وہ عمر ھوتا
حضرت عمر بن الخطابؓ 13 ہجری میں مسند خلافت پر فائز ھوئے آپ کا دور خلافت اسلام کے عروج کا ناقابل فراموش اور بے مثال دور تھا ۔آپ نہایت ہی سادہ قسم کا لباس زیب تن فرمایا کرتے اور اپنی رعایا کے حقوق اور ضروریات کے معاملے میں نہایت سنجیدہ رہتے ۔آپ کے دور خلافت میں اللہ تعالی نے امت مسلمہ کو بیحد فتوحات سے نوازا ۔شام اور عراق کی مہمیں عراق کی تسخیر جنگ نمارق جس میں ایرانیوں نے شکست کھائی الیس کی جنگ بویت جنگ قادسیہ ،مدائن کی تسخیر،جنگ اجنادین جس میں رومیوں نے شکست کھائی 16 ہجری میں حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں امیر المومنین حضرت فاروق اعظم نے القدس (یروشلم) کی ظرف اسلامی لشکر مسجد اقصیٰ کو صیہونیوں سے آزاد کرانے کے لئے روانہ کیا اور وہاں کے رومی گورنر ارطبون کو ان الفاظ میں خظ بھیجا ہم چاہتے ہیں کہ تم اس بات کا اعلان کرو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم اس کے آخری رسول ہے قیامت کا دن حق پر ہے یہ اس دور کی بات ہے جب عمر رضی اللہ عنہ اس وقت کے سوپر پاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے عمر صاحب عدالت تھے لیکن ہم پر افسوس ہے کہ عمر کی صدا جیسے چیکھ کر کہہ رہی ہے گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی۔
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
تجھے آباء سے اپنی کوئی نسبت ھو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ
ہم جاہتے ہیں کہ تم لوگ اس بات کا اعلان کرو کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں ۔نیز یہ کہ یوم الحساب برحق ہے اور اللہ تعالی مرے ھوئے لوگوں کو قبروں میں سے اٹھاکر زندہ کرلے گا ۔اگر تم ان باتوں کا اقرار کرو اور اعلان کردو تو ہمارے لئے تمہارا خون گرانا،تمہارے مال لینا اور تمہارے بچوں پر قبضہ کرنا حرام ھو جائے گا ۔اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو خراج اور جزیہ دینے پر رضا مند ھوجاو اور اگر یہ بھی منظور نہیں تو میں تم پر چڑھائی کرنے کے لئے ایسے آدمی بھیجوں گا جو موف کع اسی شوق سے قبول کرتے ہیں جس شوق سے تم شراب اور سور کا گوشت کھاتے ہو۔
یہ الفاظ اس امیر المومین کی ذبان سے ادا ھو رہے ہیں جو تھا تو ایک عظیم سلطنت اسلامیہ کا حکمران مگر سادگی کا عالم یہ تھا کہ جو لباس زیب تن تھا اس میں 17 پیوند لگے ھوئے تھے یہ الفاظ اپنے رب پر غیر متزلزل یقین اور اپنے دین کی حقانیت کی عکاسی کرتے ہیں۔کیوں نہ ھو آپ ہی کے بارے میں فرمان رسولﷺ ہے کہ بے شک آسمان کے فرشتے عمر سے خوش اور اہل زمین کے شیطان حضرت عمرؓ سے لرزتے ہیں ۔ آپؓ کے دور خلافت میں دنیا کی بڑی بڑی طاغوتی قوتوں کا غرور مٹی میں مل گیا اور ان کو مبنی برحق و انصاف نظام کے سامنے سر نگوں ھونا پڑا ۔آج جو صیہونی طاقتیں معصوم اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ماضی میں وہی طاغوتی قوتیں حضرت عمرؓ کے سامنے زندگی کی بھیک مانگتے پھرتے تھے اور اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے جزیہ دیتے تھے بلکہ اگر ان یہودیوں اور عیسائیوں کو تجارت کے لئے کہیں باہر جانا پڑتا یہ اپنی ماووں اور بہن بیٹیوں کو مسلمانوں کے گھروں میں چھوڑ جاتے کیونکہ جانتے تھے کہ وقت کا خلیفہ حضرت عمرؓ ہے جس کے ھوتے ھوئے ہماری عزت کو نقصان پہنچانے کی جرت کوئی نہیں کر سکتا۔آپ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو مال غنیمت کی اتنی فراوانی حاصل ھوئی کہ جسے دیکھ کر حضرت عمرؓ روپڑے اور فرمایا
کہ میں ڈرتا ھوں کہ مال غنیمت کی یہ فراوانیاں جو اللہ ﷻ ہمیں عطا کر رہا ہھ کہیں مسلمانوں میں دنیا کی محبت اور حسد کے جزبات کو ترقی دینے کا باعث نہ بن جائیں اگر ایسا ھوا تو یہ قوم تباہ ھو جائے گی
23 ذی الحجہ 23ہجری کو حضرت عمر فاروقؓ کو بہ حالت نماز خنجر کے وار سے زخمی کیا گیا اور تین دن تک صاحب فراش رہنے کے بعد 26 ذی الحجہ کو شہادت کے مرتبے پر فائز ھوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں