افسانہ۔۔۔’’ پِیروں کے پِیر ‘‘ 92

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

تحریر:رشید پروین ؔسوپور

(قسط09 )

دید رانی جس کے بارے میں آپ پچھلی قسط میں پڑھ چکے ہیں ، ،کی جب آنکھیں کھلیں تو اس کے اپنے بیٹے کی اولاد میں کوئی زندہ نہیں تھا کیونکہ یہ ڈائن خود ہی ان سب کو اقتدر کی ہوس میں تر نوالہ بنا چکی تھی اس لئے اب اپنے بھتیجے سنگرام کو ولی عہد بناکر آخری سفر پر روانہ ہوئی ، یہاں سے ایک نئے خاندان (خاندانِ لوہر کوٹ ) علاقہ پونچھ ۔۔کی بنیا دپڑی جنہوں نے کم و بیش ۱۶۰ برس حکومت کی ، اس ۱۶۰ برس کامختصر سا تذکرہ کروں گا کیونکہ لگ بھگ یہ سارا عہد اوباشوں ،قمار بازوں اور بدقماشوں کا دور ہی رہا ، جس میں رعایا مسلسل ریگستانوں کی تپتی دھوپ کے سفر میں ہی رہی، ہاں بیچ میں کہیں کچھ وقت کے لئے کوئی نخلستان ظاہر ہوا ہو تو اس کے ذکر کا حق بنتا ہے ،، تو دیدا رانی کے بعد راجہ سنگرام ۱۰۱۷ ؁ء میں تخت نشین ہوا اور ۱۶۰ برس کی حکمرانی کے دوران اس خاندان کے ۱۴ بادشاہ تخت نشین ہوئے ، پہلا راجہ سنگرام راج ہوا جس نے وزیر ( تونگ )کو بنایاجس کا تعارف آپ کو پہلے دیا تھا ، تونگ چونکہ نہ تو برہمن تھا ، نہ کسی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتا تھا اور نہ ہی کشمیر کا تھا اس لئے پر’’سپور ‘‘( آج کا پر ہاس پورہ) جس سے اپنے زمانے میں للتا دت مکتا پیڈ نے بسایا تھا )اور دارالخلافہ تھا کے برہمنوں کو تونگ پسند نہیں تھا بلکہ وہ خار کی طرح ان کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا ، تونگ کو بے حد اختیارات سونپنے کی وجہ سے برہمنوں نے اعتراضات کئے ،ان کے ساتھ ظاہر ہے کئی اور قبیلے بھی ملے ہوں گے جنہوں نے بغاوت کی ،لیکن سنگرام کی فوجوں سے شکست کھا گئے ،ان کی جائدادیں ضبط ہوئیں منادروں اور بت خانوں سے بے دخل کئے گئے اور اس طرح یہ لوگ ایک گوجر (تونگ )کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئےیہی دور ہے جب سلطان محمود غزنوی نے راجہ کالنجر پر حملہ کیا ،اس کا ذکر یوں آیا کہ ۱۰۲۲؁ء راجہ ترلوچن پال بھا گ کر یہاں راجہ سنگرام کے ہاں پناہ گزین ہوا اور سنگرام سے مدد کا طالب ہوا ،سنگرام نے تونگ کو لشکر جرار دے کر محاظ جنگ پر بھیجا لیکن سلطان غزنوی نے میدان جنگ میں انہیں زبردست شکست دی ،وزیر تونگ بھی جان بچاکر واپس آیا ، ،، ملا احمد نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ سلطان غزنوی ترلوچن کا تعاقب کرتا ہوا کشمیر بھی آیا لیکن ترلوچن کشتواڈ یا جموں کی طرف بھاگ نکلا ، سنگرام نے سلطان کی خدمت میں تحایف پیش کئے ، انہیں سلطان نے قبول کیا اور سنگرام کی کسی بات کو پسند کرکے اس سے خلعتوں سے سرفراز کیا ، راجہ سنگرام کی طبیعت میں بھی وہی رعونت اور گھمنڈ کا عنصر پیدا ہوا اور رذالت پر اتر آیا ،جو اکثربادشاہوں کا شیوہ رہا ہے ، تونگ کو اپنے مخالفوں نے موقعہ پاتے ہیں قتل کیا جس کا بادشاہ کو بہت دکھ ہوا ،راجہ سنگرام کی ایک رانی جس کانام لیکھا رانی تھا اس دور میں مشہور ہوئی کیونکہ اسی رانی کی زلف گرہ گیر میں راجہ پناہ لے کر امور سلطنت سے غافل ہوا ۔سنگرام کی حکومت ۲۴سال ۹ ماہ اور کئی دن رہی ،،،۱۰۴۱ میں راجہ سنگرام کا بیٹا ہری راج تخت نشین ہوا ،، ایام حکمرانی ۲۲ روز ،،، اس کی ماں روپ لیکھا کو اپنی وقعت اور اہمیت تھوڈی کم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تو اپنے بیٹے کو یعنی ہری راج کو قتل کروا کر تخت پر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن اراکین سلطنت مخالف ہوئے ، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ،،، اس لئے ہری راج کے بھائی اننت راج کو ۱۰۴۱ ؁ ء میں تخت پر بٹھایا گیا ، اننت ابھی بالغ بھی نہیں تھا ،مملکت کی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا بھی نہیں تھا اور تیسری اہم بات یہ کہ ساری سلطنت کا نظام سنگرام راجہ کی وجہ سے درہم برہم تھا ، اس لئے والئی لوہر کوٹ نے بہت سارا لشکر جمع کیا اور صغر سن راجہ پرہلہ بول دیا ،اننت کے حمائتی بھی میدان جنگ میں کود پڑے ، ’’اگرہ راج ‘‘میدان جنگ میں مارا گیا ،اننت عنان حکومت سنبھالنے کے قابل ہوا تو انتظامات اپنے ہاتھ میں لئے ،لیکن عوام کی بدقسمی سے پھر ایک بار راجہ زلفوں کی چھاوں میں چپ کے سے سونے کا عادی ہوا ، اور ملکی انتظامات وزیروں کو تفویض کئے جنہوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق لوٹ مار شروع کی ،بڑی مدت کے بعد اننت دیو راجہ نے راجہ جالندھرکی لڑکی شری متی سے بیاہ رچایا ، ، یہ شری متی ، ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ زیور علم ، فہم و فراست اور علم و ادب سے بھی آراستہ و پیراستہ تھی ، اس نے بڑی جلدی راجہ پر قابو پاکر ملکی انتظامات کو بڑی حکمت عملی سے انجام دینے کی شروعات کی ،اور آہستہ آہستہ راجہ کو بھی درست راہ پر لگانے کی کوششیں شروع کیں، لگتا ہے کہ اس دوران عوام نے اطمینان کی سانس لی ہوگی ، کیونکہ ملکی امورات جب عدل اور انصاف کی بنیادوں پر آگے بڑھتے ہیں تو سلطنتوں میں سنہری دور کا آغاز ہوجاتا ہے ، رانی شریمتی کی تعلیمات نے راجہ پر آخر اتنا اثر کیا کہ۵۳ سال کی حکمرانی کے بعددنیاوی مخمصوں کو چھوڈ کر تخت اپنے بیٹے کلش دیو کے حوالے کرکے گوشہ نشین ہوگیا ،راجہ کلش دیو۱۱۹۴؁ء تخت نشین ہوا اس کے بارے میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ انتہائی درجے کا زندیق ، زانی ، قمار باز ،شرابی اور آوارہ گرد ثابت ہوا ، جب اس کے باپ انت دیو کو ان کارناموں سے واقفیت ہوئی تو بڑے صدمے سے دوچار ہوا لیکن بے دست و پا ہوچکا تھا ، رانی شریمتی نے بڑی کوشش کی کہ کہ بیٹا راہ راست پر آجائے لیکن ممکن نہیں ہوا ، اسی دوران اننت نے ہمت سے کام لے کر کلش کو معزول کرنے کا اعلان کیا اور پوتے کلشدیوکے بیٹے’’ ہر شد دیو‘‘ کو اپنا جانشین مقرر کیا ،لیکن کلش دیو نے مکاری اور فریب سے باپ کو رام کرکے اس قدم سے باز رکھا اور در پردہ باپ کے خلاف سازشیں رچانے میں مصروف ہوا ، اننت دیو کو کسی طرح سے بر وقت خبر مل گئی تو فوراً ہی بجبہہاڈہ بھاگ گیا ، کلش دیو نے باپ کے ہمدردوں اور وفاداروں پر قہر ڈھایا اور ان کی جائدادیں ضبط کیں بلکہ بہت سے وفاداروں کوآگ میں زندہ جونک دیا ۔ باپ کا بجبہاڈہ میں رہنا بھی گوارا نہیں کیا اور ایک اندھیری رات میں فوجوں کے ساتھ محلات جہاں اب باپ کا مسکن تھا پر دھاوا بولا، محلات کو آگ لگائی اور مال و دولت جو ہاتھ لگا لوٹ لیا ،خوش قسمتی سے رانی اور اننت دیو کسی طرح محل سے اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہوئے ، اننت دیو ایسا ٹوٹا کہ گھاس کی پوشاک زیب تن کرکے کہیں آس پاس ہی تپسیا میں مصروف ہوا لیکن اننت دیو نے اپنے باپ کے لئے یہ پیغام بھیجا کہ جینا چاہتے ہو تو کشمیر چھوڈ دو اور کوہستان پونچھ میں جاکر عبادت کرو ، اس پیغام نے اننت کے دل کو کس طرح چیرا ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب کی اس کی رانی شریمتی ریکھا جس نے ہمیشہ بیٹے ہی کا پکش لیا تھا وہ بھی ٹوٹ گئی ،، اننت دیو اس صدمے کو برداشت نہیں کر سکا اور خود کشی کرلی ،رانی نے بیٹے کو اس کی اطلاع دی اور چاہا کہ کلش اپنے باپ کی چتا کو آگ ہی لگائے لیکن وہ نہیں آیا ، اس کا غم بھی اتنا بڑا تھا کہ اسنے پتی کی چتا پر ۔ستی۔ ہونے کا ارادہ کیا اور دلہن کی طرح سج کر اننت دیو کے ساتھ چتا پر چڑھ گئی ، ظاہر ہے کہ ستی ہونے کی رسم اس سے پہلے بھی صدیوں سے رائج رہی ہوگی ، یہ سماج اور معاشرے کے بنائے ہوئے رسم برہمنوں کے اذہان ہی کی اختراع رہے ہوں گے ،اس راجہ نے بجبہاڈہ کے نزدیک ہی مندر کلشی شور اور موضع تربہون کے نزدیک ایک شہر آباد کیا ، راجہ کلش دیو نے یہ سارے ظلم و ستم صرف آٹھ سال ۴ مہینے میں ڈھائے ، جو اپنے ماںباپ کو قتل کرانے اور زندہ جلانے کے منصوبے بناسکتا ہے اور پھر ان پر عمل بھی کر سکتا ہے اس نے اپنی رعایا کو کتنے دکھ دئے ہوں گے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ، اپنے بیٹے ادت کرش کو ولی عہد نامزد کیا ،ساری سلطنت کو درہم برہم اور منتشر کرکے ۱۱۰۲؁ء کو پرلوک سدھار گیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا راجہ ادت کرش ۲۲ روز تک حکمران رہا ،ادت کرش کی اپنے بھائی کے ساتھ نہیں بنی جس کا نام بجے مل تھا ، بجے مل اپنی جان کے خوف سے پرگنہ لار بھاگ آیا ،مستقل مزاج تھا یہاں فوجیں جمع کیں ،اور ایک بھاری جمیعت بہم پہنچاکر سرینگر پر ہلہ بولہ ، ادت کرش اور جے مل کے درمیان محلہ تاشواں سرینگر میدان جنگ بنا،میدان جنگ میں ہار کے آثار پیدا ہوتے ہی ادت نے خود کشی کی اور میدان ہرشدیو کے ہاتھ رہا ،جس کی مدد جے مل نے بھی کی تھی ، دونوں نے مل کرحکمرانی شروع کی لیکن اپنے امراء وزرا نے ان دونوں بھائیوں میں فوراً پھوٹ ڈالنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور ایسا کرکے ہی دکھایا ،ہرشدیو کے بارے میں کلہن پنڈت نے کئی کہانیاں درج کی ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ راجہ احمقانہ پن تک سادہ لوح تھا، مثلاً ایک بار یہ راجہ لوہر کوٹ گیا تو واپس آنے کا نام ہی نہیں لیا ، اس لئے کئی دانشوروں نے کسی مدن نام کے مسخرے کی مدد طلب کی جس نے فوراًٍ ہی بادشاہ کے پاس جاکر کہا کہ پہاڈوں کے پیچھے ترکی افواج خیمہ زن ہوچکی ہیں ، کسی بھی لمحے لوہر کوٹ پر حملہ ہوگا ، ہمیں اپنی جان پہلے ہی بچانی چاہئے، تو بادشاہ سلامت نے اسی وقت رخت سفر باندھا اور اپنے محل میں آکر ہی دم لیا ،۔ایک مرتبہ کسی ٹھگ نے ایک خوبصورت نازنیں کو دربار میں پیش کرکے بادشاہ کو باور کرایا کہ یہ سورگ سے آپ کی والدہ آئی ہیں انہیں وہاں کچھ ضرورت آن پڑی ہے ، بادشاہ نے فو راً ہی اس نازنین کو بے شمار تحفے دے کر رخصت کیا ،ایک دفعہ بادشاہ سلامت اپنے محل کے صحن میں کھڑے تھے کہ او نچے درختوں کی طرف نگاہ اٹھی ، ایک دم سارے درختوں کو کاٹنے کا حکم صادر کیا اور وجہ یہ بتائی کہ ان کی شاخیںحرم خانہ شاہی کی درشن کرتی ہیں ،بہرحال واقعات بہت ہیں جنہیں طوالت کی وجہ سے قلمبند کرنے سے عاجز بھی ہیں اور ضروری بھی نہیں ،اس راجہ کے چچیرے بھائیوں کے ساتھ ٹھن گئی ، کئی بار ایک دوسرے کے مقابلے میں آتے رہے اور آخر کار دونوں بھائی اوسچل اور سوسل نے بیک وقت دھاوابول کر ہرشد کی فوج کو ہرایا، ہرشد اپنے ساتھیوں سمیت کسی زمیندا رگھر میں روپوش ہوا لیکن اوسچل کے سپاہئیوں نے اس سے ڈھونڈ کر قتل کیا اس طرح ہرشد دیو نے گیارہ سال آٹھ ماہ اور بائیس دن بادشاہی کا تاج سرپر رکھا اور پھر اپنا سر کٹایا ،،، کلہن پنڈت کا باپ ،جس کی تاریخ راج ترنگنی ہی لگ بھگ تمام کشمیری مورخوں کا ماخذ ہے ( چمبکہ)اسی راجہ کا درباری یاوزیر تھا
تحریر:رشید پروین ؔسوپور
9419514537

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں