میر خوشحال فیضی ۔۔کرناہ کپواڑہ
درد لکھتا ہوں ،خواب لکھتا ہوں
حسرتوں کی کتاب لکھتا ہوں
دشت و صحرا کی خاک چھانی ہے
وحشتوں کے عتاب لکھتا ہوں
مسکراتے ہی رہتے ہیں وہ اب
جب سے ان کو جناب لکھتا ہوں
زندگی نے دئیے ہیں کتنے غم
شاعری میں حساب لکھتا ہوں
اپنی ماں کی محبتوں کو میں
جنتوں کی شراب لکھتا ہوں
مجھ سے خائف ہیں اس لئے عاشق
عاشقی کا نصاب لکھتا ہوں
تیرا چہرہ ہے ہو بہو ویسا
اس لئے میں گلاب لکھتا ہوں
بے وفاؤں سے کس لئے لڑنا
خود کو بھی میں خراب لکھتا ہوں
مل بھی جائے اگر تمہیں فیضی
دنیا کو میں سراب لکھتا ہوں
ربطہ نمبر ۔۔9622772188
