غزل
فردوس تسلٓیم رحمانی
میرا محبوب روٹھا ہے بہارو تم منالاؤ
کرو احسان اِس دل پر سہارو تم منالاؤ
نازک ہے بہت ہی وہ ، ذرا نخرے اُٹھائے ہے
بڑے نازوں کے عادی ہیں کہارو تم منالاؤ
بھٹکتے پھررہے ہیں دربدر اُنکی پناہوں میں
دکھا کر راہ عکسوں کی اِشارو تم منالاؤ
کوئی ان کو دلاتا یاد بِتا وہ کئ لمحات
دلا کر یاد حسین لہریں ، کِنارو تم منالاؤ
یہ کہنا یاد نہ آئیں ، مر مٹنے کی وہ قسمیں؟
نہ بھولیں گے کبھی وعدے نظارو تم منالاؤ
ہے کیسا وقت یہ آیا ، کہ تنہائی بڑھی جاتی
یقیں ہے کچھ نہ بدلے گا ، دُلارو تم منالاؤ
کہیں ہو جائے نہ باطل کہانی یہ محبت کی
ملا کرنا تیرے سایوں میں،چِنارو تم منالاؤ
جدائی کیسےہوتسلٓیم،گواہ ہیں چاند اور تارے
بھلا ہم کیسے جی پائیں، سِتارو تم منالاؤ
