سرینگر// شوپیان سمیت پوری وادی میں معمول کی عوامی ،کاروباری اورتعلیمی سرگرمیاں بحال ہوگئیں،کیونکہ بازارکھل گئے ،اسکولوں وکالجوں کی رونق بحال ہوگئی ،اورامتحانات بھی شیڈول کے مطابق لئے گئے ۔ہائی اسپیڈموبائل انٹرنیٹ سروس اورریل خدمات بھی بحال ہوگئیں تاہم صورہ اوراسکے نواحی علاقے ،گاندربل ،کنگن اورککرناگ میں مقامی جنگجونوجوانوں عیسیٰ فاضلی اورسیدائوئیس شفیع کی یادمیں تعزیتی ہڑتال جاری رہی ۔اس دوران کچھ ایک مقامات پرمظاہرے اورتصادم کے واقعات بھی پیش آئے تاہم مجموعی طورپر2روزبعدصورتحال پُرامن رہی ۔پولیس حکام نے بھی مجموعی صورتحال کواطمینان بخش قراردیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی جگہ سے کسی ناخوشگوارواقعے کی اطلاع نہیں ملی ۔خیال رہے مزاحمتی قیادت نے سوموارکی شام ہی یہ واضح کردیاتھاکہ منگل کیلئے کوئی ہڑتال کال نہیں دی گئی ہے جبکہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے شام دیرگئے گئے اعلان کیاگیاکہ منگل کے روزسری نگرشہرسمیت پوری وادی میں اسکول اورکالج کھلے رہیں گے اورمختلف امتحانات بھی شیڈول کے مطابق لئے جائیں گے ۔نمائندے کے مطابق رواں ماہ کی 4تاریخ کوشوپیان کے پہنوعلاقہ میں شام کے وقت فائرنگ کے ایک واقعے میں 2مقامی جنگجوئوں اور4معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف سوموارکی صبح سے پہاڑی ضلع شوپیان میں ہڑتال کی گئی جومتواتر8روزتک یعنی گزشتہ سوموارتک جاری رہی ۔تاہم منگل کی صبح شوپیان قصبہ اورضلع کے دوسرے بیشترعلاقوں میں بازارکھل گئے اورمسافرگاڑیاں بھی سڑکوں پرپھرنمودارہوئیں ۔ضلع بھرمیں اسکول اورکالج بھی آٹھ روزبعدکھل گئے اورسرکاری دفاترمیں بھی ملازمین کی حاضری برابررہی ۔تاہم اس دوران قصبہ شوپیان اوردیگرکچھ علاقوں میں انتظامیہ نے پولیس اورفورسزکوکسی بھی صورتحال کافوری مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھاتھا۔پورے دن ضلع میں کاروباری اورعوامی سرگرمیاں نیزدفتری کام کاج معمول کے مطابق چلتارہاجبکہ تعلیمی اداروں کی رونق بھی بحال ہوگئی۔شوپیان اوردیگرمقامات پرقائم امتحانی مراکزمیں بھی طلاب امتحان دینے کیلئے پہنچے ۔ادھر شہرسری نگرسمیت باقی پوری وادی کشمیرمیں 2روزبعدمعمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔ بازارکھل گئے ،اسکولوں وکالجوں کی رونق بحال ہوگئی ،اورامتحانات بھی شیڈول کے مطابق لئے گئے ۔لالچوک سمیت سیول لائنزمیں سبھی بازارکھل گئے اورشہرکے باقی سبھی علاقوں بشمول شہرخاص میں بھی منگل کوصبح سے ہی معمول کی عوامی اورکاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں ۔اُدھروادی کے باقی بیشترعلاقوں میں بھی منگل کے روزمعمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں ۔اس دوران بانہال تابارہمولہ ریل سروس بھی بحال ہوگئی جبکہ ہائی اسپیڈموبائل انٹرنیٹ سروس بھی بحال کردی گئی ۔شہرسری نگرسمیت پوری وادی میں اسکول اورکالج کھل گئے اوراسکے ساتھ ہی تعلیمی سرگرمیاں بھی بحال ہوگئیں ۔تاہم مقامی جنگجوکمانڈرعیسیٰ فاضلی کی یادمیں صورہ ،احمدنگر،بژھ پورہ ،عمرہیر،پاندچھ ،الٰہی باغ اور90فٹ روڑپرواقع بستیوں کے ساتھ ساتھ گاندربل اورکنگن میں بھی تعزیتی ہڑتال جاری رہی ۔اس دوران سبزی منڈی صورہ اوردیگرکچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں اورفورسزاہلکاروں کے درمیان تصادم آرائیوں کے اکادُکاواقعات پیش آئے ۔تاہم مجموعی طورپرہڑتال کے باوجودسبھی علاقوں میں صورتحال پُرامن رہی ۔اُدھرمقامی جنگجونوجوان سیداوئیس شفیع کی یادمیں ککرناگ ،زالنگام اوروائلو میں بھی تعزیتی ہڑتال جاری رہی ۔ان سبھی علاقوں میں بازاربندرہے جبکہ سڑکوں سے مسافرگاڑیاں غائنب رہیں ۔خیال رہے مزاحمتی قیادت نے سوموارکی شام ہی یہ واضح کردیاتھاکہ منگل کیلئے کوئی ہڑتال کال نہیں دی گئی ہے جبکہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے شام دیرگئے گئے اعلان کیاگیاکہ منگل کے روزسری نگرشہرسمیت پوری وادی میں اسکول اورکالج کھلے رہیں گے اورمختلف امتحانات بھی شیڈول کے مطابق لئے جائیں گے ۔
117
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
