سبزار احمد بٹ۔۔۔۔اویل نورآباد
حضرت علامہ اقبال ایک عالمی شہرت یافتہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مفکر اور فلسفی رہے ہیں انہوں نے اپنی شاعری میں ایک آفاقی پیغام عالم انسانیت تک پہنچایا ہے ۔ان کی شاعری اگر چہ ہر طبقے ، ہر عمر اور ہر دور کے انسانوں کے لیے یکساں حثییت رکھتی ہے تاہم وہ اپنی شاعری میں قوم کے نوجوانوں سے خصوصیت کے ساتھ مخاطب ہیں۔نوجوان طبقہ کسی بھی ملک اور قوم کا ایک اہم ترین اثاثہ مانا جاتا ہے ۔قوم کی ترقی اور تغیر و تبدیلی اسی طبقے سے ممکن ہے۔یہی وجہ ہے علامہ اقبال قوم کے نوجوانوں سے خصوصی طور مخاطب ہوئے ہیں انہوں نے قوم کے نوجوانوں کو شاہیں کے اعلیٰ ترین خطاب سے سرفراز کیا ہے ۔شاہیں ایک ایسا پرندہ ہے جسے پرندوں کا بادشاہ اور پہاڑوں کا شہزادہ کہا جاتا ہے ۔یہ پرندہ اعلیٰ صفات کا مالک ہے ۔بہت اونچی پرواز کرتا ہے ۔اور کبھی بھی مردہ جانور نہیں کھاتا ہے۔خود بھی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی اسی طرح کی ترغیب دیتا ہے۔ شاہیں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے۔اس کا کوئی ٹھکانا یا آشیانہ نہیں ہوتا بلکہ اسے سفر میں رہنا اچھا لگتا ہے۔علامہ اقبال قوم کے نوجوانوں میں شاہین جیسی صفات دیکھنے کا متمنی ہے ۔اقبال اپنی شاعری کے زریعے قوم کے نوجوان کو یہ بارآور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں مصائب اور مشکلات سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرنا ہے۔مصائب سے آپ کو پست ہمت نہیں ہونا ہے بلکہ مصائب اور مشکلات آنے سے آپ میں مزید ہمت اور تجسس پیدا ہونا چاہئے فرماتے ہیں
تندہِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اور اونچا اڑانے کیلئے
اقبال نوجوانوں کو تبدیلی کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم کے نوجوان نئی نئی ایجادات کر کے دنیا میں اپنا نام زندہ رکھیں۔اور ہر مرحلے پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر اپنا اور اپنے قوم کا نام روشن کریں ۔انہیں قوم کے ان بزرگوں سے شکایت تھی جو تغییر و تبدیلی سے ڈرتے تھے اور قدامت پسندی کے قائل تھے ۔اقبال کی نظر میں تبدیلی ہی زندہ ہونے کی نشانی ہے ۔فرماتے ہیں
آئین نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
اقبال نے اپنی ایک نظم”جاوید کے نام” میں بظاہر اپنے بیٹے جاوید اقبال سے نصیحت کی ہے لیکن دراصل وہ پوری قوم کے نوجوانوں کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں ان ہی لوگوں کا نام زندہ رہتا ہے جو کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتے ہیں جو موافق وقت کا انتظار نہیں کرتے ہیں بلکہ جو اپنے لیے موافق اور مناسب وقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسا کرنے لیے لیے وہ حالات سے الجھ پڑتے ہیں چاہے حالات جیسے بھی ہوں ۔ وہ حالات کا شکار نہیں ہوتے ہیں بلکہ حالات کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں فرماتے ہیں
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق فقیری ہے امیری نہیں
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
قوم کا یہ ہمدرد اپنی شاعری کے زریعے نوجوانوں سے فرماتا ہے کہ آپ کے مقاصد جلیل القدر ہونے چاہیے نہ کہ حقیر اور کمتر۔مجھے آپ میں سے وہیں نوجوان پسند ہیں جن کی نظر ستاروں پر بلکہ ستاروں سے بھی آگے ہو۔وہ نوجوانوں کی کسی ایک کامیابی کو ان کی کامیابی قرار نہیں دیتے ہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ قوم کے نوجوانوں کو کامیابی پر کامیابی حاصل کرنی ہے ان کے لیے کامیابی کی کوئی حد مقرر نہیں ہے فرماتے ہیں
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
ایک اور غزل میں نوجوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کچھ اس طرح کے شعر تخلیق کئے ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اقبال اپنی آفاقی اور انقلابی شاعری کا سہارا لے کر اپنی ایک نظم “خطاب بہ جوانانِ اسلام” میں قوم کے نوجوانوں کو ان کا ماضی یاد دلاتے ہیں کہ ان کا ماضی کس قدر تابناک اور شاندار رہا ہے۔اور ان نوجوانوں کے حال کا کیا حال ہو گیا ہے ۔وہ نوجوانوں کو بڑے مفکرانہ لہجے میں فرماتے ہیں بلکہ پوچھتے ہیں کہ اے نوجوان تمہیں اپنے ماضی کی کچھ خبر بھی ہے کیا تم نے اس بات پر کبھی غور و فکر کیا ہے کہ تمہارا ماضی کیا رہا ہے؟ تمہارے اسلاف کون تھے؟ تمہارا تعلق کس قوم سے ہے؟ اور کن لوگوں نے تمہیں اپنی آغوش میں پالا پوسا ہے؟ وہ قوم جو دنیا کی حکمرانی اور جاہ و حشمت کو اپنی جوتیوں تلے روندتی تھی۔جن کے قدموں میں کئی سارے تاج پڑے رہتے تھے۔جس قوم نے کبھی اپنی خودی کا سودا نہیں کیا۔لیکن آج تم معمولی اور حقیر مقاصد کے لیے اپنی خودی کو بیچ دیتے ہو۔ اس فکر کا اظہار علامہ اقبال نے مذکورہ نظم میں کچھ اس طرح سے کیا ہے
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارہ
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا
اقبال فرماتے کہ قوم کے نوجوان نے اسلاف سے ملنے والی میراث کو کھو دیا ہے۔قوم کا نوجوان اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے میں ناکام ہو گیا ہے بلکہ اسلاف کے نقشِ پا کو مٹانے کا مرتکب ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہماری قوم بے بس اور لاچار ہو گئی ہے اور ہم پر دنیا غالب ہوتی جا رہی ہے۔جبکہ ہمارے اسلاف دنیا پر غالب تھے ۔اسی نظم میں اقبال فرماتے ہیں
تجھے اپنے اسلام سے نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا
اقبال نوجوانوں کو اپنی خودی کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں یاد رہے کہ اقبال کے یہاں خودی سے مراد انا یا تکبر نہیں بلکہ ہمت، استقلال، جرات ،خوداری ,ہمدردی اور احساس ہے ۔اقبال کا ماننا ہے کہ جس قوم میں خودی باقی ہو گی اسے شمشیر یا کسی اور ہتھیار کی ضرورت نہیں پڑتی ۔بلکہ ہ قوم اپنی خودی سے کھٹن سے کھٹن حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔وہ بھی تب جب خودی کی یہ نعمت قوم کے نوجوانوں میں موجود ہو ۔فرماتے ہیں
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس قوم کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اقبال نوجوانوں کو ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو پُر اعتماد ہو اور جو تمام قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ جہاں برداشت ہو، محبت ہو رواداری اور بھائی چارہ ہو۔اقبال کی نظر میں ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی ہمت قوم کا نوجوان ہی کر سکتا ہے۔کیونکہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اقبال قوم کے نوجوان سے ناامید نہیں ہے وہ جانتے ہیں کہ ایک بار اس قوم کے نوجوان کا جزبہ جاگ گیا تو اسے اپنی منزل زمینوں میں نہیں آسمانوں میں نظر آئے گی فرماتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں کی نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہیں تہرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گمبند پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
علامہ اقبال کو موجودہ تعلیمی نظام اور اسے چلانے والوں سے بھی شکایت ہے اُن کا ماننا ہے کہ جن بچوں کو اللہ نے شاہین جیسی صلاحیتوں سے نوازہ تھا یعنی جن میں اڑنے کی صلاحتیں موجود تھی موجودہ تعلیمی نظام ان بچوں کو رینگنا سکھاتا ہے
فرماتے ہیں
شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دیتے ہیں خاک بازی کا
اقبال کا ماننا ہے کہ آجکل کا نوجوان کتابیں تو پڑھتا ہے بلکہ اسے کتابوں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔لیکن عملی طور پر آج کا نوجوان کمزور ہو گیا ہے جبکہ ایک مسلم نوجوان سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس کی زندگی باقیوں کے لیے ایک مثال ایک نمونہ ہو۔ اس نوجوان کے پاس قران مجید کی شکل میں ایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے لیکن آج کا نوجوان قرانی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہیں اسی فکر مندی کا اظہار حضرت علامہ اقبال نے” طالب علم” نامی اس چھوٹی نظم میں کیا ہے
خدا تجھے کسی طومان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے صاحبِ کتاب نہیں
موجودہ دور میں مسلم نوجوان کی جو حالت ہے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے آج کا نوجوان کس قدر کم ہمت ہو گیا ہے آج کے نوجوانوں کے مقاصد کتنے حقیر اور کمتر ہیں اور وہ کن خرافات میں کھو گئے ہیں۔آج کا نوجوان کھوٹے سکوں میں اپنی خودی بیچ رہا ہے آج کا نوجوان اپنے اصل مقاصد سے بالکل ہٹا ہوا ہے۔مادیت پرستی، خودکشی، جھوٹ، قریب، نام نہاد محبت، سوشل میڈیا اور نہ جانے کن کن خرافات میں آج کا نوجوان کھو گیا ہے۔آخر علامہ اقبال کا وہ شاہین کہاں کھو گیا جسے علامہ اقبال نے بڑے ناز سے شاہین کا لقب دیا تھا ۔علامہ اقبال اپنے رب سے دست بدعا ہیں کہ اس نوجوان کا کھویا ہوا وقار پھر سے بحال ہو فرماتے ہیں
جوانوں کی میری آہ و سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
میرا نورِ بصیرت عام کر دے
موجودہ دور میں میں جہاں اخلاقی قدروں کی پامالی عروج پر ہے اور نوجوان طبقہ اس برائیوں میں ملوث ہوتا جا رہا ہے وہاں علامہ اقبال کے پیغام کو عام کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ آج کا نوجوان اپنی اصلیت کو جان سکے اور وہ کرگس نہیں بلکہ شاہین بن کے اس لقب کی لاج رکھے جو علامہ اقبال نے اسے بڑے فخر سے دیا تھا۔کرگس بزدل ہونے کے ساتھ ساتھ مردار کھانے کا بھی عادی ہوتا ہے بلکہ اس سے تو حلال اور محنت سے کمایا ہوا کھانا کھایا ہی نہیں جاتا جبکہ شاہین ان صفات کے متضاد صفات کا حامل ہے اگر چہ دونوں ایک ہی ہوا میں اڑنے والے پرندے ہیں اقبال ان کی اسی فرق کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور
اقبال کی شاعری قوم کے نوجوانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور انہیں ایک نیک، پُر امن اور صالح معاشرہ تعمیر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔دنیا امید پر قائم ہے اور ہم بھی امید کریں گے کہ اقبال کی شاعری سے قوم کے شاہین جاگ جائیں گے اور انہیں زندگی کا اصل مقصد مل جائے گا ۔اس امید کا اظہار علامہ اقبال نے خود بھی کیا ہے۔فرماتے ہیں
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
سبزار احمد بٹ۔۔۔۔اویل نورآباد
