آزاد قیدی..۔۔۔۔۔۔۔۔مغربی مورال پر کراس 81

…….فسانہ’’موسم ابھی بدلا ہی نہیں‘

ڈاکٹر نورالامین۔۔۔مہاراشٹر

ڈاکٹرریاض توحیدی کشمیری

افسانہ ’’ موسم ابھی بدلا نہیں‘‘ موضوعاتی برتاؤ میں ایک مابعد جدید افسانہ ہے کیونکہ اس میں مابعد جدید دور کی سائبر لائف اور مادیت پرستی کے مضر اثرات کو کہانی کا روپ دیا گیا ہے۔افسانے کی کہانی خصوصاََمرکزی کردار اول کی مشینی زندگی سے منسلک ہونے کی وجہ سے ذہنی الجھن کا کینوس دیکھ کر علامہ اقبال کا مشہور شعر یاد آیا:
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اور افسانے کا جو بنیادی تھیم نکلتا ہے وہ مشینی زندگی کی مصنوعی چمک دمک کے زیر اثر احساس مروت کی موت ہی ہے۔اورمرکزی کردار اول اپنی بیوی ’عافی‘کے سامنے فلسفیانہ انداز سے جس دکھ کا اظہار کررہا ہے وہ دراصل احساس کی موت کا ہی دکھ ہے جو واٹس ایپ ‘فیس بک یا دوسرے سوشل سائٹس اور انٹرنیٹ لائف اور مادیت پسندزندگی کے نفع ونقصان کے فارمولے کا نتیجہ ہے۔ سوشل میڈیا ایک طرح سے دو دھاری تلوار (Double edged sword)بن چکا ہے جہاں یہ ایک طرف دوردراز لوگوں سے جوڑنے کا کام سکینڈوں میں انجام دیتا ہے وہی دوسری جانب قریبی رشتوں کی مسافت بڑھانے کا کام بھی بخوبی سرانجام دیتا ہے۔افسانہ ایک طرح سے سائبر ایج میں اخلاقی اقدار (Ethical issues in Cyber age) کو ڈسکورس بنارہا ہے کہ کس طرح اخلاقی قدروں‘ رشتے ناطوں کا احساس‘غم اورخوشی کی فطری وابستگی کاسوشل میڈیا سے متاثر ہوکر انسان کا دولت وشہرت ہونے کے باوجود مایوس زندگی گزارنا ۔ایک طرح سے وریچول لائف کے مضر اثرات پر کہانی کا فوکس بھی ہے۔:
’’وہ میں ۔۔۔سپید ۔۔۔ کورا کاغذہوگیا ہوں۔‘‘
’’ آج میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میں کسی بھی ہاں ۔۔۔ کسی بھی جذبہ کا اظہار نہیں کرپارہا ہوں۔‘‘
’’ میرے سارے جذبات مرگئے ہیں۔‘‘
اسی طرح مشینی لائف کے مصنوعی احساسات اور جذبات یعنی کسی کی موت پر دلی افسوس کرنے کے بجائے صرف مسیج کے ذریعہ مشینی طرز کی مصنوعی ہمدردری وغیرہ جیسے کئی منفی اثرات کو افسانے میں ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے برعکس ایک اور کردار ’’اختر‘‘جو اس قسم کے جھنجھٹ سے آزاد ہوکرخوشحال زندگی گزار رہا ہے‘کی اطمینان بخش زندگی دیکھ کر مرکزی کردار اس کی مثال اپنی بیوی کو دے رہا ہے کہ:
’’زندگی تو اختر نے جی ہے ۔میر اSuccess صرف پیسوں کا ہے اس کاSuccess زندگی ہے۔ میرے پاس صرف پہچان ہے لیکن اختر کے پاس اس کا خود کاExistanceہے۔اس کا وجود ہے۔
میں کتنی خوشیوں اور حاثوں کا مقروض ہوں۔‘‘
اس طرح سے افسانہ کئی خوبصورت تخلیقی جملوں اور خیالات کا دلچسپ اظہاریہ بن چکا ہے۔جو قاری کو بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کی طرف مائل کردیتا ہے۔یہ اس افسانے کی ایک اہم کامیابی قراردی جاسکتی ہے۔ افسانہ فنی اور کرافٹ کا دلچسپ نمونہ پیش کرتا ہے۔ کم جملوں میں بہت کچھ بتا رہا ہے۔اور بہت کم لوگ اس طرح کا افسانہ لکھ سکتے ہیںجس میں فنی‘تکنیکی اور موضوعاتی جدت ہو۔
افسانے کے عنوان’’ یہ موسم بدلا ہی نہیں‘‘ اور کلائمکس پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے خوبصورت افسانے کا کلائمکس کچھ خاص متاثر نہیں کرسکا ۔ اس کا نام’’اداس موسم‘‘ یا’’ مشینی زندگی‘‘ بھی رکھا جاسکتا ہے۔
(تجزیہ :ڈاکٹرریاض توحیدی کشمیری)
Wadipora Handwara Kashmir 193221 ‘Cell:7006544358

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں