غزل
منظر زیدی، لکھنؤ
راہبر پاس نہ آتا تو بہت اچھا تھا
دُور سے راہ دکھاتا تو بہت اچھا تھا
رات بھر کس لئے تکئے کو بھگویا اسنے
اشک پلکوں پہ سجاتا تو بہت اچھا تھا
مٹ گیا کیونکہ لبوں پر تھی نئی بات مرے
سب سے آواز ملاتا تو بہت اچھا تھا
وہ پریشاں ہے شناساؤں سے شہرت کے
اپنی پہچان گنواتا تو بہت اچھا تھا
عید کے دن بھی مری آنکھ سے برسا پانی
آج وہ یاد نہ آتا تو بہت اچھا تھا
مٹ گیا خود بھی لہو جسنے ہزاروں کا پیا
زندگی اپنی بناتا تو بہت اچھا تھا
اک کسک دل میں منانے کی تو رہتی منظرؔ
وہ اگر رُوٹھ کے جاتا تو بہت اچھا تھا
