نشان 155

نشان

ڈاکٹرعبدالمجید بھدرواہی

گھرمیںصرف اُس کی بوڑھی ماں جواکثربیماررہا کرتی تھی اوروہ خود رہتی تھی ۔ گھرکاخرچہ نکالنے کے لئے انہوںنے مرغیاں پال رکھی تھیں۔جن سے اس کو چوزے بھی ملتے تھے اورایک بکری تھی جس سے دودھ حاصل ہوتاتھا۔ انڈے ۔چوزے اوردودھ بیچ کروہ گھرکاتھوڑابہت گذارہ کرلیتی اور… ڈسپنسری سے ماں کے لئے دوائیاںبھی خریدتی ۔یہ سب حاصل کرنے کے لئے وہ چندرکوٹ ،رام بن کے پل کے قریب سڑک پرمرغیاں اورانڈے دِکھا دِکھا کران کوبیچنے کاکام کرتی تھی۔چونکہ وہ گاؤں کی پندرہ سولہ برس کی الھڑحسینہ تھی۔ ناسمجھ سیدھی سادھی ۔کبھی کبھی موٹرسائیکل سوار۔ گاڑی والے،آرمی والے گاڑی میں سواراس کے ساتھ ناجائز حرکتیں کرتے۔ جس کاوہ کوئی نوٹس نہ لیتی تھی۔ کیاکرتی مجبورتھی ۔ ایک روزایک کاروالا اس کے قریب آکررُکا اوراس سے مُرغا خریدنے لگا۔اسی دوران اس بزرگ نے پوچھا’’کیا گھرمیں کوئی دوسرا نہیں ہے،جوآپ کا یہ کام کرتا‘‘۔’’نہیں جناب گھرمیں صرف میری ماں ہے جوبہت بیمارہے۔ بسترسے اُٹھ نہیں پاتی ہے‘‘۔دراصل اس بزرگ نے کسی فوجی کواس لڑکی کی طرف ناشائستہ حرکت کرتے ہوئے دیکھاتھا۔
’’کتنادورہے آپ کاگھر‘‘اس بزرگ نے دریافت کیا۔’’بس یہ چڑھائی چڑھ کرپاس میں ہی ہے’’۔لڑکی بولی۔ ’’دیکھ بیٹی! میںڈاکٹرہوں ۔ میںتمہاری ماں کو دیکھ آتاہوں۔کل میرابیٹاوہ بھی ڈاکٹر ہے جموں سے سرینگرآرہاہے میںاس کے ہاتھ دوائیاں بھیجوںگا۔ان سے انشاء اللہ آپ کی ماں صحت یاب ہوجائے گی ۔ لڑکی خوش ہوگئی ۔اس ڈاکٹرنے بوڑھی ماںکا طبی معائینہ کیا۔اس کو تسلی دی اور دوسرے روز اپنے بیٹے کے ہاتھ دوائیاں بھیجنے کاوعدہ کیا۔
جب معمول کے مطابق لڑکی پھراسی جگہ کھڑی ہاتھ میں انڈے لے کر گاہکوں کاانتظارکررہی تھی ۔اسی اثنامیںایک نوجوان کارسے نیچے اُترا۔ لڑکی خوش ہوئی۔سوچا کہ شاید کار والے ڈاکٹر کابیٹا ہوگا۔اس نے جھٹ پوچھا۔ ’’تو ڈاگدرہے‘‘ ہاںمیں ڈاکٹرہوں۔وہاں ہے میری ماں ۔لڑکی نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے کوٹھے کی طرف اشارہ کیا۔’’آؤمیرے ساتھ‘‘۔یہ لڑکا کوئی ڈاکٹر نہیں تھابلکہ ایک وحشی جوان تھا۔اس نے کوٹھے کے پچھواڑے میں اس کامنہ بند کرکے اس کامنہ کالاکیا۔جاتے جاتے ایک سو روپے کا نوٹ اس کے آگے پھینکا اور تیزتیز قدموں سے نیچے اُترکرگاڑی میں بیٹھ کرنکل گیا۔
لڑکی بے ہوش نڈھال وہاں پڑی رہی ۔کافی دیربعداس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔وہ اسی کوڈاکٹرکابیٹا سمجھ بیٹھی ۔مگریہ کوئی اورہی بدمعاش تھا۔ اس نے پوری بات اپنی بیمارماں کوسنائی جسے سن کرماں بہت پریشان ہوئی ۔روتے روتے اس کابراحال ہوگیا۔ماں کی حالت دن بدن بگڑتی گئی۔اب اس نے کھانا پینا بھی چھوڑدیا۔اس کے بچنے کی کوئی امیدباقی نہ رہی ۔
اسی طرح دن ہفتے اورمہینے بیت گئے۔ماں کی صحت تیزی سے گرتی گئی۔ ایک دن لڑکی کوصبح سویرے سوکھی الٹیاں آنی شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ تین چار دن تک چلتارہا۔ماں کی خبرگیری کے لئے پاس والے گھرسے ایک اوربوڑھی دیکھنے آتی تھی جس کوسبھی ماسی ماسی بولتے تھے۔لڑکی کی حالت دیکھ کر ماسی لڑکی کورام بن ہسپتال لے گئی ۔جہاں ڈاکٹرانی نے معائینہ کے بعدکہاکہ تمہاری بیٹی کوبچہ تھامگربدقسمتی سے وہ پیٹ میں ہی مرگیاہے۔
اب ماسی سمجھ گئی کہ لڑکی کوکیوں اُلٹیاں آرہی تھیں ۔ادھرماں گھرمیں اکیلی ایڑیاں رگڑرہی تھی۔ اُدھرلڑکی کامردہ بچہ پیٹ چیرکر آپریشن کے ذریعے نکالنا پڑا۔جس ڈاکٹرلڑکے نے اس کی ماں کودیکھنے آناتھا۔ اس نے اپنی بیوی کوطلاق دی تھی۔ وہ بیوی بڑی مغرور ۔بدتمیز۔بداخلاق تھی ۔جس نے گھرکاسکون چھین لیاتھا۔
ایک روزوہی بزرگ ڈاکٹراس راستے گذرتے ہوئے وہاں رُکا۔ لڑکی کے جھونپڑے میں گیاکہ اس کی ماںکودیکھے گا۔مگرو ہ اکیلی لڑکی تھی اس کی ماں مرچکی تھی۔ اُس نے کہا ’’ڈاکٹرجی! اب میں سڑک پرانڈے بیچنے نہیں جاتی ہوں۔ اب جوماں مرگئی ہے‘‘۔’’ڈاکٹرنے اُسے بتایا چلومیرے ساتھ۔ ہمارے ہاں رہو۔ٹھیک ہے۔ میں ابھی ماسی سے صلاح کرتی ہوں۔‘‘
ماسی نے کہا۔’’تیری قسمت کھل گئی ہے۔جااللہ کے حوالے ۔تیری مصیبت کے دن ختم ہوگئے ‘‘۔معصوم لڑکی نے جواب دیا۔ماسی کے سامنے لڑکی کارمیں بیٹھ کرڈاکٹرصاحب کے ساتھ چلی گئی۔ ایک ڈیڑھ سال کے بعد لڑکی نے اپنے کام کاج ،اخلاق اوراُٹھنے بیٹھے کے طورطریقے سے ڈاکٹرکے گھروالوں کادل جیت لیا ۔ آخرکارڈاکٹرنے لڑکے اورلڑکی کے سامنے دونوں کی شادی کی تجویز رکھی۔ سبھوں نے ہاں کردی مگرلڑکی نے اندرہی اندراپنے دل میں کہاکہ اگرپہلی رات میر ے ہونے والے میاںنے پوچھاکہ یہ پیٹ پرکیسا نشان ہے کیونکہ وہ خود بھی ڈاکٹر ہے تو اُسے جھٹ معلوم ہوجائے گا۔اس وقت میں ان کوکیاجواب دوں گی ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں