افسانہ نگار۔۔۔فلک ریاض
نیت
“ہائے دی دی”۔۔۔فیس بک پہ انجان لڑکی کو پیغام بیجھا۔
“سلام بھیا” اس نے لکھا۔
اب ہر رات پیغامات۔لڑکے کی نیت بدلی۔بہن بول کر پچتا رہا تھا۔چالاکی سوجھی۔
“میری کوئی کزن سسٹر نہیں تم بن جاؤ؟۔۔۔۔
“ٹھیک ہے” وہ بولی۔۔۔
پھر لڑکے نے گھر رشتہ بیجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیمت
اس کی کزنس ڈاکٹر بن گئی۔
گھر میں سبھی ان کی تعریف کرتے۔اس نے کچھ کرنے کی ٹھانی۔پی ایچ ڈی کا سوچا۔قابلیت پہ یقین نہیں۔جوانی پر بھروسہ۔ایک سر سے ملاقات ہوئی۔پہچان بڑھتی گئی۔۔وہ کامیاب ہُوئی۔۔ مقصد میں۔۔۔۔۔۔لیکن اب وہ کنواری نہیں تھی۔۔۔۔
چور
ارشد قابل لڑکا۔انٹر ویوں اچھا گیا۔منسٹر کے بانجھے کو ایڑجیسٹ کرنا تھا۔لسٹ سے نام کاٹا گیا۔چار بہنیں ۔غربت سے تنگ أکر خودکشی کی۔چند سال بعد سوشل میڈیا پر ویڑیوں عام ہوا۔عورت دوکان سے کپڑا چرا رہی تھی۔لوگوں نے لعنت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشد کی ماں نکلی۔۔۔۔۔۔۔
حرام
میلہ میں ۔چاروں دوکانات لگاتے۔ کمرہ اکھٹا لیتے۔رات کو باتیں۔ پہلا۔۔ ” چھید والی ساڈھی ایک بڈُھیا کو بیجھی۔”
دوسرا۔۔”سوتی بول کر کاسٹک کا سوٹ دیا۔”
تیسرا۔۔۔۔”دو سؤ کا سوٹ دو ہزار میں لپکایا۔”
اکرم شرابی نے صبح کھانا پکایا۔شرابی کے ہاتھ کا حرام ہے۔۔توبہ توبہ۔۔۔۔
�����
افسانہ نگار۔۔۔۔۔۔فلک ریاض
حسینی کالونی۔۔۔چھترگام کشمیر۔۔۔
فون۔۔۔۔6005513109
