100

انجینئر رشید کا ہڑتالی ٹھیکیداروں کے پاس جاکر اظہار یکجہتی

سرینگر// عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے اپنے مطالبات کو لیکر ہڑتال پر بیٹھے ٹھیکیداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سرکار سے انکے بقایاجات کی فوری واگذاری اور دیگر جائز مطالبات کو پورا کئے جانے کی اپیل کی ہے۔وتستا ٹائمز کو موصولہ بیان کے مطابق انجینئر رشید نے پرتاپ پارک میں دھرنا پر بیٹھے ٹھیکیداروں کے پاس جاکر انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کے پاس بند پڑے 750کروڑ روپے کی فوری واگذاری سرکار کی قانونی ذمہ داری ہے جسے مزید تاخیر کئے بغیر پورا کردیا جانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کا حق بنتا ہے اور یہ اسکا اختیار بھی ہے کہ وہ مختلف محکموں کے کام کاج کو بہتر بنانے کیلئے وقت وقت پر ضروری اقدامات کرے تاہم ٹھیکیداروں کے جائز مطالبات کو پورا کئے بغیر انہیں اخلاقیات،شفافیت اور جوابدہی پر خطبے نہیں دئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکار بھلے ہی ای بلنگ اور اس طرح کے دیگر اقدامات کرے لیکن یہ سب ٹھیکیداروں اور دیگر متعلقین کو اعتماد میں لیکر ایک خوشگوار ماحول میں ہی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ وادیٔ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کی خدمات کی دستیابی تک سکیورٹی فورسز کے رحم و کرم پر رہتی ہے لہٰذا اس حوالے سے ٹھیکیداروں اور دیگر متعلقین کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ سرکار کوٹنڈرنگ کے نظام کو باضابطہ بنانے کیلئے اصلاحات کرنے کی دعویداری کرنے سے قبل ٹھیکیداروں کے،مختلف محکموں کے پاس، کل بقایاجات کی ادائیگی کرکے اخلاقی برتری حاصل کرنی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار گذشتہ دو سال سے مرکز سے اسی ہزار کروڑ کا پیکیج حاصل کرنے کی باتیں کرتی پھر رہی ہے تو پھر ٹھیکیدار یا عام لوگ یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہزمینی سطح پر ریاست میں مالی بحران کیوں ہے،ٹھیکیداروں کو انکی رقم وقت پر کیوں نہیں ملتی ہے اور رقومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کتنے ہی ترقیاتی منصوبوں پر کام ٹھپ کیوں ہے۔انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ریاست کی اقتصادیات میں بھرپور حصہ ادا کرنے والے ٹھیکیدارو ں کو فاقہ کشی کی نوبت پر پہنچنے کو مجبور کیا جارہا ہے تو دوسری جانب ہر بڑے منصوبے کو بیرونی ٹھیکیدار کمپنیوں کے سپرد کیا جارہا ہے یہاں تک کہ سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں مختلف کام کرنے والے مقامی لوگوں کو بھی یہاں سے بے دخل کئے جانے کی افواہیں گشت میں ہیں۔انجینئر رشید نے احتجاجی ٹھیکیداروں کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور دیگر متعلقین سے بات کی ہے اور انسے اس معاملے کو فوری طور حل کردئے جانے کیلئے کہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں