طالبان بھی بدل سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں 97

طالبان بھی بدل سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں

جموں وکشمیرمیں ٹارگٹ کلنگ خوف پھیلانے کی ایک کوشش:موہن بھاگوت
سری نگر:۱۵،اکتوبر//آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعہ کے روز کہاکہ ہم طالبان کی تاریخ جانتے ہیںتاہم طالبان بھی بدل سکتے ہیں لیکن پاکستان نہیں۔انہوںنے کشمیرمیں ٹارگٹ کلنگ کوخوف پھیلانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے خبردارکیاکہ سرحدوں پر فوجی تیاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔جے کے این ایس کے مطابق آرایس ایس کے صدرناگپورکے متصل ریشم باغ گراؤنڈ میں سالانہ وجیادشمی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ سرحدوں پر فوجی تیاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بٹ کوائنBitcoin اور او ٹی ٹیOTT پلیٹ فارم پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے کہا کہ وہ ان چیزوں کو منظم کرنے کیلئے کوششیں کرے۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ جنگجو خوف پھیلانے کیلئے جموں و کشمیر میں ٹارگٹ تشدد کا سہارا لے رہے ہیں۔وجے دشمی کے موقع پر موہن بھاگوت اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سال ہماری آزادی کا 75واں سال ہے۔ ہم 15 اگست 1947 کو آزاد ہوئے۔ ملک کو آگے بڑھانیکیلئے اس کا فارمولا اپنے ہاتھ میں لیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں یہ آزادی راتوں رات نہیں ملی۔ آزاد بھارت کی تصویر کیا ہونی چاہیے، بھارت کی روایت کے مطابق ملک کے تمام علاقوں سے تمام ذاتوں سے نکلنے والے ہیروز نے قربانیاں دیں۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں بٹوارے کا درد ملا۔ تقسیم کا غم ختم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہماری نسلوں کو تاریخ کے بارے میں جاننا چاہیے، تاکہ آنے والی نسل کو بتایا جاسکے کہ قربانی دینے والوں نے ملک کیلئے سب کچھ قربان کیا ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ ہم طالبان کی تاریخ جانتے ہیں۔ چین اور پاکستان آج بھی اس کی حمایت کرتا ہے۔ انہوںنے تاہم کہاکہ طالبان بدل سکتا ہے لیکن پاکستان نہیں۔موہن بھاگوت نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیا بھارت کو لیکر چین کے ارادے بدل گئے ہیں؟۔انہوںنے اسبات پرزوردیاکہ ہماری بارڈر سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔بھاگوت نے کہا کہ معاشرتی شعور اب بھی ذات پر مبنی جذبات سے دوچار ہے اور آر ایس ایس اس سے نمٹنے کیلئے کام کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں