102

گیلانی کے ملاقاتیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی مذمت

سرینگر/ / حریت کانفرنس کے ترجمان نے حریت چیرمین سید علی گیلانی کے ملاقاتیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت کانفرنس کے چیرمین جو گزشتہ سات برسوں سے اپنے ہی گھر میں مقید ہیں اور انہیں عیدین، جمعہ نماز ادا کرنے اور حتیٰ کہ تعزیت وعیادت کے لیے کہیں جانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ وہ معمر ہونے کے ساتھ ساتھ کئی امراض میں مبتلا ہیںاور ان کی عیادت وغیرہ کے لیے ان کے متعلقین اور متوسلین ان کے گھر آیا کرتے تھے، لیکن حکمران جماعت کی طرف سے مذید سخت پابندیاں عائد کئے جانے کے بعدان کے گھر پر تعینات پولیس عملہ حریت قائدین وکارکنان ودیگر متعلقین کو ان سے ملاقات کے لیے یہ کہہ کرروک رہے ہیںکہ ان سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ آج تحریک حریت کے صدر دفتر پر کام کرنے والے عملہ کو بھی ہراسان کیا گیا اور دفتر کے اندر جانے میں رُکاوٹیں عائد کردی گئیں۔ ترجمان نے حکمران جماعت سے سوال کرتے ہوئے پوچھاکہ ایک جانب آٹھ لاکھ فوجیوں کے بل پر یہاں اقتدار پر براجمان ہیں اور دوسری طرف ایک علیل اور بزرگ راہنما سے اتنا خائف ہیں کہ شاید وہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کے اقتدار کو ان سے زیادہ ہی خطرہ ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک علیل راہنما سے عیادت کرنے والوں کو نہ روکا جاتا۔ حریت ترجمان نے وزیر اعلیٰ کی اس حوالے سے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موصوفہ جب حزب اختلاف میں تھی تو بار بار گیلانی کی غیر قانونی، غیر جمہوری اور غیر انسانی نظر بندی کی شدید مخالفت کرتی تھی، مگر اقتدار کے ایوان پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی موصوفہ نے اپنے پیشرو عمر عبداللہ کے نقش قدم پر چل کر نہ صرف گیلانی صاحب کی گھر نظربندی کو مزید سخت کردیا، بلکہ ان سے ملنے والے ملاقاتیوں کے علاوہ ان کے دفتری عملہ کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ گیلانی کے دفتری ذمہ داروں کو بار بار گھروں اور تھانوں میں نظربند کرنے کا روز کا معمول بن چُکا ہے اور بیشتر اوقات انہیں دفتر کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور انہیں دروازے سے ہی واپس لوٹایا جاتاہے۔حریت ترجمان نے حکومت اور پولیس کے اس طرزِ عمل کو لاقانونیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں سے اس حوالے سے استفسار کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بالائی افسروں نے احکامات صادر کئے ہیں اور اس حوالے سے وہ کوئی قانونی دستاویز بھی پیش نہیں کرتے ہیںکہ یہ پابندیاں قانون کی کس شق اور دائرے کے تحت عملائی جارہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کشمیر میں سیاسی سطح پر مزاحمتی قیادت کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ کرتے ہوئے بھارت اور اس کے کٹھ پتلی ہر سطح پر طاقت سے کام لیتے ہیں، لیکن فطرت کا یہ اصول ہے کہ ڈنڈے اور بندوق کے بل پر لوگوں کے دلوں پر حکمرانی نہیں کی جاسکتی۔ ہر سطح پر بھارت طاقت کی زبان آزما کر پچھلے 70برسوں میں دیکھ چُکا ہے کہ وہ 6لاکھ لوگوں کو شہید اور لاکھوں کو قیدوبند کرکے اور طرح طرح کے مظالم ڈھا کر کشمیریوں کے دلوں سے جذبۂ حریت ختم نہیں کرسکا۔ ترجمان نے عالم انسانیت سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے بزرگ سیاسی قائد پر لگی ان بندشوں اور قدغنوں کا سنجیدہ نوٹس لیکر ان کی جان اور صحت کا تحفظ یقینی بنائے، کیونکہ جب عارضہ قلب میں مبتلا بزرگ کو گھر میں بھی کسی کو ملنے نہ دیا جائے گا تو اس کے لازمی مضر اثرات ان کی صحت پر پڑیں گے۔ اس لیے بجا طور کہا جاسکتا ہے کہ گھر میں بھی حریت چیرمین کو اگر قیدِ تنہائی گزارنے پر مجبور کیا جائے گا اس سے ان کی صحت کو خطرات لاحق ہوں گے اور اگر ان کی جان کو کوئی گزند پہنچی تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں اور یہاں ان کے حکمرانوں پر عائد ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں