بگلے بھگت 84

جانگلوس

کہانی کار۔۔۔خالد حسین

تعارف:۔
خالد حُسین ادبی دُنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں اُن کا شمار برِ صغیر کے معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے وہ چالیس سال سے زائد عرصہ سے پنجابی اور اُردو زبانوں کی آبیاری کر رہے ہیں اُنہوں نے بہ یک وقت ایک کامیاب افسانہ نگار اور ترجمہ کار ہونے کا ثبوت دیا ہے اُنہیں ایک نڈر اور بےباک کہانی کار ہونے کا اعزار بھی حاصل ہے، اس وقت تک اُن کے قلم سے سولہ تصانیف تخلیق ہو چُکی ہیں جس میں ترجمے بھی شامل ہیں، اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ادبی تنظیموں نے اُنہیں وقتاً فوقتاً اعزاز و اکرام سے نوازا ہے ۔۔۔ “جنت گرہن “اُن کا تازہ تر کہانیوں کا مجموعہ ہے، ندائے کشمیر خالد حُسین صاحب کی تخلیقات کو اپنے اخبار میں شامل کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے پیش ہے اُن کی “جنت گرہن “سے ایک کہانی ۔۔۔۔،

تیزہوا،موسلاداربارش،بادلوں کی گرج اوربجلی کی کڑک نے قیامت مچائی ہوئی تھی ۔اِسکے باوجود میں ویران جنگلوں میں صدیوں پُرانی اُن پگڈنڈیوں پرچل رہاتھا جومیرے سُسرال تک جاتی ہیں۔شہروں میں پُرانے راستے نئی کُشادہ سڑکوں میں تبدیل ہوچُکے ہیں لیکن دیہاتوں کی خستہ حالی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے ۔آج بھی اِن دیہاتوں میں ترقی نام کی کوئی چیزدِکھائی نہیں دیتی ۔ اِن پیدل پگڈنڈیوں سے میری پہلی مُلاقات تقریباً چارسال پہلے ہوئی تھی جب اِن دشوار گذار راستوں سے میری بارات گُذری تھی ۔آگے آگے ایک ڈھول والا، ایک بِین بجانے والااورایک لوہے کی گھنٹی بجانے والا اوردوناچنے والے بھانڈ۔بِین والاہمارے ڈُگردیش کے مشہور لوک گیتوں کی دُھنیں بجارہاتھااورڈھول کی تھاپ پرمیرے دوست ناچ رہے تھے اور گارہے تھے ۔
’’ہوماڑے گدیاّ ،اجیں دی راتیں رہو
چھِلڑو وی دینی آں،بکرُووی دینی آں
کھانے گی دینی آں گھئیو،
ہوماڑے گدیاّ ،اجیں دی راتیں رہو‘‘
میں ایک پڑھالِکھاگدّی بارات لے کرلاٹی گیاتھا۔میرے سُسرال والوں نے غریبی دعوے کے ساتھ بارات کی آئوبھگت کی تھی ۔چنے اورماش کی دال اوردیسی چاول پروسے گئے ۔سونے کیلئے گھاس اورپرال پرکمبل اورچادریں بچھاکردیں۔صُبحِ صادق ایک گدّن مُٹیارکے ساتھ میں نے اگنی کے گردسات پھیرے لئے اور پھراِنہی راہوں پرچلتے ہوئے ہم واپس اُدھمپور آگئے تھے۔اُن چارسالوں کے دوران میں کئی بارلاٹی گیاتھا بلکہ وہاں سے کبھی کبھاراپنے ننھیال سگاڑی بھی چلاجاتاتھا ۔اب اِن مُشکل راستوں سے میراگہرارِشتہ جُڑچُکاتھا۔اب یہ پگڈنڈیاں میرے لئے بیگانی نہیں تھیں۔
اب کی بارمیں موسمِ گرماکی چھُٹیوں میں اپنی پتنی کو لاٹی چھوڑآیاتھا تاکہ آگ اُگلتی گرمی سے کُچھ دیرکے لئے اُسے راحت مِل سکے اوروہ اپنی خالہ زادبہن کی شادی میں بھی شِرکت کرسکے ۔جب برسات کاموسم شروع ہوُا تومیں اپنی پتنی کوواپس گھرلے جانے کیلئے سُدھ مہادیوجانے والی بس میں سوارہوگیا ۔بشٹ اورگوری کُنڈ کے بیچ بس خراب ہوگئی ۔ڈرائیورنے مکینک کولانے کیلئے اپنے کنڈیکٹرکوچنہنی بھیجا۔مستری کے آنے پر ہی بس ٹھیک ہوئی،جس میں تین چارگھنٹے ضائع ہوگئے۔بس تقریباً دوبجے سُدھ مہادیو پہنچی۔میں نے وہاں ایک ڈھابے پرکھاناکھایا۔ڈھابے میں ایک سرکاری افسرملاجواپنی جیپ میں مان تلائی جارہاتھا ۔جب میں نے اُسے بتایاکہ میں لاٹی جارہاہوں تواُس نے مجھے مان تلائی تک لِفٹ دے دی۔وہاں سے میں نے بمُشکل سات آٹھ کلومیٹرپیدل سفرطے کیاہوگاکہ ایک دم جھکڑچلنے شروع ہوگئے ۔بادل گرجنے لگے اورپھربارش کے طوفان نے قیامت ڈھادی۔ بادلوں کی گرج اورآسمانی بجلی کے کوندنے سے دِل کانپ رہاتھا لیکن میں رُکانہیں ۔اپناسفرجاری رکھا۔میں چاہتاتھاکہ اندھیراہونے سے پہلے پہلے میں لاٹی پہنچ جائوں…. اپنے سُسرال …….. اپنی گدّن کے پاس، جِسے مائیکے گئے ہوئے ایک مہینہ ہوچُکاتھا اورجِسے ملنے کے لئے میرادِل بے قرارتھا۔میں راستے میں سستانے کے لئے کہیں نہیں رُکا اورچلتارہا۔بازُوپربندھی میری گھڑی چھ بجارہی تھی اورطوفانی بارش دِن کی روشنی کو تاریکی میں بدل رہی تھی ۔ماحول بہت خوفناک بنا ہوا تھا مگرمیراسفرجاری تھا۔ دیوداروں کے جھُنڈسے ڈھکالاٹی کاخوبصورت گائوں……. اُس پرمیرے سُسرکاکچاکوٹھا….. اورکوٹھے کے اندرمیری پیاری گدّن کِسی ٹوٹی پھُوٹی چارپائی پرمست نیندسوئی ہوئی ۔ یہ منظرمیری آنکھوں کے سامنے ناچ رہے تھے اورمیں ایک سارس، اُڑکراُس کے پاس پہنچناچاہتاتھا ،بنیک ،مروٹھی اورکوئیاکی پگڈنڈیاں میراساتھ چھوڑرہی تھیں ۔میں اکیلاجنگل بیابان میں چلتاجارہاتھا ۔مجھے لگتاکہ میں خودایک طوفان ہوں،ایک سیلاب ،ایک گرجتابادل، ایک کڑکتی بجلی….. گِرنے کوبیتاب ……. رات کی سیاہی پھیل چُکی تھی ۔ ہاتھ میں چیِڑکی لکڑی کے تراشوں کی گڈی جلائے ،میں چل رہاتھا تاکہ راستہ بھٹک نہ جائوں ۔ مجھےدُورپنگاراگائوں کے ایک گھرمیں دیا جلتا دِکھائی دیا۔ پنگارا…..ہاں ،یہی وہ گائوں تھاجہاں میرے ساتھ زندگی کاسب سے بڑاحادثہ پیش آیا اورجِس کے بارے میں پوری تفصیل…… بس میں ابھی بتاتاہُوں ۔اِس گائوں سے لاٹی اب بھی تقریباً چھ کلومیٹردُورتھا ۔بارش کامتواتر برسنا ،اندھیری رات اورتھکاوٹ کی وجہ سے میرالاٹی پہنچنابہت مُشکل تھا ۔اِس لئے میں اُس گھرکی طرف چل دیاجہاں دِیاجل رہاتھا۔میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’کُنڈی کھُلی ہے ۔دروازہ کھول کراندر آجائو‘‘۔ ایک آوازآئی۔میں نے دروازے کاپٹ کھولا اوراندرداخل ہوگیا۔ایک عورت اورمردچولہے کے پاس بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔
’’میں نے لاٹی جاناہے ۔باہرزوروں کامینہہ پڑ رہاہے ۔اندھیرے میں راستہ بالکل دِکھائی نہیں دے رہا۔کیامجھے رات گذارنے کے لئے پناہ مِلے گی۔‘‘۔
’’تُم کون ہو ؟‘‘___ ’’ایک اِنسان‘‘۔
’’وہ تومجھے بھی دِکھائی دے رہاہے ۔مگرتمہاری ذات کیاہے۔لاٹی میں تم نے کِس کے گھر جانا ہے ۔‘‘
’’میں گدیّوں کالڑکاہوں ۔لاٹی میں میری شادی ہوئی ہے ۔میرے سُسرکانام کِرپوہے ۔‘‘۔
’’اچھا،توتُم بھائی کِرپوکے دامادہو۔پھرتوتم ہمارے بھی داماد ہوئے۔ہمیں خوشی ہے کہ تُم ہمارے گھرمیں رات گذاررہے ہو۔‘‘۔
اُس نے انگیٹھی گرم کی اورکہا۔
’’آگ سینک لو۔باہرکڑاکے کی ٹھنڈ ہے ۔تمہارے کپڑے بھی گیلے ہیں ۔یہ کمبل اوڑھ لواوراپنے کپڑے سُکھالو‘‘۔
باتوں باتوں میں مجھے معلوم پڑاکہ یہ مُسلمانوں کاگھرہے ۔ اُنہوں نے مُجھے سرسوں کاساگ اور لسوڑے کے آچار کے ساتھ مکئی کی روٹی کھلائی اور پھرایک چھوٹے سے کچے کمرے میں سونے کیلئے بھیج دیا جہاں چارپائی پربستربِچھاہواتھا ۔ میں بہت لمباسفرکرکے آیاتھااورکافی تھکا ہوا تھا۔ بستر پرپڑتے ہی گہری نیندسوگیا ۔رات کے آخری پہر اچانک آنکھ کھُل گئی ۔کمرے میں گھُپ اندھیرا تھا ۔ بارش کا شورا بھی بھی سُنائی دے رہا تھا۔میں سرکے نیچے رکھے کوٹ میں سے ماچس کی ڈبیہ نکالنے لگامگروہ خالی تھی۔میں پہلوبدل کرسونے کی کوشش کرنے لگا۔اچانک کمرے کی کھڑکی کھُلنے کی آوازآئی۔میں اُٹھ کربیٹھ گیا۔ایک لمباسایہ مجھے دیکھ رہاتھا۔میں سمجھاکہ وہ کوئی چور ہے اورسونے کاہار چُرانے آیاہے جومیں ماں سے چوری اپنی گدّن کیلئے لایاتھا ۔میں اُسے پکڑنے کیلئے بسترسے نِکلنے ہی لگاتھاکہ اُسکی رُعب دارآوازسُنائی دی ۔
’’مُجھے چھُونے کی غلطی نہ کرنا ۔میں چورنہیں ہوں ۔ میری آوازایک مرے ہوئے مظلوم کی آواز ہے ۔میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتاہوں۔‘‘ __ یہ سُنتے ہی میرادِل زورزورسے دھڑکنے لگا۔ ماتھے پرپسینے کی بوندیں اُبھرآئیں۔کپکپاہٹ سے میرے پسینے چھُوٹ گئے ۔مجھے لگاجیسے میں ایک سپنا دیکھ رہاہوں ۔لیکن وہ خواب نہیں ،حقیقت تھی ۔میری آنکھوں کے سامنے ایک انسانی رُوح کی پرچھائیں تھی جومجھ سے مخاطب تھی ۔
’’میں تمہیں صرف اپنی کہانی سُنانی چاہتاہوں ۔تُم ہوش میں آئو۔ڈرومت ۔میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔اِس لئے غورسے میری بات سُنو۔میں بندھول کارہنے والاتھا۔میرانام عبدالغنی تھالیکن مجھے سبھی غنیابُلاتے تھے ۔میں ایک غریب کسان تھا ۔میرے پاس چند کنال زمین تھی جِس سے گھرکاگُذارا نہیں چلتاتھا اورمجھے گھرہستی چلانے کے لئے گھرسے باہر مزدوری کرنے جاناپڑتا۔میں جنگلوں میں لکڑی چِیرنے کاکام کرتاتھا۔گھرسے میری لمبی لمبی غیرحاضری ہی میری موت کاسبب بنی ۔جس عورت نے تمہیں کھاناپروساتھا۔وہ پہلے میری بیوی تھی ،جواِس مردکے پریم جال میں پھس کرمیرے گھرسے بھاگ گئی اوریہاں اِس مردُودکے ساتھ رہ رہی ہے۔میں جب جنگل چرائی سے گھرواپس آیا تو میری ماں نے مجھے اپنی بیوی کی بے حیائی کے بارے میں بتایا۔
’’بیٹا! میری شادی سے پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گائوں کے ایک دُکاندار دینُوکی بیوی کسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی ۔دِینوکی غیرت نے جوش مارااوراُس نے دونوں کوگولیوں سے بھُون ڈالااورخود پولیس تھانے میں پیش ہوگیا ۔میں بھی تمہیں تب تک اپنادُودھ نہیں بخشوں گی جب تک تم اپنے اجدادکی چادرپرلگا بدنامی کاداغ دھونہ ڈالو۔‘‘۔
میری آنکھوں میں خُون اُترآیا۔بدلے کی آگ کے شعلے میرے تن بدن میں اُٹھنے لگے۔میں نے اپنی دیسی بندوق میں بارُود بھرا اوردونوں کوجان سے مارنے کیلئے گھرسے چل پڑا۔علیے کومیں نے اُسکے گھرمیں للکارا اوربندوق کاگھوڑادبادیامگراِنکی قِسمت اچھی تھی اورمیری خراب کیونکہ بندوق چلی ہی نہیں۔علیامُجھ پرجھپٹ پڑا۔ہم دونوں گُتھم گُتھاہوگئے۔پھراِس بدذات عورت حمیدہ نے میرے سرپرکلہاڑی سے تین چاروارکئے اورمیں خُون میں لت پت زمین پر گِرپڑااورمرگیا۔اِن دونوں نے میری لاش کوٹھکانے لگانے کامنصوبہ بنایا۔علیے نے پہلے میرے بازوکاٹے ۔پھرمیراسردھڑسے الگ کردیا ۔میرے چہرے کومسخ کردیاتاکہ میری شناخت مِٹ سکے ۔پھرمیری ٹانگوں کے ٹکڑے کئے ۔میرے بازو’’چھپڑی والے تالاب ‘‘ میں پھینک دیئے ۔ٹانگیں اورجسم کے دیگراجزا جنگل میں ایک دیودارکے درخت کے پاس گھڑاکھودکراُس میں دبادیئے ۔اِس بات کودس مہینے گُذرچُکے ہیں۔میری بوڑھی ماں بہت روئی ۔اُس نے حاکموں کے آگے دادفریاد کی لیکن ثبوت نہ مِلنے کے کارن علیے اورحمیدہ کاکُچھ نہیں بِگڑا ۔میری رُوح بھٹک رہی ہے ۔میری رُوح بے چین ہے ۔میں بدلہ لیناچاہتاہوں ۔کیاتم میری مددکروگے ؟‘‘۔
’’پر تُم اپنے قتل کابدلہ کیسے لے سکتے ہو۔‘‘۔میں نے اپناآپ سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہاری مددسے ۔‘‘۔’’وہ کیسے ؟‘‘۔
’’اگرتم پولیس تھانے میں جاکرمیرے قتل کی حقیقت بتائو اورجائے وقوع پرلے جائو تومیرے بتائے ہوئے دیگرمقامات پراُنھیں میرے جِسم کے سارے انگ مِل جائیں گے۔پھرقاتلوں پرمقدمہ چلے گا۔سارے ثبوتوں کی بُنیادپر اِن دونوں ظالم خبیثوں کوسزاملے گی اورمیری رُوح کوسکُون ۔بتائو،کیاتم میرایہ کام کروگے ؟ جُرم ثابت کرنے اورحق وانصاف کوزندہ رکھنے کے لئے میراساتھ دوگے؟ ۔اِن قاتلوں کوقانون کے شکنجے میں جکڑوگے؟ ۔وہ بڑی بے چینی اوراضطرابی کیفیت میں بولا۔
’’ہاں میں اقرارکرتاہوں کہ تمہارے قاتلوں کوپھانسی کے پھندے تک لے جائوں گا اورتمہیں انصاف دِلائوں گا۔میں ضروراپناوعدہ پوراکروں گا۔‘‘۔
میری بات سُن کر وہ سایہ غائب ہوگیا۔پھرنہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی ۔صبح جب میں اُٹھاتو سورج کی کرنیں مجھے نہلارہی تھیں ۔رات کاحادثہ ایک خواب بن کرمیری آنکھوں کے سامنے گردش کررہاتھا۔میں وہاں سے فوراً بھاگ جاناچاہتاتھالیکن اُنہوں نے مجھے نہاری کئے بغیرجانے نہیں دیا۔ دیسی گھی میں گُندھی مکئی کی روٹی کی چُوری کے ساتھ نمکین چائے پینے کے بعدمیں وہاں سے چل پڑا اوردوگھنٹوں کی مسافت کے بعد لاٹی پہنچ گیا۔دوپہرکاکھاناکھاکر میں ’’تتے پانی ‘‘کی طرف نِکل گیا اورلوہے کے اُس پہاڑکودیکھتارہاجہاں سے نِکلنے والے پانی میں لوہے کاذائقہ ملتاہے ۔میرادِل وہاں نہیں لگا ۔ایک عجیب سی بے قراری مجھ پرسوارتھی ۔اِس لئے میں واپس آگیا۔
’’باپُو! کیابندھول میں کوئی عبدالغنی یاغنیئے نام کاآدمی رہتاہے ؟‘‘میں نے اپنے سُسرسے پوچھا ___ ’’ہاں رہتاہے لیکن اُسے گھرسے غائب ہوئے تقریباً دس مہینے ہوگئے ہیں ۔‘‘
’’کیااُس کوکِسی نے قتل کردیاہے؟‘‘۔
’’بیٹا! ہمیں نہیں معلوم ،لیکن غنیے کی ماں کاکہناہے کہ اُسے پنگارا والے علیے نے مارڈالا ہے ۔اُس نے بہت شورمچایا ۔روتی پیٹتی رہی۔بین کرتی رہی اوراپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کاالزام علیے پرلگاتی رہی۔پولیس نے علیے کوگرفتارکیاتھا لیکن ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اُسے چھوڑدیاگیاتھا۔‘‘ ___ میرے من کابوجھ ہلکاہوگیا۔کل رات کاحادثہ ایک حقیقت بن کرمیرے پیش گاہ تھا __ میں نے اپنی پتنی کواپنے سالے کے ہمراہ اُدھمپوربھیج دیا اورخودایک نئے سفرپرچل پڑا۔پورے دِن کی مسافت کے بعدمیں پولیس تھانہ بسنت گڈھ پہنچاتھا۔
’’آج سے تقریباً دس ماہ پہلے موضع پنگارا میں ایک قتل ہواتھا ۔مقتول کانام عبدالغنی عُرف غنیاتھا اورقاتلوں کانام علیہ اور حمیدہ ہے ۔میں اِس قتل کاگواہ ہوں ۔ میں قاتلوں کوجانتااورپہچانتاہوں اورمقتول کی لاش کے اجزاکی برآمدگی میں آپکی مددکرسکتاہوں۔‘‘
پولیس نے میرا بیان قلمبندکیا ۔ایک سب انسپکٹراورپانچ سپاہی میرے ساتھ بھیجے۔میری نشاندہی پرپولیس نے غنیے کی لاش کے باقیات یعنی بازواورٹانگوں کی ہڈیاں اورسرکی کھوپڑی ،برآمدکرلئے ۔علیے اورحمیدہ کوگرفتارکرلیاگیا۔
قاری اب سمجھیں گے کہ مجرموں پرمقدمہ چلے گا۔جج اُنھیں عُمرقیدیاپھانسی کی سزاسُنائے گا،اوریوں اِس واردات کی کہانی اختتام پذیرہوجائے گی ۔لیکن ایساکُچھ نہیں ہوا ۔اِس قصّے کاانجام یوں روائتی ڈھنگ سے نہیں ہوابلکہ اِس واردات نے ایک نیاموڑلے لیا___ غنیے کی لاش کے حِصوں کی برآمدگی اورمیری گواہی کی بُنیاد پرعلیے اورحمیدہ پرمقدمہ چلا ،بلکہ دوسال تک میں مقدمے کی پیروی کرتارہا۔ عدالت میں قتل کے سارے ثبوت پیش کئے گئے۔میں نے عدالت میں علیے کے گھرمیں پیش آیا اُس رات کاواقع بھی بیان کیا،لیکن عدالت کومیری بات کایقین نہیں آیا۔جج صاحب اُس بات چیت کا ثبوت مانگنے لگے جوغنیے کی پرچھائیں اورمیرے درمیان ہوئی تھی اورجِس کی بُنیادپراُسکی لاش برآمدکی گئی تھی___ لیکن میں اُس گفتگوکاثبوت کہاں سے لاتا۔اُلٹاقانون کے محافظ مُجھے ہی پھنسانے لگے۔پرماتماکاشُکر ہے کہ لاٹی آنے سے دودِن پہلے تک میری حاضری دفترمیں درج تھی ۔اِس کے علاوہ سارے گائوں والوں نے میرے حق میں گواہی دی تھی ۔اِس بیچ جج اورپولیس کارویہ میرے ساتھ نامناسب رہا۔آخرجج صاحب نے فیصلہ سُنادیا۔
’’ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق یہ سچ ہے کہ اِس کیس میں کھوپڑی،ہڈیاں اوردیگرباقیات ایک انسان کے ہیں لیکن پولیس کے چالان اورگواہوں کے بیانات سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ یہ انسانی اجزا عبدالغنی عرف غنٰیہ ولدعبدالکریم نائیک ساکنہ بندھول،تحصیل رام نگر ،کے ہیں۔جِسے شایدکسی وحشی جنگلی جانورنے چِیرپھاڑ دیاہو۔اِس کیس میں کوئی چشم دیدگواہ بھی پیش نہیں ہواجویہ ثابت کرتاکہ غنیے کاقتل علیے اورحمیدہ نے کیاہے۔لہذا عدالت علیے اورحمیدہ کوباعزت بری کرتی ہے ۔‘‘۔
اب ایک مُدت ہوگئی ہے مجھے لاٹی گئے ہوئے ۔میری پتنی مجھے لاٹی جانے کے لئے اکثرکہتی رہتی ہے لیکن میں تواُدھمپورسے ہی اپناتبادلہ کروانے کی سوچ رہاہوں ۔آپ توسمجھ ہی گئے ہوں گے کہ کیوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں